Published From Aurangabad & Buldhana

‘پاکستان نے کئی برسوںُ سے ڈبل گیم کھیلا ہے’

امریکہ پاکستان کی امداد روک رہا ہے: نکی ہیلی کی تصدیق

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان کی امداد روک رہے ہیں۔
منگل کو نیویارک میں نکی ہیلی نے اسلام آباد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکی ’انتظامیہ 225 ملین امریکی ڈالرز کی پاکستان کو امداد روک رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات ہیں کہ پاکستان نے کئی برسوں سے ڈبل گیم کھیلی ہے۔‘
خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’وہ اکثر ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں، اور افغانستان میں ہماری فوجوں پر حملے کے لیے دہشت گرد بھی بھیجتے ہیں۔ یہ کھیل اس انتظامیہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان سے کہیں زیادہ تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔‘
دوسری جانب وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مزید اقدامات کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پاکستان کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ نکی ہیلی کے اس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
جبکہ پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے امریکہ اور پاکستان کو تعاون اور مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ منفی بیان بازی سے اہداف کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
منگل کو امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں گذشتہ چند ماہ سے صدر ٹرمپ سمیت کئی امریکی عمائدین کی جانب سے سامنے آنے والے منفی بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
خرم دستگیر نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ ‘اکھٹے مل کر اور تعاون سے افغانستان میں امن کی جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو ہمیں بہتر کامیابی ہوگی، بجائے یہ کہ ہم اپنی منفی بیان بازی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔’
بشکریہ بی بی سی اردو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!