Published From Aurangabad & Buldhana

پی ایم مو دی ملک اور معیشت کے تئیں سنجیدہ نہیں:کانگریس

ملک کی بدتر معیشت کو لے کر کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر آنند شرما نے پریس کانفرنس کر کے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ معاشی بحران کے لیے مودی حکومت ذمہ دارہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مودی حکومت کو پتہ ہی نہیں کہ معیشت کو کس طرح چلانا چاہیے۔ حکومت کی غلطی کی وجہ سے ہی آج ہندوستانی معیشت کا یہ حال ہوا ہے۔‘‘


کانگریس لیڈر آنند شرما نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم مودی اور وزیر مالیات نرملا سیتارمن ملک و معیشت کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کے گزشتہ چار مہینوں کی کارکردگی کو دیکھنے کے بعد یہی لگتا ہے کہ پی ایم اور وزیر مالیات ملک و معیشت کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ملک میں 35 لاکھ ملازمتیں صرف آٹو موبائل سیکٹر میں ختم ہوئی ہیں اور حالات لگاتار خراب ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

آنند شرما نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی معیشت کا آج جو حال ہے ویسا آزادی کے بعد پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سات سال میں سب سے بڑی گراوٹ ہمارے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں دیکھنے کو ملی ہے۔ فکر انگیز امر یہ ہے کہ سرمایہ کاری ختم ہو رہی ہے اور پونجی پر مبنی چیزوں میں 21 فیصد گراوٹ آئی ہے۔

کانگریس لیڈر نے اپنی بات میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ٹیکسٹائل سیکٹر میں مل بند ہو رہی ہے۔ ہتھ کرگھا کا مشہور پانی پت سنٹر تقریباً بند ہو گیا ہے، چمڑا صنعت بحران میں ہے۔ حکومت کے پاس خزانے کی زبردست کمی ہے۔ ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے تقریباً 24 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ اندازہ رکھا تھا، جو 18 فیصد سے اوپر ہے۔ یہ پہلے 5 مہینے میں 7 فیصد بھی نہیں ہوا۔ ہندوستان کی حکومت کا جی ایس ٹی ریفنڈ، ایکسپورٹ ریفنڈ اور پی ایس یو کے بغیر ادائیگی والے بل کا اعداد و شمار تقریباً دس لاکھ کروڑ ہے۔ اگر اس کو جوڑ لیا جائے تو سرکاری خسارہ 3.3 فیصد نہ ہو کر 8 فیصد سے اوپر ہوگا۔‘‘

اس دوران انھوں نے مودی حکومت کے ذریعہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو نشانہ بنانے کا بھی الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ حکومت بدلے کے جذبہ سے کام کر رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جو بھی پارٹیاں ان کی مخالفت کر رہی ہے ان پر دباؤ بنانے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ٹی ایم سی، ٹی ڈی پی، کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیڈران جو ان کی مخالفت کر رہے ہیں اس لیے انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!