Published From Aurangabad & Buldhana

ٹرمپ کی موجودگی میں یو اے ای اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر کئے دستخط

واشنگٹن : یو اے ای اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ معمول پر تعلقات کو کل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں حتمی شکل دی گئی اور تینوں ممالک نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان معاہدوں کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے انہیں ’نئے مشرق وسطی کا آغاز‘ کہہ کر خوش آمدید کیا ہے۔

واضح رہےسنہ 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد یہ دونوں خلیجی ریاستیں اسے تسلیم کرنے والے تیسرے اور چوتھے عرب ممالک ہیں۔واضح رہے کہ بیشتر عرب ریاستوں نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کر ا ہوا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسرائیل سے تنازعہ کے بعد ہی تعلقات استوار کرنے کی جانب کوئی قدم اٹھائیں گے۔

اسرائیل کے کمزور اور بدعنوانی کے الزامات سے گھرے ہوئے وزیراعظم نتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ’یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘ اس کے بر عکس فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں سے صرف اسرائیلی انخلا ہی مشرق وسطی میں امن قائم کر سکتا ہے۔

واضح رہے جو ان معاہدوں کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور خلیجی ممالک کو تجارت کرنے کے کئی نئے مواقع ملیں گے۔ معاہدہ کرنے والے عرب ممالک کو امید ہے کہ اس کے بعد امریکہ سے ہتھیار لینے میں آسانی ہوگی۔ ان معاہدوں کا زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوگا کیونکہ اس کی خطہ میں تنہائی کم ہوگی اور اس کو تجارت کے لئے نئے ممالک مل جائیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان معاہدوں کو امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر بھنایا جائے گا۔ یہ معاہدے جہاں ایران کے لئے نئے مسائل پیدا کریں گے وہیں بہت ممکن ہے کہ یہ فلسطین کے لئے ایک بڑا دھوکہ ثابت ہوں۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!