Published From Aurangabad & Buldhana

نابالغ جنسی تشدد معاملہ میں پولس اور وکیل کی غلطی سے معصوم کو گزارنا پڑے جیل میں 42 دن

اورنگ آباد:- ایک ویڈیو کلپ میں ایک آدمی کے نابالغ لڑکی سے عصمت دری کرتے ہوئے نظر آنے کے بعد ایک 65 سالہ مدرسہ کے ناظم کی غلط گرفتاری کو لیکر شہر کی چائیلڈ لیبر ویلفیر کمیٹی کی صدر و خاتون وکیل اور اورنگ آباد پولس کے درمیان الزام تراشی کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔
اتفاقاً اس ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد اتر پردیش پولس نے چند ماہ قبل ایک آدمی کو گرفتار کیا تھا۔
اورنگ آباد ضلع کے پیشور پولس اسٹیشن میں صرف وکیل رینوکا پالوے کی شکایت پر 10 مارچ کو کیس درج کیا گیا جس میں پالوے نے کہا تھا کہ اس کی معلومات کے مطابق اس ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا آدمی مدرسہ کا ناظم شیخ غلام ہے۔
اس شکایت کے بعد شیخ غلام کے خلاف عصمت دری اور دیگر جرائم کے تحت کیس درج کرلیا گیا۔ شیخ غلام کو پولس نے 11 مارچ کو گرفتار کرلیا اور 42 دنوں تک جیل میں رکھا گیا۔
لیکن عجب بات یہ ہیکہ پیشور پولس کو کبھی بھی اس ویڈیو کلپ میں موجود لڑکی کا پتہ نہیں چلا اور انھیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس معاملہ پہلے ہی سے اتر پردیش پولس نے کسی اور کو گرفتار کرلیا ہے۔
شیخ کو 21 اپریل کو خصوصی عدالت کی خاتون جج ایس ایس نائک نے رہا کیا جنکو یہ پتا چلا کہ ملک میں یہ ویڈیو کلپ وائرل ہوگیا ہے اور یو پی پولس نے اس معاملے میں گرفتاری بھی کی ہے۔ رہائی کا حکم دیتے ہوئے خاتون جج نے کہا کہ اس کے علاوہ گرفتار شیخ کے متعلق کوئی ثبوت بھی نہیں ملا ہے۔ شیخ کی وکیل ساگر لڈّا نے کہا کہ “اس معاملہ میں شکایت کردہ خاتون وکیل و سامنے کارکن اور پیشور پولس نے اس الزام کی جانچ کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ پولس نے نہ صرف ایک بزرگ آدمی کو گرفتار کرلیا بلکہ اس کی زندگی بھی تباہ کردی”۔ پولس کو بعد میں یہ بات پتہ چلی کے مرزا جاوید نامی شخص جس نے وہ ویڈیو کلپ اس خاتون وکیل کو دکھائی تھی اس نے شیخ غلام کے بیٹے سے دو لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ کے بیٹے نے پولس میں شکایت درج کروائی جس کے بعد فروطی معاملہ میں مرزا کو گرفتار کیا۔ اس بات کا پتہ چلنے پر پولس نے شیخ سے متعلق اپنے رویے کو نرم کرتے ہوئے یو پی پولس کی کاروائی کو کورٹ میں پیش کیا۔
جب اس سے متعلق وکیل پالوے سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ویڈیو کلپ ملنے کے بعد جب وہ دیہی پولس کے پاس شکایت درج کرنے گئی تو انھوں نے اس معاملہ میں پہلے جانچ کرنے کی بات کہی تھی لیکن پولس نے پہلے گرفتار کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!