Published From Aurangabad & Buldhana

عمر خالد پر بندوق سے جان لیوا حملہ، بال بال بچے

جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد پر دلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر حملہ کیا گیا۔

جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد پر دلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر حملہ کیا گیا۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، خالد پر کسی نامعلوم شخص نے گولی چلائی۔ تاہم وہ بال بال بچ گئے۔ موقع پر پہنچی پولیس نے عمر خالد کو سیکورٹی میں لے لیا ہے۔

دلی کے جوائنٹ پولیس کمشنر اجے چودھری نے اس واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ عمر خالد اپنے دوستوں کے ساتھ ایک اسٹال پر چائے پی رہا تھا۔ تبھی ایک شخص نے خالد پر پیچھے سے حملہ کر دیا جس سے وہ نیچے گر گیا۔ وہ محفوظ ہیں۔ ہم حملہ کی جانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اس پروگرام کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

واضح ہو کہ عمر خالد ’یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ‘ کے ذریعہ منعقد پروگرام ’ خوف سے آزادی‘ میں شامل ہونے گئے تھے۔ تاہم پروگرام سے پہلے ہی خالد عمر پر کسی نے فائرنگ کر دی۔ جائے حادثہ سے پستول برآمد کر لی گئی ہے۔ حالانکہ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہو گیا۔

عمر خالد نے بتایا کہ ’’ ہمارے ملک میں خوف کا ماحول ہے جو بھی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے اس طرح کی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔

ایک چشم دید نے اے این آئی کو بتایا کہ ایک تقریب میں وہ ہمارے ساتھ تھے۔ ہم چائے کی دکان پر کھڑے تھے تبھی سفید شرٹ پہنے ایک شخص وہاں آیا اور اس نے عمر پر فائرنگ کی۔ خالد کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے گر گئے۔ انہیں گولی نہیں لگی۔ ہم نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن اس نے ہوائی فائرنگ کی اور فرار ہو گیا۔ اس دوران اس کی پستول وہیں گر گئی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!