Published From Aurangabad & Buldhana

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ: کچھ ایسے شہداء جنہوں نے بہادری کی داستان رقم کر دی

تنویر احمد

امن پسندی کے لیے مشہور نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز جو کچھ ہوا اس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ ہوئی اور ایک میں لاشوں کے ڈھیر لگا دینے والے برینٹن ٹیرنٹ نے جہاں زیادہ سے زیادہ مسلم نمازیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی وہیں چشم دیدوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا جنھوں نے اپنی شہادت دے کر دوسروں کی جان بچائی۔ 49 شہیدوں میں سے ایسے ہی ایک شہید کا نام داؤد نبی ہے جن کی عمر 71 سال تھی۔ جب داؤد نبی کا بیٹا یما نبی کچھ تاخیر سے نمازِ جمعہ کے لیے مسجد پہنچا تو اسے وہاں ہوئی گولی باری کے بارے میں پتہ چلا اور اس کا ایک دوست رمضان بار بار کہہ رہا تھا کہ ’’تمہارے والد نے میری جان بچائی، تمہارے والد نے میری جان بچائی۔‘‘

داؤد نبی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ پہلے شخص تھے جنھیں شہید ہوئے لوگوں میں پہچانا گیا۔ جب دہشت گرد مسجد میں داخل ہو رہا تھا تو وہ دروازے پر کھڑے تھے اور انھوں نے کہا تھا ’’آ جاؤ بھائی‘‘۔ یہ جملہ داؤد نبی کا آخری جملہ تھا کیونکہ اس کے بعد وہ دہشت گرد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ داؤد نبی کے ایک دیگر بیٹے عمر نبی کا بیان بھی میڈیا میں آ رہا ہے جنھوں نے کہا کہ ’’وہ ڈینس ایونیو مسجد میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بن گئے جب اپنے ساتھی نمازیوں کو بچانے کے لیے دہشت گرد کے سامنے کھڑے ہو گئے۔‘‘ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ جدھر جدھر ٹیرنٹ گولی چلا رہا تھا داؤود اسی طرف بھاگ رہے تھے۔ یقیناً وہ بہت بہادر تھے۔

جن 49 شہیدوں کی خبریں میڈیا میں گشت کر رہی ہیں ان میں سب سے کم عمر شہید کا نام لوکا ابراہیم ہے جو اپنے رشتہ دار کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے گیا تھا۔ اس معصوم نے تو ابھی دنیا دیکھنی شروع ہی کی تھی لیکن دہشت گردی کا شکار ہو گیا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مسجد میں عبادت کے لیے گیا تھا۔ اس کی شہادت کی توثیق اس کے والد اور بھائی دونوں نے کی۔ بھائی عبدی نے بتایا کہ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید ابراہیم زخمی حالت میں اسپتال میں ہوگا، لیکن وہ مسجد میں ہی شہید ہو گیا۔

عبداللہ دِری بھی ان معصوم شہیدوں میں شامل ہے جو اپنے والد کے ساتھ نماز پڑھنے تو گیا لیکن داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے گھر والوں کو غمزدہ کر گیا۔ اس معصوم فرشتے کی عمر چار سال تھی اور وہ اپنے والد و بھائی کے ہمراہ مسجد پہنچا تھا۔ وہ بہت خوش تھا جب اپنے سرپرست کے ساتھ مسجد اللہ کی عبادت کے لیے پہنچا۔ اندھا دھند فائرنگ کے بعد کی ایک تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہی ہے جس میں اس کے جسد خاکی کو اس کے والد اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہیں۔

نعیم راشد اور ان کے بیٹے طلحہ راشد کی شہادت بھی سرخیاں بن رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ نعیم راشد نے اپنے بیٹے طلحہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا اور آس پاس مرد و خواتین کی پڑی ہوئی لاشوں کو بھی دیکھا۔ یہ سب دیکھ کر نعیم انتہائی بہادری کے ساتھ بندوق بردار دہشت گرد کی طرف خالی ہاتھ ہی دوڑ پڑے اور اس کا مقابلہ کیا، اور یہ مقابلہ اس وقت تک کیا جب تک کہ وہ خود شہید نہیں ہو گئے۔ اصل معنوں میں انھوں نے ایک ہیرو کی طرح لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ طلحہ راشد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 21 سالہ کالج طالب علم تھا جو والد کے ساتھ مسجد میں عبادت کے لیے گیا تھا۔

شہیدوں میں حسن آرا پروین کا نام بھی ایک بہادر کے طور پر لیا جا رہا ہے جنھوں نے اپنے شوہر کی حفاظت میں اپنی جان قربان کر دی۔ خبروں کے مطابق وہ اپنے شوہر فرید اور بیٹی کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے گئی تھیں۔ شوہر فرید وہیل چیئر پر تھے جب ان پر برینٹن ٹیرنٹ نے فائرنگ کی۔ لیکن حسن آرا تیزی کے ساتھ اپنے شوہر اور دہشت گرد کے درمیان آ گئیں اور گولیوں کو اپنے جسم پر لے لیا۔ جو بھی اس خاتون کی بہادری قربانی کے بارے میں سن رہا ہے، وہ انھیں حقیقی معنوں میں ’ہیر‘ ٹھہرا رہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!