Published From Aurangabad & Buldhana

پروفیسر!!!

صدیقی صائم الدین
پی۔ایچ ۔ ڈی سکالر ، شعبہ اردو ، ڈاکٹر باموں یونیورسٹی ، اورنگ آباد، مہاراشٹر
جونا بازار، ہیڈ پوسٹ آفس، اورنگ آباد
Cont: -08623903034
mail : [email protected]

اُف یہ لفظ پروفیسر!! یا خدا۔۔۔آخر یہ کیا مسئلہ ہے جو میری نازک سی ذات سے چپک کر رہ گیا ہے۔میں یونیورسٹی اس لئے تو نہیں آیا تھا کہ اس خطرناک مسئلہ میں الجھ جاؤں۔آخر یہ سب شروع کیسے ہوا۔۔۔۔۔؟بس آپ حضرات کو کیا بتاؤں۔اسکول اور کالج کے زمانے میں سنا کرتے تھے کہ ہر استاذ یا تو ڈاکٹر ہوا کرتا ہے یا پروفیسر۔۔۔۔اور جو Ph.Dہو جائے اس کا بڑا عہدہ ہوتا ہے۔۔۔ لو جی بس اسی کم علم نے ہمیں ڈبو دیا۔
میری زندگی میں اس لفظ’’پروفیسر‘‘کا مسئلہ اس دن شروع ہوا جب میں نے شعبۂ کی Ph.D طالبہ کو اسکا مقالہ مکمل ہونے پر اپنے اساتذ ہ کے سامنے مبارکباد دے ڈالی اور وہ بھی کن الفاظ میں۔۔۔۔۔۔سماعت کیجئے
’’مبارک ہو باجی آج سے آپ بھی پروفیسر ہو گئیں‘‘ ۔
جی ہاں۔۔۔۔۔ میں نے انھیں پرفیسر کہکر بھری مجلس میں پکارا۔۔۔۔۔۔
جناب کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔ گیدڑ تھا۔۔۔۔ شہر چلا آیا۔۔۔۔گیدڑ بھی کیسا۔۔۔۔۔ جس کی دم ۔۔۔شعبۂ کے صدر ۔۔۔۔ اور پیر۔۔۔۔اساتذہ کی نظر تھے۔
پتہ نہیں یہ مذاق مجھے کیوں سوجھا تھا شاید اس خاتون سے خاندانی تعلق کی بنیاد پر۔ وہ مسکرائی کم اور سٹپٹائی زیادہ۔۔۔۔ شاید اُسے لگا کہ میں نے اُس کی عمر درازی پر طنز کر دیا ہے۔
عقل سے پیدل تھے ہم ، وبال جان تھے
خود کی دنیا میں ہی خود سے پریشان تھے
وہ بیچاری دوسروں کی مبارکباد حاصل کرنے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ جی۔۔۔میں۔۔۔اجی ہاں ۔۔۔میں ۔۔ میں بے چارہ پھنس گیا
۔کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہ پوچھو
اے کاش مرے سر پر سایہ سا آجاتا
مقدر کایہ بندر ،مجھے یوں الٹا نہ لٹکاتا
بتاتا ہو ں۔۔۔بتاتا ہوں۔۔۔۔بات یہ ہوئی تھی کہ میں نے اُس خاتون کو جب ببانگ دہل پروفیسر کہا تو ہمارے صدرشعبہ اور انکی چہیتی لیکچرر جن کا ایم۔فِل اور پی۔ایچ ۔ڈی ،صدر محترم کی نگرانی میں ہی مکمل ہوا تھااس بات کو سنتے ہی ایک دم بھڑک اُٹھے ۔میں حیرانی سے صدرمحترم اور شعبۂ کے دیگر ماہرین تعلیم کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
حیراں تھا،دل کو روؤں کہ پیٹو جگر کو میں
ہوتے گر پیسے ، رکھتا نوحہ گر کو میں
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک یہ حضرات مجھ پر کیوں بھڑک اُٹھے ہیں۔صدر صاحب اپنی اسیسٹنٹ ٹیچر کو اشارہ کرتے، سمینار ہال سے لمبے ڈگ بھرتے اپنے عیش گاہ میں چلتے بنے ۔اس عالم ہو سے گذرتے ہوئے میں اپنے رفقاء کو نا فہمی کے سنگ سوالیہ انداز سے تکنے لگا۔۔ ۔۔۔ آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟
لیکن وہ بیچارے مجھ مظلوم کو اس نگاہ سے دیکھ رہے تھے مانوں میں نے دنیا کا عظیم ترین گناہ کر بیٹھا ہوں ۔ ابھی ٹھیک سے سنبھلنے بھی نہیں پایا تھاکہ محترم جاں بلکہ جانِ جاں و جہاں نے مجھے سامنے کھڑے ہوکر گھورنا شروع کر دیا ۔ان کی اس حرکت پر میرے رہے سہے اوسان بھی قطع ہونے لگے ڈر و گھبراہٹ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔ بس اپنا سوکھا طارق لئے انھیں دیکھتا رہا۔انکی جبھتی نگاہیں مانوں مجھ عاجز کو پگھلائے دے رہی تھی۔
مانند شب فراخ میں رویا تھا اس قدر
جیسے ہو بھینسا کوئی، لب کیچڑ کمر کمر
میں نے لب کشائی کرنی چاہی پر حلق سے سوائے۔۔۔۔۔ہوا کے کچھ باہر نہ آئی۔۔۔میری یہ حالت دیکھ، میرے ساتھی پتہ نہیں کبھی کے سمینارہال سے کھسک چکے تھے۔ شائد انھیں صحیح بات کا علم تھا ۔پر میں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ ،
میں۔۔۔۔ بت بنا اُن محترمہ کے سامنے کھڑا تھا وہ بھی اس طرح کے خود مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟؟عقل چیخ چیخ کر پوچھنا چاہتی تھی
