Published From Aurangabad & Buldhana

میںBJPسے کیوں استعفٰی دے رہا ہوں: شیوم شنکر (بی جے پی الیکشن مہم ذمہ دار)کی کہانی خود کے زبانی

آپ حکومت کے خلاف بولیے اور آپ ملک مخالف بن جائیں گے اور آج کل تو ہندو مخالف بھی

انگریزی سے ترجمہ ۔ ابن فرقان

’’ملک میں سیاسی بحث و گفتگو اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ کم از کم میری زندگی میں۔بے جا طرف داری کی تو حد ہوگئی ہے۔لوگ اپنے فریق کی طرف داری میں اتنے آگے ہیں کہ ثبوتوں کو بھی نظر انداز کررہے ہیں۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ وہ جعلی خبریں پھیلارہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اثر دار پروپیگنڈہ میں ایسی چیزوں کو پھیلانے میں کامیاب رہی ہے کہ اس کے بعد میں اس پارