Published From Aurangabad & Buldhana

پونے : یتیم خانہ میں جنسی استحصال کے الزام میں مولوی گرفتار، آزاد کرائے گئے 36 بچے

مہاراشٹرا کے پونے مین پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مسلم یتیم خانہ سے 36 بچوں کو آزاد کرایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پولیس نے ایک مولوی بھی کو حراست میں لیا ہے۔ الزام ہے کہ یتیم خانہ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جارہی تھی ۔ یتیم خانہ میں زیادہ تر بچے بہار کے ہیں ، ایسے میں بچوں کی اسمگلنگ کا بھی شک ہے۔ سبھی کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد شواجی نگر اصلاح گھر بیچ دیا گیا ہے ۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ کچھ اور بھی بچے پہلے آشرم سے بھاگے ہوں۔ واضح ہو یتیم خانہ میں مدرسہ کی طرح ہی مذہبی تعلیم دی جاتی تھی ۔ یہ معاملہ پونے کے کونڈوا تھانہ علاقہ کا ہے۔ یہاں جمعیت الخیریہ الاسلامیہ ایجوکیشن کے ذریعہ چلائے چا رہے یتیم خانہ پر پولیس نے ہفتہ کے روز چھاپہ مار کر 36 بچوں کو آزاد کرایا ۔

دراصل یتیم خانہ میں استحصال سے پریشان ہو کر دو بچے بھاگ کر پونے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے تھے ، جہاں ایک این جی او کے کارکنان کی نظر ان پر پڑی، جس کے بعد دونوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بچوں نے پہلے تو واضح طور پر کچھ نہیں بتایا۔ لیکن انہیں یقین دلا کر پوچھ گچھ کی گئی تو بچوں نے آشرم میں جنسی استحصال کا انکشاف کیا۔ اس کے بعد پورا معاملہ مقامی پولیس کے پاس پہنچا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!