مِس ، میری ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس قہر و غضب کی وجہ کیا ہے
میں ہوا بے بس اورآپ ٹھہری مختار
او۔۔۔ کریم بھائی یہ ماجرا کیا ہے
غرض ان کی خفگی نہ تھی جسم میں اترتی بلائیں تھی ،جو نہ صرف قلب کو بلکہ میدے و کلیجہ کوبھی چھو آئی تھی۔محترمہ مجھے کچھ دیر یوں ہی گھورتی رہیں شائدانکا مقصد مجھے دہشت میں مبتلا کر دینا تھا جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہیں۔
میں لاچار۔۔۔۔،بے یار و مددگار۔۔۔۔ اپنے آپ میں ڈرا سہما ۔۔۔۔۔۔انکے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا ۔اور وہ ایک فاتح اور جابربادشاہ کی طرح مجھے گھور ے گھور اپنی دہشت کے جھنڈے میرے سینے میں گڑائے دیے جا رہی تھیں۔ میں نہیں جانتا کے ایسا کرتے ہوئے انھیں کتنا وقت گزرا ہوگا۔
اچانک بولی ’’اجی۔۔۔۔۔ او۔۔ صائم !یہ تمہارا دماغ ساتویں آسمان پر کیوں چڑھا بیٹھا ہے۔۔۔ یہ تم نے کونسی حرکت کی ہے ؟؟تمہیں شرم نہیں آئی۔۔۔ ‘‘
میری حالت پہلے ہی سے نازک تھی اوپر سے ۔۔۔یہ۔۔ موٹاپا۔۔۔۔۔۔۔ ذراسی گھبراہٹ جو ہوئی سا نس تیزی سے چلنے لگی پیٹ کبھی اندر کو تو کبھی باہر کو جاتا۔گھبراہٹ میں کبھی ہاتھوں کو باند ھے ادب سے کھڑا ہوجاتا تو کبھی دونوں ہاتھوں کو آپس میں مل کر اپنی حالتِ کم باش پر قابوپانے کی کوشش کرتا۔
تبھی پاشی کا ایک شعر ذہن میں گونجا:۔
نکل پڑا ہے جو گھر سے تو ظلمتوں سے نہ ڈر
مرا خیا ل تجھے راستہ دکھا دیگا
ہمت یکجا کی اور ان سے پوچھ ہی لیا۔۔ ’’محترمہ ! آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ آپ دونوں حضرات مجھ سے یوں خفگی کا اظہار فرماتے ہیں؟؟؟یہ بات آپ بھی جانتی ہیں کہ وہ باجی ہماری رشتہ دار ہیں اور گھر آیا جایاکرتی ہے۔اُن سے تو بچپن کا تعلق ہے، آپس میں ہم لوگ مذاق کیا ہی کرتے ہیں۔اس میں ناراضگی کی کیا بات ہوئی؟۔
وہ بولی ’’اوہ ۔۔ہو ۔۔۔۔تو جناب کوپتا ہی نہیں کہ کیا کر گئے ہیں اور کہتے ہیں ایسی کیا بات ہوئی؟۔گویا
قتل بھی کرتے ہو زمانے بھر کے بیچ
کہہ کر یہ مکر جاتے ہو ، زمانہ نہیں اچھا
شعر پڑھا اور غصّے میں پیر پٹختی ہوئی بولی
’’اب اتنے بھولے نہ بنو۔تم نے صدر شعبۂ کی توہین کی ہے ۔۔۔۔۔ اور کان کھول کر سن لو ۔۔۔صدر شعبہ کے کیبن میں جا رہی ہوں جب بیل بجے آجانا‘‘۔
اتنا کہہ کر وہ محترمہ تو چلتی بنیں لیکن مجھے بے چینی اورخوف وہ ہراس کے عالم میں اکیلا چھوڑ گئیں۔محترمہ کے جاتے ہی شعبہ کے سبھی طالب علم سمینار ہال میں جمع ہو گئے سبھی کے چہروں نے مجھے اپنی موت کا فرمان سنا دیا۔ انھیں یقین تھا کہ غسل و کفن سے تو آراستہ ہو چکا ہوں۔۔۔ البتہ ۔۔۔۔ بغیر کافور چھڑکے دفن نہیں ہونیکا۔۔۔۔ بس یہ سبھی کافور کے چھڑکے جانے منتظر تھے۔
سبھی کو میری شکل میں جناب ملکوالموت نظر آ رہے تھے۔ ۔۔۔۔
لیکن میں استہفامیہ اندازمیں سب کے چہرے تاک رہا تھا’’میری شدید خواہش تھی کہ کوئی تو بتادے کہ مجھ سے ایسا کونسا فعل سرزد ہوا جو مجھ پر یہ قہرخدا وندی ٹوٹ پڑا ہے؟۔لیکن مجھے ان تمام کی نگاہوں میں سوائے ترس اور ہمدردی کے کچھ اور نظر نہ آیا۔آخر خود ہی ہمت کی اور پوچھ لیا
’۔۔۔۔۔۔۔۔’ساتھیوں تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ سے ایسی کونسی غلطی سرزد ہو گئی جس کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا ہے؟۔
ان سبھی نے ایک دوسرے کوحیرانگی سے دیکھا شاید انھیںیقین ہی نہیں ہو رہاتھا کہ مجھ سے اتنی فاش غلطی انجانے ہی میں سرزد ہو چکی ہے۔۔۔۔
دفعتاً چُغدر صاحب بولے’’کیوں تمہیں کچھ خبر نہیں ؟۔۔۔۔۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا دیا ۔۔۔۔۔
غصّے میں لال پیلے تو نہیں بس کالے کالے ہوتے ہوئے کہنے لگے ’’
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے سراورمیری میڈم کے ساتھ ایسی حر کت کر کے اب سوال بھی کرتے ہو؟؟؟؟۔۔۔‘‘ جانبِ مجمع طائرانہ نگاہ ڈال عظمتوں کی داد حاصل کرنے شعر داغ دیا۔
ہائے۔۔۔
شعبۂ کس منہ سے آئے ہو صائم
