Published From Aurangabad & Buldhana

ودربھ کی مشہور سیاسی شخصیت مقیم احمد اور مولانا شفیع قادری کا سنسی خیز قتل

اکولہ: اکولہ کےعام آدمی پارٹی کے رہنما مقیم احمد اور بلڈانہ ضلع کے ساکھر کھیڑا کے مولانا شفیع قادری کا ۳۰ ؍ جولائی کو سنسی خیز قتل کردیا گیا ۔ سنیچر کو دو پہر ان دونوں افراد کے مردہ جسم بلڈانہ ضلع کے دیول گاؤںساکر شاہ کے قریب واقع پاتھرٹی جنگل میں ملنے سے سنسی پھیل گئی ہے۔ واضح رہے کہ مقیم احمد گزشتہ ۳۰ ؍ جولائی سے لاپتہ تھے ۔ واقع کچھ یوںہے کہ مقیم احمدجوکہ اکولہ میں رہتے ہیں اور مولانا شفیع قاردی یہ ساکھر کھیڑا کے رہنے والے ہیں ا گزشتہ دو مہنوں سے مقیم احمد کےساتھ اکولہ میں آکر رہیں رہے تھے کیوں کے ان کو ان کے ڈرائیور ان کے ساتھ تنازعہ ہونے کی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا تھا۔ ۳۰

؍ جولائی کو مقیم احمد کو مولانا تصور اکولہ کے آزاد نگر میں رہتے ہیں انھوں نےمقیم احمد اور مولانا شفیع قادری کی دعوت دی تھی تقریبادو تین دن سے دعوت دے رہے تھے آخرکار ۳۰ ؍ جولائی کی رات میں مقیم احمد اور مولانا شفیع قادری کی دعوت کے لیے مولانا تصور کے گھر پر گئے ْ وہاںکھانا کھاتے ہوئے شیخ کوثر اور ان کے ساتھ تقریباً۱۰؍ افراد نے مقیم احمد اور ان کے ساتھی مولانا شفیع قادری پر حملہ کیا اور ان کو جان سے مار کر ان کی لاش کو بلڈانہ ضلع کے دیول گاؤں ساکر شاہ کے جنگل میں پھینک دی ہے ۔ اس ضمن میں مقیم احمد کی بیوی نے تین دن پہلے مولانا تصور خان ، شیخ کوثر ،شیخ چاند ، عظیم ،شیخ قلندر ، شیخ مظفراور شیخ عقیل اور کچھ مجرموں پر فرد جرم داخل کیا گیا تھا۔

ہمارے نمائندہ سے بات کرنے پر پولیس انسپکٹر انور شیخ نے بتایا کہ تمام مجرموں پر دفعہ ۳۰۲، ۳۶۵،۱۲۰ بی کے تحت معاملہ اکولہ کے تھانے دارملّے صاحب نے درج کیا۔انور شیخ نے بتایا کے مقیم احمد کی بیوی شہنازنے پولیس میںاپنے شوہر کے غم ہونے کی شکایت درج کرائی اور ان کو شک کے بنیاد پر مولانا تصور خان ،شیخ کوثر، شیخ چاند، عظیم، شیخ قلندر، شیخ مظفراورعقیل ان افراد کے نام سے شکایت کی تھی کیوں کی مقیم احمد نے اپنے گھر سے جاتے وقت میں مولانا تصور کے گھر پر دعوت کے بارے میں ذکر دیا تھا۔

اس پورے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اکولہ کے ایس پی راکیش کلا ساگر نے ۶؍ پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم کو مقیم احمد اور ان کے ساتھی مولانا شفیع قادری کی تلاش کا کام سونپا۔ ان ضمن میں پولیس اہلکار وں نے بلڈانہ ضلع کے جانے پھل ، ساکھر کھیڑا ، مہکر ان علاقوں کی خوب تلاشی لی اور جن لوگوں کے نام پر شکوک تھے ان میں سے مولانا تصور کو ریمانڈ پر لیا اور انھوں نے سنیچر کو اس بات کو قبول کیا کے مقیم احمد اور ان کے ساتھی مولانا شفیع قادری کو میرے گھر پر پھانسی دے کر قتل کر دیا گیا اور ا ن کے مردہ اجسام کودیول گاؤں ساکر شاہ کے جنگل میں پھنک دیا گیا ہے پولیس کی تفتیش کے بعد دونوں افراد مقیم احمد اور مولانا شفیع قادری کے مردو اجسام کو بری حالت میں دیکھا گیا اور اسی جگہ پر ان کے پوسٹ مارٹم کے لیے ڈاکٹروں کا عملہ بلایا گیا۔ مقیم احمد کے بڑے بھائی شمیم سے با ت کرنے پر انھوں نے بتا یا کہ سنیچر رات میں ۱۰ بجےرات میں مقیم احمد کی تدفین عمل میں آئےگی۔
(بشکریہ کاوش جمیل)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!