Published From Aurangabad & Buldhana

ناندیڑ: سرکاری اناج کی کالابازاری کرنے والے 4 شاطر جعلساز 10 ماہ بعد سی اائی ڈی کی گرفت میں

ناندیڑ : کروڑوں روپیوں کے سرکاری اناج کی کالابازاری کرنے والے 4 شاطر جعلساز ملزمین کو 10 ماہ بعد ناندیڑ میں سی آئی ڈی کی ایک ٹیم نے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ نانڈیڑ کی سابقہ ڈی ایس پی چندر کشور مینا نے 10 ماہ قبل سرکاری اناج کی غیر قانونی طور پر کالا بازاری کرنے والے ایک بین الریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ملزمین 10 مہینے سے پولس کو چکما دے کر گرفتاری سے بچے ہوئے تھے۔ گرفتار کیے گئے ملزمین میں ناندیڑ کے ’موگا ایگرو اناج کمپنی‘ کے مالک اجئے کمار باہیتی، للت کھرانا، ٹھیکدار راجو پرسیوار اور کمپنی کے مینیجر جئے پرکاش تپاڑیا شامل ہیں۔
غریبوں کو کم قیمتوں پر مہیا کیے جانے والے سرکاری اناج کی بڑے پیمانے پر کالا بازاری کیے جانے کی سن گن ملنے پر ناندیڑ کی ڈی ایس پی چندر کشور مینا نے 17 جولائی 2018 کو دیر رات گئے چھاپا مار کر کنٹور مقام پر سرکاری اناج گیہوں اور چاول سے لدے 10 ٹرکوں کو ضبط کیا تھا۔ ان ٹرکوں سے کروڑوں روپے مالیت کا سرکاری اناج ضبط کیا تھا۔اس کے علاوہ کرشنور ایم ائی دی سی علاقہ میں واقع ‘موگا ایگرو اناج کمپنی’ کے گودام سے دیگر ریاستوں کے سرکاری گوداموں سے لایا ہوا کروڑوں کا اناج برآمد کیا تھا۔ اس معاملےمیں کنٹور پولس اسٹیشن میں دس ٹرک ڈرائیوروں سمیت ان ملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔گزشتہ دس ماہ سے یہ ملزمین پولس کو چکما دے رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ ان ملزمین کو بعض سرکاری افسران اور سیاسی قائدین کی پشت پناہی حاصل رہی جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں اس معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کو سونپی گئی۔ اس معاملے کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں جاری ہے۔
ڈی ایس پی چندر کشور مینا کی رہنمائی میں ڈی وائی ایس پی نورالحسن نے پوری جانفشانی سے اس معاملے کی تحقیقات کر کے 4 ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کے سرکاری گوداموں سے اناج ’موگا ایگرو اناج کمپنی‘ کے گوداموں تک لایا جاتا تھا اور کس طرح وہاں سے اسے غیر قانونی طور پر فرخت کیا جاتا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!