شرم ،مگر تم کو۔۔۔۔۔ نہیں آتی

میں بڑی معصومیت سے بولا ’’بھائی مجھے سچ میں نہیں پتہ کہ آپ کے سر اورآپ کی میڈم کیوں ناراض ہوگئے ۔
چُغدر صاحب غصہ میں بھنّائے چیخ کر بولے’’ امے میاں تم کیا پاگل ہو ؟کیا تمہیں با لکل اندازہ نہیں کہ میڈم تمہیں کیوں اس انداز میں گھور رہی تھیں ؟۔
میں انتہائی پریشانی کے عالم میں اس معصوم سے پوچھنے لگا’’ بھائی۔۔۔۔میرے بھائی۔۔۔۔۔بڑے بھائی خدا کے لئے بتا بھی چکوکہ آخر بات کیاہوئی؟
یقین تھا مجھ کونہ بچائے گا وہ خاک ہونے سے
گِروں گا جو دشت میں تھک کر ،وہ ضرور لو ری سنا دیگا
شاید میاں چُغدر کو یقین ہی نہ تھا کہ میں واقعی کچھ نہیں جانتا ۔وہ صاحب اپنا چہرہ پورے جوش و جلال سے نفی میں ہلاتے باہر کو چلتے بنے۔۔۔۔ اور میر ا حال یہ ہو چلا تھا کہ’’ کانٹوں تو بدن میں خون نہ ہو۔اور تل لو توہڈیوں پر گوشت ‘‘مرتا کیا نہ کرتاپھر دوبارہ مطلب براری کو نگاہیں اٹھائیں لیکن معاملہ بے سود ۔
ایک محترمہ جن کے بارے میں مشہور تھا کہ اپنی ناک پر مکھی توکیا، اس کے اہل خاندان کی پرچھائی تک نہیں پڑھنے دیتی۔اچانک مجھ غریب پر چلّا اٹھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔ ’’کچھ نہیں پتہ ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں جانتے تم؟آہ۔۔۔۔۔۔ کیا سوچ کر کہہ گئے یہ بات ؟۔میں نے محترمہ کے غصّے کا بڑی ہمت سے سامنا کیا اور منت و سماجت کے سے انداز میں پوچھا ’
‘’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باجی۔۔۔۔۔ میں سچ میں نہیں جانتا کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟۔آپ ہی بتادیں۔۔۔۔‘‘
وہ بڑے بھرپور اندازمیں بولی ’’کیوں تم نے اُن باجی کو یہ نہیں کہا ۔۔۔۔’کہ مبارک ہو آج سے آپ بھی پروفیسر ہو گئیں ؟‘‘۔
میں نے انتہائی حیرت سے محترمہ و تماش بینوں کو دیکھتے ہوئے اثبات میں اپنا سر ہلادیا۔ لیکن میں اُس وقت بھی نہیں جاجان پایا تھا کہ منڈی کہاں اٹکی ہے ۔؟؟؟ یہ کیا بات ہوئی جو اتنا کہنے ہی سے وہ دونوں حضرات مجھ سے اسقدر خفا ہو گئے اور دوستوں کو مجھ پر رحم کم غصہ فربا آنے لگا ۔میں اپنی حیرت کو چھپا نہ سکا اور پوچھ ہی لیا ۔۔۔
۔۔’’ اس جملہ میں ایسی کونسی بات ہے جس وجہ سے H.O.D صاحب ناراض ہو گئے اورمحترمہ یہ کہہ گئیں ہے کہ میں نے خادمِ ادب بلکہ عظمتِ ادب کی توہین کی ہے‘؟؟‘
اہل بینا مجھے اس انداز میں دیکھنے لگے مانوں کسی اور دنیا کی دُم دار مخلوق ہوں۔۔ ۔وہ خاتون جو کہ غصہ میں پوری لال ہو چلی تھیں بھڑک اٹھی کہنے لگی۔۔۔۔
’’لو جی کتنا معصوم بچہ ہے۔۔۔۔ ۔اسے توکچھ خبر ہی نہیں۔۔۔۔۔ہائے اللہ ایسے معصوم بچے کو آپ نے اس شعبۂ میں کیسے بھیج دیا ۔۔۔۔۔الےّ ۔۔۔لے لے،،، شونے بچے کو کچھ بھی نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔نالائق ۔۔۔ احمق۔۔۔ جاہل۔۔۔ پاگل۔۔۔۔چھچوندر کہیں کا۔۔۔‘‘
بس جو دل میں آیا وہ محترمہ سناتی چلی گئیں اور میں۔۔۔۔میں اپنے آپ کو بالکل چغد محسوس کرنے لگا ۔آخر جھلا کر میں نے سبھی سے کہہ دیا کہ
’’اگر کوئی واقعی بتانا چاہتا ہے کہ مسئلہ کیاہے ۔۔۔۔تو بتاوے ورنہ خواہ مخواہ مجھے پریشان نہ کرے‘‘ لیکن تب تلک تمام کا پارہ بلند پروازی پر گامزن ہو چکا تھا۔
مفلوس جہاں نے اہلِ قوم کو میرے قتل ناحق سے محفوظ رکھنے کی خاطر آگے آنا مناسب جانا۔ آگے بڑھ کربتایاکہ اتنے بڑے مہاراشٹر میں اس وقت اردو ادب سے متعلق صرف دو ہی پروفیسر موجود ہیں۔ایک بمبئی کی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ہیں اور دوسرے ہمارے صدر شعبہ، اس کے علاوہ جو بھی شخص اس مہاراشٹر میں خود کواردو کا پروفیسر کہتا ہے وہ جھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔ مکّار ہے۔۔۔۔۔ ‘‘
