Published From Aurangabad & Buldhana

وسندھرا کو لگا ’زور کا جھٹکا‘، گورو یاترا پر سرکاری پیسہ نہ لگانے کا عدالتی حکم

راجستھان میں ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی کوششوں میں مصروف وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے ان دنوں ریاست گیر ’گورو یاترا‘ نکال رہی ہیں۔ عدالت نے اس یاترا میں سرکاری پیسہ استعمال نہ کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

آئندہ راجستھان اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں ’گورو یاترا‘ کے نام سے انتخابی یاترا نکال رہیں وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کو راجستھان ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ وسندھرا راجے کی اس یاترا کے خلاف دائر ایک مفاد عامہ عرضی پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے راجستھان ہائی کورٹ نے بی جے پی کی اس ’گورو یاترا‘ میں سرکاری خرچ کے استعمال پر روک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ گورو یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کو چھوڑ کر دیگر کسی وزیر یا افسر کی گاڑیوں پر سرکاری پیسے خرچ نہیں ہوں گے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے جج جی آر مول چندانی نے بدھ کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا اور کہا کہ انتخابی دورہ یعنی ’گورو یاترا‘ پر سرکاری خرچ نہیں ہونا چاہیے۔

غور طلب ہے کہ کانگریس لگاتار اس گورو یاترا پر سرکاری مشینری اور خرچ کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر روک لگانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ گزشتہ دنوں راجستھان ریاستی کانگریس کے صدر سچن پائلٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے ذریعہ یاترا میں سرکاری نظام کے غلط استعمال پر اعتراض ظاہر کرنے کے باوجود پنڈواڑا-آبو میں گورو یاترا کے مینجمنٹ کے لیے ریاست کے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ نے پھر سے ٹنڈر مدعو کیا ہے۔ انھوں نے اسے عدلیہ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کی روک کے باوجود پی ڈبلیو ڈی کے ذریعہ ٹنڈر منگانا عدالت کے رخ کی مکمل طور پر خلاف ورزی ہے۔ پائلٹ نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی حکومت ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بالکل بھی عزت نہیں کرتی۔

دوسری طرف راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت نے بھی سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی کی گورو یاترا کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اشوک گہلوت نے مطالبہ کیا تھا کہ چیف سکریٹری کو سبھی کلکٹروں اور افسران کو اس پارٹی یاترا میں کسی بھی طرح کی شراکت داری سے روکنے کے لیے ہدایات جاری کرنے چاہئیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں کانگریس نے راجستھان ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر الزام عائد کیا تھا کہ وسندھرا راجے سرکاری خزانے سے انتخابی یاترا پر نکلی ہیں اور اپنی اس یاترا کے دوران کلکٹر اور ایس پی کی مدد سے لوگوں کو بلا رہی ہیں۔ کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ اس یاترا میں منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والوں کو بلا کر بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے سمجھایا جا رہا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے بی جے پی اور راجستھان حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا جس کے جواب میں راجستھان کی وسندھرا راجے حکومت نے کہا تھا کہ یہ بی جے پی اور ریاستی حکومت کی ملی جلی یاترا ہے۔

اس سے قبل ایک دیگر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے بی جے پی سے حلف نامہ داخل کر خرچ کی تفصیل دینے کے لیے کہا تھا۔ یہ عرضی وکیل ڈاکٹر وبھوتی بھوشن شرما اور سوائی سنگھ نے دائر کی تھی۔ عرضی میں ریاستی حکومت کے ذریعہ یکم اگست کو پی ڈبلیو ڈی کو گورو یاترا کے انتظام کی تیاری کرنے کے لیے دیے گئے حکم پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ عرضی میں پی ڈبلیو ڈی محکمہ کے دو احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یاترا کے لیے سرکاری محکمہ کے ذریعہ سبھی طرح کا انتظام کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے جب کہ یہ بی جے پی کی انتخابی یاترا ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس یاترا میں سرکاری پیسے اور مشینری کا غلط استعمال ہو رہا ہے جسے روکا جانا چاہیے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!