Published From Aurangabad & Buldhana

واجپئی جی کے اچھے لگنے کے لئے مودی لگے، مودی کے اچھے لگنے کے لئے پتہ نہیں کون ہوگا

(موت تو اٹل ہے ،واجپئی نے بھی۔ہاری اس سے جنگ)

فرق: ابن فرقان
کل ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے مشہور لیڈر اٹل بہاری واجپئی جی کا انتقال ہوگیا۔ واجپئی کا انتقال 93سال کی عمر میں ہوا۔ وہ بی جے پی کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ واجپئی نے تقریباً50سال سے زائد سرگرم سیاسی زندگی گذاری جس میں سے وہ تقریباً 40سے زیادہ اپوزیشن میں رہے۔

واجپئی جی کے انتقال کے بعد ان سے متعلق بہت سی باتیں کہی گئی جس میں سے زیادہ طر انکی تعریف ہی میں تھی۔ وہ اپنی مکمل سیاسی زندگی میں سنگھ کی سیاسی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ہی سے جڑے رہے۔ کئی مرتبہ ان سے متعلق کہا گیا کہ ’ ایک صحیح آدمی غلط جگہ چلا گیا ہے‘ (A right man in the wrong party)، تو انکے پاکستان کے دورہ پر نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر وہ پاکستان سے بھی الیکشن لڑیں تو جیت جائیں گے۔وہیں کشمیر دورہ اور کشمیریت سے متعلق انکے خیالات پر بھی انکو کشمیر میں شہرت ملی تھی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے یا اپوزیشن میں ہر وقت بنیادی قدروں کو ملحوظ رکھا تھا۔ کبھی مخالفت میں نا مناسب الفاظ کا استعمال نہیں کیا۔ کوئی یہ بھی کہتا ہے کہ وہ کبھی بھی اڈوانی کی رتھ یاترہ میں شریک نہیں ہوئے۔

ہاں لگتا تو ہے لیکن ہم واجپئی جی کو آج کی بی جے پی کے موازنہ کے بجائے یا بی جے پی کے اس وزیر اعظم کو آج کے بی جے پی کے وزیر اعظم کے مقابلہ میں جانچے تو شاید بالکل ایسا ہی لگے گا۔ لیکن اگر ہم اسی دور کا ذہن لے کر سرگرم واجپئی جی کے بارے میں سوچیں تو شاید ایسا نہ لگے۔

یہی واجپئی جی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں گجرات جیسا سنگین سانحہ ہوا تھا۔اس کے بعد آپ نے گجرات جا کر صرف راج دھرم نبھانے کی بات کی تھی لیکن کوئی مناسب کاروائی نہیں کی تھی۔ انہیں واجپئی جی سے متعلق مصنفہ و صحافی نینا ویاس لکھتی ہیں کہ واجپئی جی کے بارے میں ایک بات تو یقینی ہے کہ وہ ہمیشہ سنگھ کے وفادار تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مرتے دم تک بی جے پی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ گجرات پر خاموش رہے۔مزاج میں نرمی ضرور تھی، سماج کا خیال ضرور نظر آتا تھا اور بہترین مقرِّر ضرور تھے لیکن وہ بھی آر ایس ایس سے آگے نہ جا سکے تھے۔ اس لئے کہ وہ ایک بہترین سویم سیوک بھی تھے۔ وہ کبھی بھی سنگھ کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ستمبر 2000میں نیویارک میں سمندر پار اپنے دوستوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ، ’ایک دن وہ وزیر اعظم نہیں رہیں گے، لیکن جو ایک بار سویم سیوک بن گیا ، وہ ہمیشہ سویم سیوک رہتا ہے‘۔ انہوں نے حکومت سے زیادہ سنگھ سے تعلق کو ترجیح دی تھی۔ ایمر جنسی کے بعد بنی جنتا پارٹی کی حکومت سے جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی دوہری رکنیت کے سوال پر انہوں نے سنگھ کی رکنیت چھوڑنے کے بجائے حکومت سے استعفیٰ دیا تھا۔

یہ بھی ضرور آتا ہے کہ انہوں نے گجرات فساد کے وقت دخل دینا چاہا تھا لیکن اڈوانی اور جیٹلی نے انہیں روک دیا تھا لیکن تب بھی وہ ایک وزیر اعظم تھے اور آج اسی غلطی کے نتائج اڈوانی و جیٹلی بھی بھگت رہے ہیں۔ گجرات فسادات کے بعد گوا میں ایک جلسہ میں انہوں نے اپنی سب سے زیادہ فرقہ وارانہ تقریر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم ہر جگہ پریشانی کھڑے کرتے ہیں اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔

جو لوگ صحیح آدمی غلط پارٹی میں والی بات کہتے ہیں وہ ہوسکتا ہے کہ آج کچھ ٹھیک لگے لیکن انکی سرگرم زندگی میں صحیح نہیں لگ سکتی تھی۔ واجپئی مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر ہندو اکثریت کمیونٹی کے رحم پر رہنے کی اجازت دینے کے ہندوتو اور گوولکر کے نظریہ کے متعلق اسی طرح سے پوری عقیدت رکھتے تھے جس طرح سے وزیر اعظم نریندر مودی اور RSSکے چیف موہن بھاگوت رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ ہندی کے ایک شاعر بھی تھے ،انہوں نے ایک نظم لکھی تھی جس کا عنوان ’ہندو تن من ہندو جیون‘ تھا جس سے انکی پہچان صرف ہندو کے طور پر ہوتی تھی۔

انسان کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ بڑی خرابی کو دیکھ کر چھوٹی خرابی کو اچھا کہنے لگتا ہے۔ آج جب ہندوستان کے وزیر اعظم ملک کی اقلیت کے مسائل سے نہ صرف سرف نظر کرتے ہیں بلکہ منفی رویہ کا شبہ بھی دیتے ہیں تو ان کہ مقابلہ میں بطور موازنہ ہمارے پاس بی جے پی سے واجپئی ہی کا نام ہے اور وہ پھر ہمکو اچھے لگنے لگتے ہیں۔ ضرور بہ ضرور وہ انکے مقابلے میں بہتر تھے لیکن کیا وہ مکمل انسایت نواز تھے، اگر وہ تھے تو مندرجہ بالا کے واقعات کا جواب کیا ہونا چاہیے؟

آج ہمکو بھی واجپئی مناسب لگتے ہیں اس لئے کہ بدل مناسب نہیں لگتا۔ اور بدل اس وقت مناسب لگنے لگے گا جب انکا بدل کوئی اور غیر مناسب آجائے گا، لیکن اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!