میں انتہائی تعجب سے مفلوس جہاں کو دیکھنے لگا کہ یہ شخص کس جہاں کی باتیں کئے جا رہا ہے؟؟۔ کیا سچ مچھ؟؟؟اتنے بڑے مہاراشٹر میں اردو ادب کے صرف دو ہی پروفیسر حضرات موجود ہیں؟؟؟ ۔اور اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو اس کی اطلاع مہاراشٹر کے ادبی حلقہ کو کیوں نہیں ہے؟؟۔۔۔۔ اگر ہمارے شہر میں واقعی ایسی عظیم ہستی موجود ہے توشہر بھر کی ادبی نشستوں میں ان کا ذکر کیوں نہیں ہوتا۔ ان حضرت کو وہاں بلا کر تعظیم کیوں نہیں دی جاتی۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی سوچوں میں گم ہو گیا، لیکن یہ بات گلے سے نہیں اتری کہ میرے اس مذاق سے اس بات کا کیا تعلق جو مجھے اس طرح لتاڑا جا رہا ہے اور اس انداز میں خفگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اپنی سوچوں میں گم تھا تبھی ایک آواز کانوں تک پہنچی
۔۔۔۔۔’’کون ہے وہ شخص ؟۔۔۔۔۔۔ سالا کون ہے وہ ۔۔۔۔کہاں ہے وہ جس نے میرے سر کی توہین کی ہے ؟۔۔۔
بتاؤ تم میں سے وہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟میں نے گھبرا کر چاروں طرف نگاہ دوڑائی ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہال کے دروازہ پر نہایت ہی خوش پوش لیکن ایک عجیب و غریب شخصیت کی حامل کوئی انسانوں جیسی شئے کھڑی تھی ۔پتہ نہیں ان صاحب پر ایک نظر ڈالتے ہی ذہن میں نہ جانے کیوں سانولی رنگت کے کیچوے کی شکل ابھر آئی تھی۔نا چیز نے ان حضر ت کو دیکھا اور سوچا کہ اب کیا مصیبت گلے پڑنے والی ہے ۔
بڑی ہمت کر کے دوستوں کی طرف مدد کے لئے نگاہیں دوڑائی پر ایسا لگا کہ میں اپنوں کے بیچ نہیں بلکہ پاکستانی بارڈر کے جوانوں کے بیچ آپہنچا ہو۔ہر کوئی اس انداز میں دیکھ رہا تھا جیسے میں کسی پڑوسی ملک کا جاسوس ہوں جو انکے بیچ آکھڑا ہوا ہے ۔جس کی مدد کرنا گویا موت کودعوت دینا تھا۔سبھی انجان بنے کن انکھیوں سے مجھے دیکھتے رہے اور میں ڈرا سہما اس شخص کو دیکھنے لگا۔ان صاحب نے آکر بڑے ہی گرجدار انداز میں پھر دہاڑ لگائی
’’کون ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ مجھے جس نے میرے سر کی توہین کی ہے؟‘‘
جب سبھی مجھے کن انکھیوں سے دیکھنے لگے تو وہ صاحب سمجھ گئے کہ سب کچھ اسی ناہنجاز کا کیا دھرا ہے ۔میں نے بڑی ہمت کی اور انھیں سلام جھاڑ دیا
’’سامالیکم بھائی جان‘‘
سنا تھا سلام سے لوگوں کے قلوب پگھل جاتے ہیں پر ان صاحب نے اوپر سے نیچے تک مجھے اس طرح گھورا مانوں بکّر بازار میں حضرت بکر ا خریدنے آئے ہیں اور جانچ پرکھ کر قربانی کے لئے لے جائیے گا ۔
ہمت کر کے اس شخص کو دوبارہ سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی۔۔۔۔’’ بھائی جان کیا بات ہوئی آخر ایسا کیا مسئلہ ہو گیا کہ آپ خفا خفا سے دکھائی دیتے ہیں ‘‘۔
میری بات ان کے کانوں میں پڑنا تھی گویا آگ میں تیل پڑھ گیا ۔بولے ’’کیوں بھائی یہ ابھی تم نے ہمارے سر کی توہین کیوں کرڈالی ؟تمہاری اتنی ہمت کیوں کر ہوئی کہ سر کے سامنے تم اتنی بڑی بات کر گئے۔آخر خود کو سمجھتے کیا ہو ؟۔۔۔۔۔
اردو پڑھ رہے ہونا ادب پڑھ کر بھی ادب نہیں سیکھا ۔۔۔۔۔۔جب استاد کی عزت نہیں کر سکتے تو یہاں کیا جھک ما رہے ہو؟‘‘
الغرض وہ صاحب نہ صرف اپنی زبان مبارک سے الفاظ کے موتی جھڑا رہے تھے بلکہ ساتھ ہی ہاتھوں اور چہرہ کا استعمال بات میں وزن پیداکرنے کی خاطر کرکیے جا رہے تھے۔۔
۔۔۔ اپنے نازک سے ہاتھ مجھ غریب کی کالر پر رکھے اور اپنا متاثر کن چہرہ میرے عین چہرہ کے سامنے رکھے ہوئے تھے۔غرض جتنا رعب ڈال سکتے تھے ڈال گئے بعد کو میرے اکھڑی سانسیں اور پسینے سے شرابور لباس دیکھ کر سنبھلے اور کچھ سوچ کر کہا
’’ سیدھا جاکر سر سے معافی مانگلے ورنہ تیری تو خیر نہیں۔۔۔۔۔‘‘۔
شائد وہ کچھ اور بھی کہنا چا رہے تھے لیکن مفلوس جہاں نے ان صاحب کو ٹوکا کہ ضحیم بھائی آپ پریشان نہ ہو ابھی میڈم نے اسے ڈانٹا ہے اور بولا ہے کہ ’’سر بیل بجا کر کیبن میں بلائے تو آجانا‘‘۔
ضحیم نے مفلوس کو اس انداز میں دیکھا جیسے بیچ میں بول کر اس نے ان حضرت کی توہین کر دی ہو۔
