Published From Aurangabad & Buldhana

پاکستان: عمران خان کابینہ کا اعلان، ہندوستان پرجوہری حملے کا مشورہ دینے والی ڈاکٹرشیریں بھی شامل

وزیراعظم پاکستان کی20 رکنی فہرست میں شاہ محمود قریشی کو وزیرخارجہ کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ وزیرداخلہ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور 5 مشیر نامزد کئے گئے ہیں۔

پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 21 رکنی کابینہ کا اعلان کردیا۔ سال 2008 میں ممبئی دہشت گردانہ حملے کے دوران بھی قریشی وزیرخارجہ تھے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان فواد چودھری نے کہا کہ اعلان کئے گئے 20 ناموں میں سے 15 وزیر جبکہ 5 مشیر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

فواد چودھری نے بتایا کہ جن پانچ اشخاص کو مشیر کی ذمہ داری گئی ہے، وہ وزیراعظم عمران خان کے مشیرکے طورپراپنے فرائض انجام دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نئی کابینہ کو راشٹرپتی بھون میں حلف لینے کا امکان ہے۔

چودھری کے ذریعہ ٹوئٹرپرشیئرکی گئی فہرست کے مطابق قریشی کو وزیرخارجہ، پرویز کھٹک کو وزیر دفاع اوراسد عمر کو وزیرمالیات بنایا گیا ہے۔ راولپنڈی کے شیخ رشید کو وزیرریل نامزد کیا گیا ہے۔ تین خواتین ڈاکٹر شیریں ایم مزاری، زبیدہ جلال اور فہمیدہ مرزا بھی کابینہ کا حصہ ہیں۔ وزیرکا درجہ رکھنے والے پانچ مشیروں میں سابق بینکرعشرت حسین، تاجرعبدالرزاق داود اورظہیر الدین بابر، آمین اسلم اورمحمد شہزاد جیسے مشہور چہرے شامل ہیں۔

قابل ذکرہے کہ عمران خان کی کابینہ میں ڈاکٹرشیریں مزاری بھی شامل ہیں، جنہوں نے سال 1999 میں کارگل جنگ ختم ہونے کے بعد ایک تحریرمیں پاکستان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہندوستان پرجوہری حملہ کردے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کو انسانی حقوق کی وزارت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 25 جولائی کو ہوئےعام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ عمران نے اپنے حریف پاکستان مسلم لیگ – نواز (پی ایم ایل-این) کے امیدوارشہبازشریف کوشکست دے کروزیراعظم کی کرسی سنبھالی ہے۔

قومی اسمبلی نے جمعہ کوعمران خان کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا تھا۔ اس دوران ان کے حق میں 176 ووٹ پڑے، جبکہ ان کےمخالف شہبازشریف کو 96 ووٹ ملے تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریرمیں بدعنوانی مخالف مہم کو تیزکرنے کاعہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرض لینے کے بجائے وہ ملک میں آمدنی کے مواقع پیدا کرنے پرزیادہ توجہ دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ "میں نہ تو ملک کا پیسہ لوٹنے والوں میں سے کسی کو چھوڑوں گا اور نہ ہی قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو چھوٹ دوں گا۔ میں سب کے لئے سخت جوابدہی طے کروں گا”۔ انہوں نے کہا "میں کسی لیڈر کے کندھے پرسوارنہیں ہوجاوں گا، میں 2 2 سال کےجدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں۔ حالانکہ اپوزیشن جماعتوں نے ان پرمضبوط سیکورٹی انتظامات کے دم پرووٹ میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ ماہ الیکشن کے بعد سے ہی وہ مخالفت کررہے ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!