Published From Aurangabad & Buldhana

پارلیمانی و اسمبلی انتخابات میں پسماندہ طبقات کا سب سے اہم کردار: او بی سی لیڈران

جب تک پسماندہ طبقات کی سیاسی طاقت نہیں ہوگی ہمیں حقوق نہیں مل سکتے ہیں: بھجبل ، تمام انسانیت پسند طبقات کا میدان میں آنا لازمی: مجتبیٰ فاروق

ممبئی : ۱۱؍ستمبر 2019میں ملک میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات ومختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں دیگر پسماندہ طبقات کا اہم کرادار ہوگا ،نیز ان کی اکثریت جس جانب جھکے گی اس پارٹی کا پلہ بھاری ہوگا۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں ممبئی میں دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈران نے کیا جس میں مہاراشٹر کی شیو سینا بی جے پی حکومت میں شامل کابینی وزیر مہادیو جانکر ،سابق نائب وزیر اعلی و این سی پی لیڈر جھگن بھجبل، ویشوناتھ پاٹل ،ڈاکٹرببن تائے واڑے اور دیگر شامل تھے۔

fممبئی کے برلاماتوشری ہال میں منعقدہ آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کی جانب سے ’’احترام دستور کانفرنس ‘‘(سودھان سمان سملن ) میں ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے دیگر پسماندہ برادریوں کے افراد نے شرکت کی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مہا دیو جانکر نے کہا کہ جس طرح سے ہندو پسماندہ طبقات کو سرکاری مراعات حاصل ہوتی ہے اسی نہج پر مسلم پسماندہ طبقات کو بھی سہولیات دستیاب ہونا چاہیے. اس کے لیے ہندو مسلم سمیت تمام پسماندہ طبقات کو مل کر لڑائی لڑنی ہوگی۔

جھگن بھجبل نے دیگر پسماندہ طبقات کی تمام برادریوں کو متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہماری سیاسی طاقت نہیں ہوگی ہمیں دستوری حق حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا بلاتفریق سیاسی پارٹی و بلا تفریق مذہب ہم تمام کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا ہم اسی اتحاد کے سہارے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔مون لیچنگ، اخلاق، روہیت ویملا، آصفہ کا ذکر کرتے ہوئے بھجبل نے مسلمانوں، دلوں اور دیگر پسماندہ طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ 2019 کے انتخابات کی تیاری آج سے ہی کریں ورنہ آنے والے دنوں میں میں ان کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اس موقع پر مسلم دیگر پسماندہ طبقات کے لیڈر و آرگنائزیشن کے قومی صدرشبیر احمد انصاری نے اپنے کلیدی خطبہ میں دیگر پسماندہ طبقات کوہونے والی مختلف تکالیف کا ذکر کیا اور خصوصی طور پر مسلم پسماندہ طبقات کے مسائل پر بھی سیرحاصل بحث کی نیز انہوں نے کہاکہ2019میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں او بی سی سماج کا کردار بڑا اہم ہوگا۔اس کے لیے ایک ٹھوس لائحہ عمل تیار کیاجارہا ہے ، اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے او بی سی کے مسائل کی یکسوئی کے لیے بات چیت کی جاری ہے تاکہ پسماندہ طبقات کو ان کے حقوق حاصل ہوسکیں۔اجلاس کے آغاز میں آرگنائزیشن کے ترجمان مرزاعبدالقیوم ندوی نے آل انڈیامسلم او بی سی کی ضرورت واہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندو مسلم او بی سی طبقات اپنے اتحاد کوبروئے کار لاتے ہوئے ریاست کی سیاست میں اپنے وجود کو منوائے۔

اس موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سیکریٹری جنرل مجتبیٰ فاروق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کہ ملک اس وقت جس خطرناک دور سے گزرہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سرعام ملک کے دستورکو جلایا جارہاہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اندر و باہر ہنگامہ برپا کیاجارہاہے۔ ایک طرح سے یرغمال بنا یاجارہاہے۔ ملک میں اقلیتوں،دلتوں اور خصوصاََ او بی سی اور پسماندہ طبقات پر حملے کیے جارہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججس لوگوں کے بیچ آکر ملک کے قانون و دستور کو بچانے کی بات کررہے ہیں۔ ان حالات میں ضرو ری ہوگیا ہے کہ لوگ میدان میں آئیں اور ملک کے دستور کی حفاظت کریں۔ تمام انسانیت پسند طبقات کا میدان میں آکر مقابلہ کرنا لازمی ہوگیا ہے۔

آرگنائزیشن کے د ممبئی صدر نظام الدین راعین نے کہاکہ عروس البلاد ممبئی سے آج اس مہم کا آغاز عمل میں آرہاہے اور جلد ہی ہم ریاست مختلف اضلاع میں اس مہم کو آگے بڑھائیں گے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!