خود مفلوس ان کے تیور دیکھ کر ڈر گیا ۔لیکن جب سبھی مفلوس کے بات پر اقراریہ طور پر سر ہلانے لگے تو وہ ان لوگوں کی ادبی یکجہتی کو دیکھ ، پیچھے ہٹ گئے اور مجھے بھی کچھ راحت ملی۔پھر وہ صاحب سیدھا صدر شعبۂ کے کیبن کے سامنے گئے اور اجازت طلب کر کے اندر چلے گئے ۔اور کچھ دیر ٹہر کر روانہ ہوگئے ۔میں پریشان تو تھا ہی لیکن اس بات کا تجسس مجھ میں جاگ پڑا کہ یہ صاحب آخر ہے کون اور انھیں اس بات کا علم کیو نکر ہوا۔تبھی چُغدر بھائی سر کے کیبن کے قریب سے آتے دکھائی دیے ۔آکرسبھی کو متوجہ کیا اور کہنے لگے ضحیم آیا ہے بہت غصہ میں لگ رہا ہے ۔شائد میڈم نے اسے بلایا ہے ۔وہ ضحیم۔۔۔۔۔ ہے ناں۔۔۔وہ سر کا فیوریٹ بننے کے لئے اب اس بیچارے کو چھوڑے گا نہیں۔
اُسکا ایم۔فِل پچھلے ۵ سالوں سے سر کے تحت چل رہا ہے ۔‘‘ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی مفلوس جہاں بول پڑے’’ نہیں بھائی وہ صائم صاحب سے مل چکا ہے اور کافی خیریت بھی دریافت کر گیا ہے۔اب تو سر اور میڈم کی باری ہے۔‘‘
پس یہ سننا تھا کہ میرا حوصلہ جواب دے گیا ۔آنکھوں میں آنسوں لئے خدائے واحد سے دعا مانگنی شروع کی کہ ’’یا پرور دگار آپ کا یہ عاجز بندہ آخر کس مصیبت کا شکار ہو گیا ہے؟۔میں نے تو بس ان خاتون سے ایک مذاق ہی کیا تھا۔بیشک کہ خواتین سے دور رہنے کا حکم مجھے والدین سے مل چکا تھا لیکن یہ والی تو اپنی ہی تھی ناں۔۔۔۔۔ باجی جو کہتا ہوں انھیں۔۔۔۔۔ تو‘، تو قادر قلب ہے ۔۔۔ جھانک کر دیکھ لے ۔۔۔۔۔خدایا، میری مدد فرما اور اپنے حضور سے فرشتوں کی ایک فوج بھیج جو اس مشکل وقت میں میری مدد کر سکے۔خدایا ،آج تو میرے مدد کردے وعدہ کرتا ہو کے آج ہی سے پنج وقتہ نمازیں شروع کر دوگا۔‘‘
لیکن شاید اللہ میاں بھی مجھے خوب جانتے ہیں۔ انھیں علم تھا کہ پچھلے سارے وعدو ں کی طرح اس بار بھی مصیبت سے نکل جانے کے بعد میں وہی کرونگا جوکہ آج کے ہر مسلمان کا شعار ہے ۔خیر صاحب اللہ اللہ کر کے وہ بیل بھی بج گئی جس کا انتظار میرے رفیق اور ہم درد کر رہے تھے۔سر کے کیبن کی بیل بجی اور میرے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑھ گئے ۔مجھ میں اتنی سکت بھی نہ تھی کہ اُٹھ کر پانی پینے جاتا اور وہاں سے پلصراط کے لئے روانہ ہوجاتا۔میری اس خستہ حالت کو دیکھ میرے سب سے قریبی ساتھی بھائی ضمیر نے مجھے سہارا دیا اور کسی سے پانی لیکر میرے گلے میں چند قطرے ٹپکائے اور مجھے حوصلہ دیا ۔میں نے اپنے سبھی ساتھیوں کو بڑی امید بھری نگاہ سے دیکھا کہ شائد میری حالت دیکھ کر وہ رحم کھاویں گے اور میرے ساتھ چل،صدر شعبۂ سے میرے نا کردہ گناہ کی معافی دلوائیں گے۔لیکن یہ کوشش بھی ناکام ہوئی۔ شائدوہ تمام اس بات کو جانتے تھے کہ آج وہ میری مدد نہیں کر سکتے ،کیونکہ آج یوم الحساب تھا ۔آج مجھے اس گناہِ عظیم کی جواب دہی کرنی تھی جو مجھ سے بے علمی میں سر زد ہوئی تھی۔ایسی غلطی جسکی کوئی معافی نہ تھی۔ایک ایسا گناہِ کبیرہ جس نے مجھے چند ساعتوں سے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ایسے مذاق کی سزا ملنی تھی جو حاکم وقت کی نگاہ میں سب سے بڑے گناہ گار کو ملنی ہی چاہئے تھی۔میرا گناہ واقعی ایسا ہی سمجھا گیا تھا کہ مجھ پر اس شعبہ کا کوئی شخص رحم کرنے تیار نہ تھا ۔مدد تو درکنار ہمدردی تک نہیں جتائی جا رہی تھی۔
’’آخر کیوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔مجھے ایک دم بے آسرا کر دیا گیا تھا؟۔۔۔۔
مجھ سے یوں اچھوتوں سا برتاؤ کر کے کیا دکھایا جا رہا تھا؟؟؟؟
آیا میں کوئی ایسا شخص بن چکا تھاکہ جس کے لئے انسانیت ختم کی جا چکی تھی
اور کیا میری اس غلطی کی کو ئی معافی ممکن نہ تھی؟
مر رہا تھا، سسک ،بلک رہا تھا میں
یار میرے ، مجھے انگوٹھا دکھا گئے
میں انھیں سوچوں میں گم اس علاقے میں پہنچا جہاں کے لئے مجھے شعبۂ میں داخلہ لیتے وقت ہی بتلادیا گیا تھا کہ یہاں اُسی وقت قدم رکھنا جب تلک تمہیں یہاں سے بلاوانہ آئے ۔تمہارے جو بھی کام ہو وہ محترمہ سے کہہ کر پورے کر والینا پر خود وہا ں قدم رکھنے کی جرأت نہ کرنا ۔اور اس شعبۂ میں جو کچھ ہو رہاہے اس پر آنکھیں موندے کانوں کو لپیٹے ،دل کو مسوسے رکھناتا کہ اپنی تعلیم مکمل کر سکو ورنہ تمہارا ٹھکانہ سیدھا سر کا کیبن ہوگا جہاں کے لئے تم جیسا نازک مزاج ۔۔۔ گول گپّو ۔۔۔اوربے رتبہ طالب علم تیار نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہاں کی جواب دہی کے لئے شعبہ کا کوئی طالب علم تیار نہیں ہے ۔
