Published From Aurangabad & Buldhana

نوبل انعام جیتنے والی اور "آخری لڑکی” کی مصنف نادیہ مراد کون ہے؟

نادیہ مراد کا تعلق عراق کی اقلیتی یزیدی برادری سے ہے۔ اس نے داعش کے جنگجؤوں کی کنیز بن کرتین ماہ گزارے۔

لندن: اس سال امن کا نوبل انعام جیتنے والی نادیہ مراد کا نام برصغیر ہندوپاک کے لئے قدرے اجنبی سہی، لیکن رہتی دنیا جانتی ہے کہ اس لڑکی کو داعش کی قید میں رہتے ہوئے کتنی تکلیفوں اوراذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نادیہ مراد کا تعلق عراق کی اقلیتی یزیدی برادری سے ہے۔ اس نے داعش کے جنگجؤوں کی کنیز بن کرتین ماہ گزارے۔

نادیہ مراد کو اس دوران کئی بارخریدا اور بیچا گیا اورقید کے دوران جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق نومبر 2014 میں داعش کی قید سے نجات پانے کے بعد نادیہ مراد نے ایک مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد عصمت دری کے بطور جنگی ہتھیاراستعمال پردنیا کی توجہ مبذول کروانا تھا۔

نادیہ مراد نے اپنے اوپر گزرنے والے حالات و واقعات کو اپنی کتاب ’ آخری لڑکی‘ میں بیان کیا ہے۔ نادیہ کی یہ کتاب گزشتہ سال شائع ہوئی تھی۔ نادیہ مراد کو نوبل امن انعام سے قبل 2016 میں کونسل فاریوروپ کی جانب سے ’واکلیو ہیومن رائٹس انعام‘ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی سال نادیہ کوانسانی اسمگلنگ کے خلاف اقوام متحدہ کی پہلی خیرسگالی سفیرمقررکیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ نادیہ نے ایک اوریزیدی خاتون لامیا اجی بشر کے ساتھ مشترکہ طور پر یوروپ میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا سخاروف ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔

نادیہ مراد 1993 میں شمالی عراق میں کوہ سنجار کے علاقے کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی تھی۔ 2014 میں داعش کے جنگجو ان کے گاؤں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران نادیہ کی ماں اور6 بھائیوں کو قتل کردیا گیا، جبکہ گاؤں کی بہت سی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کنیزیں بنا کرجنگجوؤں میں تقسیم کردیا گیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!