Published From Aurangabad & Buldhana

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے چھوٹی صنعتیں تباہ و برباد : RBIرپورٹ

ممبئی: نوٹ بندی کے بعد جی ایس ٹی نافذ ہونے سے ایم ایس ایم ای سیکٹر کی صنعتوں کی لاگت تعمیل و دیگر لاگتوں میں کافی اضافہ ہو گیا۔ اس سے ایم ایس ایم ای سیکٹر کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ملک میں تقریباً 2 سال پہلے نوٹ بندی اور اس کے ایک سال بعد نافذ جی ایس ٹی نے ملک کے متوسط اور چھوٹی صنعتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ نوٹ بندی نافذ ہونے کے 2 سال بعد بھی ملک کے انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور متوسط (MSME) سیکٹر اب تک اس کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکل پایا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد GST نے تو اس سیکٹر کی حالت مزید خراب کر دی ہے۔ یہ باتیں تو پہلے سے کہی جاتی رہی ہیں لیکن اب یہ انکشاف ریزرو بنک آف انڈیا (RBI) کی ایک تحقیق میں بھی ہوا ہے۔RBI کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ دنوں ملک میںMSME سیکٹر کو لگے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے دو بڑے جھٹکوں کی وجہ سے کپڑا صنعت اور زیورات سیکٹر جیسی صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان سیکٹر میں کام کرنے والوں کو تنخواہ نہیں مل پا رہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد جی ایس ٹی کے آنے سے MSME طبقہ کی صنعتوں میں لاگت کافی بڑھ گئی ہے۔ یہی نہیں، جی ایس ٹی کے آنے سےMSME سیکٹر کی زیادہ تر صنعت ٹیکس کے دائرے میں آ گئی ہیں جو پہلے اس سے باہر تھیں۔

بتا دیں کہ ملک میں MSME سیکٹر کے قریب 6 کروڑ 30 لاکھ صنعتوں میں ملک کے 11 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ یہی نہیں، ملک کی GDP میں بھی MSME سیکٹر کا 30 فیصد تعاون ہے۔ آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق بینکوں کے ذریعہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کو دیا جانے والا قرض نوٹ بندی کے بعد سے کم ہو گیا ہے۔ اس کا اثر انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور متوسط طبقہ کی صنعتوں پر سب سے زیادہ پڑا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ روایتی ذرائع میں ایم ایس ایم ای سیکٹر کو قرض عام طور پر بینکوں کے ذریعہ ہی دیا جاتا ہے۔ حالانکہ زیادہ تر بینک اسٹارٹ اَپ پر یقین نہیں کرتے ہیں اور اس سیکٹر کی صنعت کو قرض دینے کو خطرناک تصور کرتے ہیں۔ ایسے میں بینکوں کے ذریعہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد صنعتوں کی لاگت بڑھنے اور قرض کی شرح سود میں بھی اضافہ ہونے سے اس سیکٹر کی ایک طرح سے کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!