میں ان پرانی باتوں کو یاد کر رہا تھا اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس مقدس جگہ کے قریب ہو ا جا رہا تھا جہاں شہنشائے وقت اپنے وزیر خاص کے ساتھ میرے لئے کوئی فیصلہ کر چکا تھا۔میں نے اپنے دوسرے اساتذہ کے کیبنوں میں جھانکنے کی کوشش کی کہ شاید وہاں سے کچھ حوصلہ مل سکے پر وہ حضرات بھی میری مدد نہیں کر پائے شاید سبھی جانتے تھے کہ میرا انجام کیا ہونا ہے ۔شہد کے چھتّہ میں ہاتھ ڈالنے کے بعد اگر کوئی شخص اس بات کا بے جا گمان کر لے کہ منکھیاں اُسے کانٹنے کے بجائی اس کا پر تپاک استقبال کریگی تو یہ ممکن نہیں ۔
خیر صاحب میںآیت الکرسی اور درود شریف کا ورد کرتا ہوا بالآخرپرو فیسر صاحب (صدرد شعبۂ)کے کیبن میں پہنچ ہی گیا ۔اندر آنے کی اجازت طلب کی اور جواب میں ایک بڑی سی ہنکار سنی جس کا مطلب تھا
’’محترمی و مکرمی ۔۔۔ عالیجناب ۔۔۔ عزت مآب ۔۔صدیقی صائم الدین صاحب برائے مہر بانی اندر تشریف لے آئیے‘‘۔میں
نے ہنکار سنی اور بے اختیار دل ہی دل میں چیخ اٹھا
‘‘الہٰ شاید میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔۔۔۔ ۔مدد فرما۔۔۔۔ کرم فرما۔۔۔،مجھ عاجز پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور موت کے فرشتے کو حکم دے کہ مجھ پرنزع کی سختی کو آسان کردے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
میں اسی طرح خدا کے حضور گڑ گڑاتا ہوا کمرے میں پہنچ گیا۔کیبن کیا تھا اللہ اللہ۔ بے حد شاندار اور پر لطف چیزوں سے بھرا ہوا۔میری ہمیشہ سے اس کیبن کو دیکھنے کی دلی خواہش تھی پر کبھی سوچا نہ تھا کہ اس کیبن میں یو مجرموں کی طرح بلایا جاؤنگا۔پر اب کیا ہوت ہے بھیّا ۔۔۔ جب چڑیا چگ گئی کھیت۔۔۔لات پڑے ہے نوکر کو۔۔۔۔ اور بھوکن( کتا)ّکھائے بیت۔
میں اس انصاف بھری عدالت میں مجرموں کی مانند آچکا تھا اورمجرم بھی کیسا جس کی معافی تو درکنار کوئی سنوائی بھی نہ تھی۔میں مجرموں کر طرح نگاہیں جھکائے کھڑا تھا اورپروفیسر صاحب مجھے یوں دیکھ رہے تھے مانوں ہٹلر نے دوسرا جنم لیا ہو اورپھر وہی گنا ہ کر ان حضرت کے حضور لا کھڑاکیا گیا ہو۔میرا دھیان انھیں پر تھا اور کن انکھیوں سے انھیں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر مجھ سے بڑی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ صدر صاحب کی ہمدردِ خاص سے میری توجہ ہٹ گئی سچ پوچھوں تو میرا انکی جانب دھیان ہی نہیں گیا تھا۔پر وہ اپنے ایکسرے ویجن سے مجھے بڑی جارہانہ انداز میں دیکھ رہی تھی ۔ان کا انداز کچھ ایسا تھا کہ مانوں پوچھ رہی ہو
’’ مار دیا جائے کہ چھوڑ دیا جائے بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟‘‘۔
میں مجرم ہند بنا۔۔۔ چپ چاپ کھڑا، اپنے لئے سزا کا انتظار کر رہا تھا۔دفعتاًمحترمہ نے کھنکار کر صدر محترم کو اپنی جانب متوجہ کیا اور کہنے لگی ’’سر یہ ہے صائم M.Phil کے طالب علم ہے۔‘‘
میں نے دل سوچا۔۔۔۔
۔۔۔۔ او ہو تو ڈھائی سال بعد میرا تعارف میرے صدر شعبہ سے ہوا ہے اور وہ بھی اس حادثہ کی بناء پر ورنہ شائد میں بھی Phd ہوکر ہی ان سے مل پاتا ۔صدر صاحب گھورتے ہوئے اپنے پورے جاہ و جلا ل سے مجھ خاکسار سے ہم کلام ہوئے۔
’’انسان جس ملک میں پیدا ہوتا ہے اس ملک کے قوانین کا احترام اس پر واجب و لازم امر ٹھہرا۔۔ پھر چاہے وہ اس کے متعلق جانتا ہو یانہ ہو۔ وہ کوئی عذرِفردی پیش نہیں کر سکتا جس سے اس کی لاعلمی ثابت ہو۔۔۔۔۔اسے اپنے آپ کو اس بات کے لئے تیار کرنا ہی پڑتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو اس ملک کے قوانین کے مطابق ڈھالنے پر صرف کردیں۔۔پھر چاہے اس کا نفس اس کے لئے تیار نہ رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(کچھ وفقہ کے بعد لبمی سانس کھینچی اور بولے )۔۔۔۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے‘‘۔
