Published From Aurangabad & Buldhana

وزیر اعلیٰ کے تیقن کے بعد بھی پولس کی طرف سے احتجاجیوں کی گرفتاریں جاریں

ممبئی:۔ پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایا کہ ریاست بھر سے اب تک 3000کے قریب افراد کو قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ممبئی:۔ بھاریپ بہوجن مہاسنگھ کے صدر پرکاش امبیڈکرنے ان کے اور دلتوں کے ذریعے کئے گئے مہاراشٹر بند کے بعد پولس کی جانب سے کئے جارہے اقدامات پر بروز بدھ حکومت پرسخت تنقیدکی ہے۔ پولس کی کاروائی کو غیر قانونی بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو لے کرہائی کورٹ سے رجوع ہونگے۔ پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پوری ریاست سے پولس نے تقریباً 3000افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں سے صرف ممبئی سے 125افراد ہیں۔ان 125میں سے 16بچے ہیں۔ پرکاش امبیڈکر نے مزید کہا کہ میری معلومات کے مطابق قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔
اس سے پہلے پرکاش امبیڈکر نے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر دیویندر فرنویس سے درخواست کی تھی کہ وہ پولس کی کاروئی کو روکیں۔ ان کے مطابق اس درخواست کو مانتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کاروائیوں کو روک دیں گے۔ لیکن ہمیں یہ اطلاع ملی ہیکہ پولس کے ذریعہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پولس نے احتجاج کرنے والوں کو اورنگ آباد، کولہاپور ، ناندیڑ، لاتور اور ممبئی کے کلیان ، چیمبور، گونڈی و پوائی سے گرفتار کیا ہے اور ان افراد پر قتل کی سازش جیسے سنگین قلمیں لگا دی گئی ہیں۔ ناندیڑ ضلع کے خندھار میں ہوئے ایک حادثہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہاں16سالہ جوگیش جادھو کی اس معاملہ میں لاٹھی چارج کی وجہ سے اس کے اسکول میں موت واقع ہوگئی ہے۔اور اس معاملہ ابھی تک کوئی FIRبھی نہیں درج ہوئی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں صاف پایا گیا ہے کہ اس کی موت سر پر لگے زخم کی وجہ سے ہوئی ہے اور پولس سپریٹینڈینٹ اور ضلع کلیکٹر ان لاٹھیوں کو ثبوت کے طور پر جمع کرنے تیار بھی نہیں۔
پرکاش امبیڈکر نے مزید کہا کہ ہندوتو وادی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ کو وارننگ دی ہے کہ وہ پونے پولس کے ذریعہ سمبھاجی بھیڑے جو کہ شری شو پرتیشٹان ہندوستان کے صدر ہیں ان کے خلاف کو کاروائی نہ کریں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!