Published From Aurangabad & Buldhana

ناندیڑ: اردو گھر میں آگ زنی، لاکھوں کانقصان

ناندیڑ ۔23؍ جنوری (معراج انصاری):ناندیڑ میں افتتاح کا منتظر اُردو گھر آج دوپہر میں آگ لگ جانے سے لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا۔ کئی دنوں سے اُردو گھر میں سرقہ کی وارداتیں ہورہی تھیں لوگ پنکھے ،کرسیاں، بیڈ،نل کی ٹوٹیاں، لائٹ سرقہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن آج بتایا جارہا ہے کہ اے سی کا سرقہ کرتے وقت شاٹ سرکٹ ہوگیا اور بیڈ روم میں آگ لگ گئی جس کی وجہہ سے لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا۔ ریاست مہاراشٹرا کا پہلا اُردو گھر جو ناندیڑ میں تعمیر ہوکر افتتاح کا منتظر ہے اس کی تعمیر پر وقت کی کانگریس حکومت نے 8.5؍ کروڑ روپئے کی خطیر رقم خرچ کر کے انتہائی خوبصورت اور اُردو تعمیرکی شاندار عمارت تیار کی ہے۔ اُردو گھر میں کانفرنس ہال کے علاقہ میٹنگ ہال، میک اپ روم اور مہمانوں کو ٹہر نے کے لئے بیڈروم تعمیر کئے گئے ہیں ۔ ستمبر 2017؍ میں اس کی تعمیر مکمل ہوگئی اور اس کا فتتاح ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے ہاتھوں عمل میں آنا تھا لیکن آخری مرحلہ میں ان کا دورہ رد ہوجانے سے یہ عمارت فی الحال جرائم پیشہ افرادکی آماجگاہ بن گئی ہے۔عمارت مکمل تعمیر ہونے کے بعد کنسٹرکشن کرنے والی کمپنی بلڈ ویل کنسٹرکشن نے یہ عمارت مکمل تکمیل کے بعد ضلع کلکٹر کی سپرد کردی تھی ۔لیکن عمارت میں چوں کہ کروڑوں روپئے کی اشیاء موجود تھیں۔ ضلع انتظامیہ نے اس کی دیکھ بھال کیلئے کوئی خاص توجہ نہیں دی؂ اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے درمیان رائے دہی مرکز بنائے جانے کے بعد وہاں عام لوگوں کی اواجاہی ہونے سے سارقوں کی بھی نظر اس پر پڑ گئی ۔بالآخر گذشتہ روز درمیان اُردو گھر کے عقبی حصہ سے دھواں نکلتا نظر آنے پر علاقہ کے افراد نے اس کی اطلاع فائر بریگیڈ عملہ کو دی ۔فائر بریگیڈ عملہ نے آگ پر فوری قابوپاکر مزید نقصان سے بچایا ۔آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اُردو گھر کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ اُردو گھر کے شائد ہی اب کبھی اچھے دن آئیں گے ۔فی الحال اُردو گھر کو لے کر سیاست تھم گئی تھی لیکن اب اُردو گھر کی آگ سیاست میں شاید پھر سیا سی آگ میں گھی کاکام کرے گی۔ عوامی نمائندے جو اُردو گھر کی ذمہ داری کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے ضلع انتظامیہ ہے۔ اس پر کیا اقدام اٹھاتی ہے۔ جس وقت اُردو گھر میں آگ لگی اس کے کچھ وقفہ بعد ہی دیگلور ناکہ علاقہ میں بڑے پیمانے پر طلباء کی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی ،تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈی پی ساونت، مئیر شیلا کشور بھورے، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین اور بیسوں سیاسی قائدین موجود تھے سب کو اطلاع ہونے کے باوجود کسی نے بھی اُردو گھر جاکر نقصان کا جائزہ لینے کی جسارت نہیں کی۔اگر ابھی بھی فوری اُردو گھر کے افتتاح اور عملہ کی نامزدگی کو لے کر کوئی قدم نہیں اٹھایا تو یقیناً’’اُردو‘‘تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!