صدر صاحب نے یہ بات بے حد شاہانہ انداز میں کہی۔مگر میں یعنی ۔۔۔بندہ ناچیز ،۔۔۔جی ہاں میں ہی ۔۔۔۔۔،میں نے اپنا منہ اس تعجب کی بنیاد پر اس قدرکھولا کہ اگر مکھیوں کی انجمنِ ترقی نسواں اپنا اجتماعی اجلاس وہاں منعقد کرنا چاہتی تو بہترین جگہ پاتیں۔کہاں میں صدر صاحب کے جملوں کی کاٹ سے ڈر کر اپنی جان بھی تیاگ دینے کی سوچ رہا تھا اور کہاں یہ حضرت ملک و قوم کی باتیں کر رہے تھے ۔۔جس کا میری ذات سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔میں نا سمجھوں کے سے انداز میں صدر صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا ۔وہ جو بات کر گئے تھے مجھ کم علم طالب علم کے لیے وہ اردو زبان میں نہ تھی یا یہ کہ جس اردو کا استعمال صدر شعبۂ نے کیا تھا میں اس کی افہام و تفہیم سے میں نابلد تھا۔میں تعجب سے انھیں تکتا رہا اور وہ شاہانہ بے نیازی سے مجھے یوں دیکھ رہے تھے جیسے اس غیر مربوط جملوں میں وہ اپنی ساری توہین کا بدلہ مجھ سے لے چکے ہوں۔میں نے سوچا کہ صدر صاحب سے سوال کروں کہ
’’جناب و الا مجھے آپ کیا سمجھانے کی کوشش کر تے ہیں؟؟؟۔۔۔۔ میں عاجز،خاکسار، کمزور ، لاچار، آپ جیسے باکمال شخص کی باتیں سمجھ ہی نہیں پا رہا ۔لیکن میرے کچھ کہنے سے قبل ہی محترمہ جاں چیخ پڑی
’’واہ۔۔۔۔ سر۔۔۔۔۔ واہ۔۔۔ !بہت خوب ۔۔۔۔۔!کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔کیا بات کہی آپ نے، بہترین جناب ،بیحد شاندار ،واہ سر واہ ،سبحان اللہ،بلکہ ماشا اللہ ،کاش آپ جیسی باتیں ہم لوگ بھی کر پاتے اور کاش آپ جیسی سوچ ہم عوام کی بھی ہو جاتی تب تو یہ ملک جنت کا نمونہ بن جاتا، واہ بہترین جناب، بہترین۔۔۔۔
میں نے استعجابیہ انداز میں اپنا منہ مزید کھولنا چاہا پر ناکامیابی ہی ہاتھ آئی مجبوراً اپنا منہ یوں چلاتا رہا جیسے کسی نے کوئی کڑوی کسیلی سی دوا مٹھائی کے دھوکے میں پلادی ہو۔میں اسی حالت میں کبھی پروفیسر صاحب کو دیکھتا اور کبھی ان محترمہ کو جوپروفیسر صاحب کی بات کو اس طرح سمجھ گئی تھیں جیسے کوئی بچہ ۲+ ۲ = ۴ کو سمجھ لیتا ہے اور اس طرح خوش ہو جاتا ہے جیسے اس کے آگے دنیا کا سب سے بڑا عقلمند بھی ’’پانی کم چائے ہے‘‘۔صدر صاحب کا یہ عالم تھا کہ ان کے اس جملہ نے مانوافلا طو ن کی قبر پر لات مار دی ہو۔شاہانہ اور بے نیازانہ انداز میں وہ حضرت اپنی سوچوں میں گم ہو گئے تو کچھ یوں لگا کہ اُن پر کسی طرح کا الہامی دورہ پڑھا ہے۔
محترمہ میری طرف کچھ اس طرح متوجہ ہوئیں کہ ان کا نصف دھیان مکھ پر اورنصف صدر محترم کی طرف،
بولی ’’اجی کیا ہے ؟۔۔۔۔۔اس طرح منہ کھولے کیوں کھڑے ہو ،کچھ سمجھ نہیں آیا کیا؟۔۔۔۔سنا نہیں سر کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔شرمندگی تو نام کو نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ سمجھوں جاہل،۔۔۔ بات کو ۔۔سمجھوں ۔۔۔سر کیا خوب بات کہہ گئے ہیں۔۔۔‘‘وہ محترمہ اسی انداز کی باتیں کیے جا رہی تھیں اور میں حیرت کے بحر ہند میں غوطہ کھا کر کبھی بحر عرب تو کبھی بحر الکاہل جا نکلتا۔۔ میں اس بات کو سمجھنے قاصر تھا کہ یہ جو پروفیسر صاحب الہامی جملے کہہ چکے تھے اس کی معنی آفرینی کیا ہے؟؟ ،
ساتھ ہی اس بات پر بھی حیرت تھی کہ کیبن کے باہر کے حالات کچھ اور تھے اور یہاں اندراس وقت کا ماحول کچھ یوں سا تھا کہ اگر پروفیسر صاحب کا یہ جملہ کسی اوروقت میں سن لیتا تو یقیناً انھیں اپنے وقت کا بہترین رہنماجان کر ان کی اتباع کو اپنا نصب العین بنا چکا ہوتا پر ابھی ان حالات میں ان جملوں کا مطلب سمجھنے سے میں خاصر تھا۔
پیدل تھے ہم، زمانے کو کیا سمجھاتے
جب تلک سمجھاتے، سب سو جاتے
