Published From Aurangabad & Buldhana

ٹیکنالوجی کی سمت میں آئی بی ایم کی حیرت انگیز کارنامے

آئی بی ایم کے چیف سائنسداں جان کوہن کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجیز آئندہ چند سالوں میں انسانی زندگیوں کا لازمی جز بن چکی ہوں گی۔ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہوچکا ہوگا۔

آئی بی ایم کی یہ پانچ ٹیکنالوجی شاید اس وقت ایک سائنس فکشن فلم کا حصہ معلوم ہوں، تاہم ان کے بقول وہ وقت دور نہیں جب ان ٹیکنالوجیز کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی محال ہوگا۔ لاس ویگاس میں ہونے والے سالانہ ’’انٹرنیشنل کنزیومر الیکٹرانک شو‘‘کے دوران آئی بی ایم نے مستقبل کی پانچ ایسی نئی ٹیکنالوجیز کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق آنے والے کل کا نقشہ بدل کے رکھ دیں گی۔

آئی بی ایم گزشتہ چار برسوں سے ہر سال ایسی نئی ٹیکنالوجیز اور ایجادات کی نشاندہی کرتی آرہی ہے جو اس کے مطابق انسانی مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہیں۔آئی بی ایم کے چیف سائنسداں جان کوہن کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجیز آئندہ چند سالوں میں انسانی زندگیوں کا لازمی جزو بن چکی ہوں گی۔ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہوچکا ہوگا۔ کوہن کے مطابق کمپنی کی منتخب کردہ ان پانچ ٹیکنالوجیز میں سب سے پہلی ’’تھری ڈائمینشنل یا سہ جہتی‘‘ ٹیکنالوجی ہے جس کا استعمال اس وقت فلموں اور ٹیلی ویژن میں عام ہے۔ تاہم کوہن کے بقول ہم مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت ویب براؤزنگ اور دوستوں سے چیٹنگ کی ایک بالکل نئی دنیا کا تجربہ کرینگے۔ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم اپنے سے دورموجود اپنے چاہنے والوں کی بالکل حقیقی سہ جہتی شبیہ کا مشاہدہ اپنے اسمارٹ فونز پر کرسکیں گے۔ کوہن کے بقول مشاہدات کی سائنس کے ذریعے حاصل کی جانے والی یہ سہ جہتی شبیہ ہمیں بالکل حقیقی شخص کا تاثر دے گی۔ جس سے ہمارے رابطے مزید پراثر ہو جائیں گے۔

ان کے بقول جب ہم اپنے دوستوں سے اپنے فون کے ذریعے ’’تھری ڈائی مینشنل‘‘رابطے میں ہونگے تو ہمیں اپنے دستی فونوں کی بیٹری ری چارج کرنے کی کوئی فکر بھی نہیں ہوگی۔ کیونکہ ان کے بقول مستقبل کی بیٹریاں موجودہ بیٹریوں سے کہیں زیادہ دیرپا اور پائیدارہونگی۔ بیٹریز کی یہی نئی ٹیکنالوجی آئی بی ایم کی فہرست میں دوسرے نمبر پرہے۔کوہن کہتے ہیں کہ سائنسدان بیٹریوں کی نت نئی اقسام پہ کام کررہے ہیں جن میںسر فہرست ’’لیتھیم ایئر بیٹریاں‘‘ ہیں۔ جو خود کو ہوا کے ذریعے بالکل ویسے ہیں ری چارج کریں گی جیسے ہم ہوا میں سانس لے کر اپنی زندگی کی ڈور برقرار رکھتے ہیں۔ لہٰذا جب آپ رات کو سوتے وقت اپنا سیل فون اپنے سرہانے رکھیں گے تو اس کی بیٹری ری چارج ہونا شروع ہوجائے گی۔

