Published From Aurangabad & Buldhana

’پیٹرول کے دام کم ہوئے یا نہیں ہوئے، ڈیزل کے دام کم ہوئے یا نہیں ہوئے‘: مودی

پیٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنا تو حکومت کے ہاتھ میں ہے: سشماء سوراج

مجتبیٰ منیب

اورنگ آباد: خوش نہ ہوئیے، یہ جملے وزیر اعظم کی جانب سے ابھی نہیں کہے گئے ہیں بلکہ انہوں نے یہ جملے دہلی کے اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی ریلی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہے تھے۔ انہیں جملوں کر انہوں نے دہلی کی عوام سے ووٹ مانگا تھا۔ آج عوام چاہتی ہے کہ مودی ان سے پھر یہی سوال کرے۔ 2014سے قبل پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں جب بڑھتی تھیں تو یہی وہ وزیر اعظم اور سشما سوراج و دیگر بی جے پی کے لیڈران تھے جو آج حکومت میں بیٹھے ہیں وہ یو پی سے سرکار پر تنقید کی بوچھار کردیتے تھے اور انکا کہنا یہ ہوتا تھا کہ تیل کی بڑھتی قیمتیوں پر روک لگانا یا کم کرنا تو مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔

مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد جب عالمی بازار میں تیل کی قیمت میں خود بہ خود کمی آئی تھی تو مودی جی نے عوام سے کہا تھا کہ عوام کو تو قسمت والا وزیر اعظم ملا ہے کہ جس کے آنے سے تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں۔لیکن دھیرے دھیرے اب جبکہ تیل کی قیمتوں میں ہر دن اضافہ ہورہا ہے تو یہی مودی حکومت بہانے بنا رہی ہے شروع میں کہا کہ و ٹیکس کے ذریعہ پیسہ جمع کر کسانوں کو اسکیموں میں دے رہی ہے پھر کہا کہ آگے بڑھنے والی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے پیسہ جمع کررہی ہے۔وزیر معاشیات ارون جیٹلی نے ریاستی حکومتوں پر الزام ڈال دیا تھا کہ وہ لوگ قیمتیں کم نہیں کررہے ہیں اور جیٹلی نے تو کہا تھا کہ انکے پاس فہرست ہے ان ریاستی حکومتوں کی جو زیادہ ٹیکس وصول کررہی ہیں۔ آج ملک کی 20ریاستوں میں بی جے پی کی سرکار ہے ،وہ چاہے تو اسی جملے کی بنیاد پر کم از کم 20ریاستوں کی عوام کو تو راحت پہنچا سکتی ہے۔ UPAکی حکومت کے مقابلہ میں عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں بہت کمی آئی ہے لیکن مرکزی حکومت نے ٹیکس کو میں کئی گناہ اضافہ کررکھا ہے۔

ہم اگر ڈیزل کے عنوان سے تقابل کریں تو 16؍ ستمبر 2013 کو عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمت ایک بیرل کی109.47ڈالر تھی جبکہ اسی ایک بیرل کچے تیل کی قیمت 03؍ستمبر2018کو 76.18ڈالر تھی یعنی کچھ 69.58فیصد کمی آئی ہے۔لیکن اس کے مقابلے میں مرکزی حکومت کا اس وقت جو ٹیکس تھا3.56روپئے فی لیٹر تھا جو کہ آج مودی حکومت میں بڑھ کر 15.33روپئے فی لیٹر ہوگیا ہے اس طرح مرکزی حکومت نے اپنا ٹیکس تقریباً 331فیصد بڑھایا ہے۔ کانگریس کے دور میں ریاستی ٹیکس 6.09روپئے فی لیٹر تھا جو اب مودی سرکار میں بڑھ کر 10.46روپئے فی لیٹر ہوگیا ہے یعنی اس میں بھی 71فیصد کی بڑھت کی گئی ہے۔2013میں ڈیلر کو یہی ڈیزل 41.80 روپئے میں ملتا تھا جبکہ آج یہی ڈیزل 42.85روپئے میں مل رہا ہے جس میں مود ی حکومت نے صرف 4فیصد کا اضافہ کیا ہے۔2013میں ڈیلر کا کمیشن 1.09روپئے ہوتا تھا جو 3ستمبر 2018کو 2.51روپئے درج کیا گیا تھا یعنی اس میں بھی حکومت نے 130فیصد کی بڑھت کی ہے۔ اوران سبھی لوٹ کی وجہ سے عام لوگوں کو جہاں2013میں جو ڈیزل 52.54روپئے میں ملتا تھاجو 67روپئے کے پار چلا گیا تھا۔ آج کی تاریخ میں کچے تیل کی قیمت 68.72ڈالر ہیں لیکن مہاراشٹر میں ڈیزل کی قیمت77روپئے کے پار چلی گئی ہے۔ پیٹرول کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ منموہن سرکار کے وقت 2013میں جس پیٹرول کی قیمت عالمی بازار میں 111ڈالر فی بیرل تھی اس وقت عوام کو 76.10روپئے میں پیٹرول ملتا تھاوہی پیٹرول آج 91روپئے کے پار چلا گیا ہے جبکہ کچے تیل کی قیمت 68.72ڈالر ہے۔ اس وقت مرکزی حکومت جتنا ٹیکس وصولتی تھی اس میں بھی حکومت نے 105فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ مرکزی حکومت کو ان چار سالوں میں تقریباً12لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کا فائدہ ہوا ہے۔آج کے دور میں صرف عوام پریشان ہے لیکن تیل کمپنیاں انتہائی منافع کی حالت میں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!