شائد اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک پروفیسر تھے اور میں صرف ایم۔فِل کا ننھا سا طالب علم۔ظاہر ہے ان کے علم اور میرے تجربے میں فرق تو ہونا ہی تھا۔آخر وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کے علم اور پوسٹ کی ٹکر کا ہمارے اس پورے مہاراشٹرمیں ایک ہی شخص تھا شائد وہی حضرت صدر محترم کی باتوں کو ہم سب سے بہتر طور پر سمجھ سکتے اور مجھ کم علم کو سمجھا بھی پاتے لیکن مجبوری یہ تھی کے وہ صاحب اس وقت بمبئی میں اپنے شعبہ کے طلباء کی تربیت میں لگے ہوئے تھے۔لیکن ۔۔۔۔لیکن اچانک مجھے خیال آیا ارے ہاں۔۔۔۔۔ یہاں بھی تو ایک شخص موجود ہے جو صدر صاحب کی باتوں کوبڑے ہی بہترین انداز میں سمجھ لیتا ہے اور ظاہر ہے صبح سے شام کے اتنے گہرے ساتھ کی بنیاد پر صدر محترم کا اتنا وسیع علم انھیں بھی تو ملا ہوگا۔ کیونکہ یہ شخص اُس وقت سے صدر محترم سے وابستہ ہے جب سے صدر صاحب اس شعبہ کی گدے سنبھالی تھی۔ تقریباً ۸ سے ۹ سالوں کے اس صبح و شام کے ساتھ نے اس شخصیت کو پورا نہیں تو کسی حد تک اپنے علم سے منور ضرور کیاہوگا۔ورنہ یہ ممکن نہ تھا کہ پروفیسر صاحب کے ان جملوں کووہ سمجھ پائے یہ شخص اور کون ہوتا وہی صاحبہ جن کی آنکھوں نے مجھ مظلوم کے جسم میں چینٹیاں دوڑائی تھی ۔میں نے اپنی توجہ پروفیسر صاحب کی جانب سے ہٹائی اور اُس شخص، میری مراد صدر صاحب کی کارِ خاص ، ہمراز ،مدد ساز ،خدمت گار ان کی اسیسٹنٹ اور شعبۂ کی اُستاذسے تھا،کی جانب کرلی ۔اپنی پوری توجہ اور عاجزی سے اُن سے سوال کیا
۔۔ ’’میڈم مجھے معاف فرمائیگا میں اپنی کم علمی پر مکمل نادم ہوں۔۔۔ پر کیا آپ مجھے سمجھاسکیں گی کہ آخر صدر محترم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔؟میں خاکسار اپنے تمام علم کو ٹٹول چکا ہو اور بے حد شرمندہ ہو ں کہ میں پروفیسر صاحب کی باتوں کو سمجھ نہیں پارہا۔مجھ ادنا سے طالب علم کی مدد کریں اور برائے مہر بانی مجھے بتائیے تو سہی کے آخر وہ ایسی کونسی بات ہے جو پروفیسر صاحب کے ان جملوں میں پو شیدہ ہے اور مجھ کم علم کو سمجھ نہیںآتی۔وہ محترمہ ایک دم بھوکی شیرنی کی مانند نظر آنے لگی اگر اس وقت انکا بس چلتا تو شائد مجھے پیٹ کر ہی رکھ دیتیں۔ پر کچھ میری کم عمری کا لحاظ تھا یا شائد میری معصوم سی صورت کا رعب کہ بس گھورنے پر ہی اکتفا کیا اور چیخنے کے سے انداز میں بولی
’’ دفعہ ہو جاؤ ہمارے اس کیبن سے اور یاد رکھنا تمہیں اسی شعبہ میں اپنا ایم ۔فِل اور پی ۔ایچ ۔ڈی مکمل کرنا ہے اور خبر دار جو آئندہ اس طرح کی بد تمیزی کی اور اس طرح ہمارے سر کی توہین کی ۔تم ایک بے علمے اور بے ادبے شخص ہو ۔۔۔۔ دفعہ ہو جاؤ اور آئندہ اگر کبھی مجھے یا سر کو دکھائی بھی دے گئے تو اس کا نتیجہ اچھا نہ ہونگا۔بس جاؤ ۔۔۔۔نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔‘‘
میں ان کے چیخنے چلانے سے اتنا ڈراکہ گھبرا کر دوڑتا ہوا کیبن سے نکل بھاگا۔کیبن سے نکلتے ہی سمینار ہال سے اپنا بیگ لیا اور سیدھا گھر کی راہ لی ۔دل میں ایک خیال یہ بھی آیا کہ ان سے ایک اور سوال پوچھ لوں کہ
’’محترمہ ۔۔۔۔ تو کیا لیکچرز کے دوران بھی حاضر رہوں کہ نہیں؟؟؟۔۔۔۔ مگر ان کی خفگی کا یہ عالم دیکھ کر اس کی ہمت نہ ہوسکی۔بہر الحال دوستوں وہ دن ہے اور آج کا دن کے ہم آج بھی جب کبھی اپنے شعبہ میں جاتے ہیں کبھی برقعہ کا تو کبھی نقاب کا استعمال کر لیا کرتے ہیں تا کہ ہماری اس معصوم صورت اور ننھے سے مذاق سے کہیں دوبارہ اسی طرح کا بوال نہ کھڑا ہو جائے ۔ہاں اس دن کے بعد ہمارے ساتھ اتنا ضرورو ہوا کے ہمیں برقعہ اور نقاب کا استعمال کرنا بہترین انداز میں آگیاہے۔رہ گئی بات پروفیسر صاحب اور ان کی اسیسٹنٹ ٹیچرکی۔۔۔۔
تو صاحب۔۔۔۔۔وہ اپنی رٹائرمنٹ تک پورے جاہ و جلال کے سنگ اپنے خدم و ہشم کے ساتھ اپنی حکومت
کی نگرانی کرتے رہے ۔اور محترمہ شایداس بات کی منتظر کہ کب کوئی دوسرا صائم آجائے جو انکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔

نوٹ : اس انشائیہ کے سبھی کردار خیالی ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!