Published From Aurangabad & Buldhana

پُرامن ہوگا ’بھارت بند ‘، 21 پارٹیاں شامل: کانگریس

کانگریس کے ’بھارت بند‘ میں حزب اختلاف کی 21 جماعتیں شامل ہو رہی ہیں بائیں بازو کی جماعتیں، ڈی ایم کے اور ایم این ایس کانگریس کے بھارت بند کو حمایت دینے کا اعلان کرچکی ہیں۔

ملک کے عوام تیل کی ہر روز بڑھتی ریکارڈ توڑ قیمتوں سے بری طرح متاثرہ ہیں اور لوگوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔ ادھر روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلہ لگاتار گرتی جا رہی ہے اور ہندوستانی کرنسی تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عوام کے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے ارادے سے کانگریس نے کل پیر کے روز یعنی کہ 10 ستمبر کو ’بھارت بند ‘بلایا ہے۔

کانگریس کے مطابق حزب اختلاف کی 21 جماعتیں بند کو حمایت دے رہی ہیں اور بند پوری طرح سے پُر امن رہے گا۔بھارت بند سے قبل دہلی پردیش کانگریس کے صدر اجے ماکن نے کہا کہ 21 پارٹیاں بند میں شامل ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں ، ڈی ایم کے اور ایم این ایس کانگریس کے بھارت بند کو حمایت دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔اجے ماکن نے کہا کہ بند میں کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں ہوگا ، انہوں نے تاجر طبقہ سے بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

مودی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے اجے ماکن نے کہا ، ’’چار سال میں پٹرول پر 211.7 فیصد اور ڈیزل پر 443 فیصد کی ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ مئی 2014 میں پٹرول پر 9.2 روپے کی ایکسائز ڈیوٹی لگتی تھی جو اب بڑھ کر 19.48 روپے ہو گئی ہے۔

اسی طرح ڈیزل پر 3.46 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگتی تھی لیکن آج 15.33 روپے کی ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے۔ ‘‘اجے ماکن نے کہا کہ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پٹرول کو بھی جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جائے۔ اس کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15-18 روپے کم ہو جائیں گی اور دیگر اشیا کی قیمتیں خود بخود گر جائیں گی۔ اجے ماکن نے کہا، ’’حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی کی بدولت گزشتہ 4 سال میں 11 لاکھ کروڑ کی کمائی کی ہے۔‘‘

ڈالر کے مقابلہ روپے کی لگاتار گرتی قدر پر بھی اجے ماکن نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ’’پہلے جب روپے 60 تک پہنچتا تھا تو مودی کہتے تھے کہ روپیہ آئی سی یو میں چلا گیا ہے، آج کے حالات پر وہ کیا کہیں گے!‘‘ اجے ماکن نے کہا کہ بی جے پی نے عوام سے کھوکھلے وعدے کئے۔

عوام کا مسئلہ بے روزگاری، بدعنوانی اور مہنگائی ہے اور اگر ان پر جواب نہیں دیا گیا تو عوام 2019 میں جواب دے گی۔بی جے پی کے صدر امت شاہ کے میکنگ انڈیا اور بریکنگ انڈیا والے بیان پر حملہ بولتے ہوئے ماکن نے کہا کہ اگر میک ان انڈیا حکومت کا ایجنڈہ تھا تو پھر رافیل ڈیل کے مطابق جو 108 جہاز ہندوستانی کمپنی ایچ اے ایل کو بنانے تھے انہیں کسی اور سے بنانے کو کیوں کہا گیا!۔

واضح رہے کہ ہفتہ کے روز بی جے پی کی دو روزہ مجلس عاملہ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی میکنگ انڈیا (ہندوستان کی تعمیر) میں لگی ہے جبکہ کانگریس بریکنگ انڈیا (ہندوستان کو توڑنے) میں مصروف ہے۔

مہنگائی کے خلاف کانگریک کی جانب سے کل بلائے گئے ’بھارت بند‘ میں شامل ہونے والی سیاسی جماعتیں:

1۔ ایس پی2۔ بی ایس پی3۔ این سی پی4۔ ٹی ایم سی5۔ آر ایل ڈی6۔ آر جے ڈی7۔ سی پی آئی8۔ سی پی ایم9۔ اے آئی یو ڈی ایف10۔ این سی11۔ جے ایم ایم12۔ جے وی ایم13۔ ڈی ایم کے14۔ عآپ15۔ ٹی ڈی پی16۔ کیرالہ کانگریس (ایم)17۔ آر ایس پی18۔ آئی یو ایم ایل19۔ لوکتانترک جنتا دل20۔ سوابھیمان پکشا (آر شیٹی)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!