Published From Aurangabad & Buldhana

نوٹ بندی کے دو سال بعد زخم واضح نظر آنے لگے ہیں: منموہن سنگھ

منموہن سنگھ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو اب ایسا کوئی اقتصادی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے معیشت کو لے کر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نوٹ بندی کے دو سال پورے ہونے کے موقع پر جمعرات کو نریندر مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر نشانہ سادھا اور کہا کہ معیشت کی "تباہی ‘والے اس قدم کا اثر اب واضح ہو چکا ہے اور اس سے ملک کا ہر فرد متاثر ہوا۔

منموہن سنگھ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو اب ایسا کوئی اقتصادی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے معیشت کو لے کر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے کہا، ‘نریندر مودی حکومت نے 2016 میں ناقص طریقے سے اور درست طریقے سے غور کئے بغیر نوٹ بندی کا قدم اٹھایا تھا۔ آج دو سال گزر چکے ہیں۔ بھارتی معیشت اور معاشرے کے ساتھ کی گئی اس تباہی کا اثر اب سبھی کے سامنے صاف ہے۔’

معروف ماہر اقتصادیات نے کہا، "نوٹ بندی سے ہر ایک شخص متاثر ہوا خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہو، کسی بھی صنفی گروپ کا ہو، کسی مذہب کا ہو، کسی پیشہ کا ہو۔ اس نے سب کو متاثر کیا ہے۔ ‘ انہوں نے کہا کہ ملک کے متوسط اور چھوٹے کاروبار اب بھی نوٹ بندی کی مار سے ابھر نہیں پائے ہیں۔

بتا دیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر دو ہزار سولہ کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ان دنوں چل رہے 500 روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ چلن سے باہر ہو گئے تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!