کوہن کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد صرف فون کے معاملے میں کارآمد ثابت نہیں ہوگی بلکہ بیٹری سے چلنے والی ہر شئے حتیٰ کہ مستقبل کی کاریں بھی اس ٹیکنالوجی کی بدولت زیادہ دیر تک چلنے کے قابل ہوجائیںگی۔آئی بی ایم کی فہرست پہ موجود تیسری اہم ایجاد بھی توانائی کے استعمال سے ہی متعلق ہے۔ کمپنی کے بقول ہمیں مستقبل میں ایک ایسی ٹیکنالوجی سے پالا پڑنے والا ہے جو ہمارے کمپیوٹر سے خارج ہونے والی توانائی یعنی گرمی کو توانائی کی صورت میں تبدیل کرکے اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنا سکے گی۔ کوہن کہتے ہیں کہ جب ہم اپنے کمپیوٹرز پر کام کررہے ہوتے ہیں تو درحقیقت ان سے گرمی کا اخراج ہورہا ہوتا ہے جو توانائی ہی کی ایک شکل ہے۔ تاہم فی الحال یہ توانائی ضائع ہورہی ہے کیونکہ ہمارے پاس اسے محفوظ کرنے اور اس کے دوبارہ استعمال کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔کوہن کا کہنا ہے کہ سائنسدان کمپیوٹرز کی چپس میں ایسے چھوٹے چھوٹے چینلز بنانے پر کام کررہے ہیں جو کمپیوٹر کی گرمی کو ایک جگہ پر محفوظ کرکے اسے عمارتوں کے سردی یاگرمی کے نظام میں استعمال کرنے کے قابل بنا سکیں گے۔ اس عمل سے کمپیوٹنگ کی رفتار بھی تیز ہوجائے گی جو اس وقت چپس کے گرم ہوجانے کے باعث عموماً سست ہوجاتی ہے۔

چوتھی اہم ٹیکنالوجی مواصلات کے میدان میں ہونے والی ترقی سے متعلق ہے جس کے باعث ہمارے سفر زیادہ آسان اور کارآمد ہوجائیں گے۔ جان کوہن کہتے ہیں اس وقت سفر میں آسانی کے لیے استعمال کی جانے والی’’گلوبل پوزشننگ سسٹم‘‘ یعنی جی پی ایس (Global Posioning System) ٹیکنالوجی کی بدولت ہم اس بات کا پتا لگا سکتے ہیں کہ آگے سڑک پر کہاں ٹریفک جام ہے یا کوئی اور رکاوٹ موجود ہے۔ لیکن اب سائنسدان ایک قدم آگے بڑھ کر ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہیں جو ممکنہ رکاوٹ کی پیش گوئی کرنے کے قابل ہو۔ کوہن کا کہنا ہے کہ اس طرح کسی رکاوٹ کے پیش نظر ہر ڈرائیور کو علیحدہ علیحدہ رہنمائی کی سہولت حاصل ہوسکے گی۔ جس سے ٹریفک جام اور کسی قسم کی ایمرجنسی کی صورت میں ٹریفک کے بہاؤمیں پڑنے والے خلل سے بچا جاسکے گا۔اور ہمارے مستقبل کی صورت گری کرنے والی پانچویں اور سب سے آخری ٹیکنالوجی ہے ڈیٹا ٹیکنالوجیز میں ہونے والی پیش رفت۔ جس کی بدولت آنے والے دنوں میں ہر فرد کے لیے یہ ممکن ہوسکے گا کہ وہ اپنی زمین کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سائنسدانوں کے شانہ بشانہ ایک سرگرم کردار ادا کرسکے۔

جان کوہن کے بقول اس وقت لوگوں کے فون، لیپ ٹاپس، کاریں غرض استعمال کی ہر اہم شے کسی نہ کسی طرح کے نیٹ ورک سے جڑی ہوئی ہے جو ایک طرح سے کئی قسم کے ’’انٹرنیٹس‘‘ تشکیل دیتے ہیں۔ کوہن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں لوگوں کے زیرِ استعمال یہ تمام آلات ٹریفک کے بہاؤ سے لے کر ہوا کے دباؤ تک مختلف قسم کا ڈیٹا اکٹھا کر نے کے قابل ہونگے جسے بعد ازاں استعمال میں لایا جاسکے گا۔آئی بی ایم کے چیف سائنٹسٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے سیل فونز مستقبل میں زمین کی پلیٹوں کی حرکت تک ریکارڈ کرنے کے قابل ہونگے اور سائنسدانوں کو آنے والے زلزلوں اور سونامی کے بارے میں خبردار کرسکیں گے۔ جان کوہن کا کہنا ہے کہ آئی بی ایم کی فہرست میں موجود یہ پانچوں ٹیکنالوجیز شاید اس وقت ایک سائنس فکشن فلم کا حصہ معلوم ہوں، تاہم ان کے بقول وہ وقت دور نہیں جب ان ٹیکنالوجیز کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی محال ہوگا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!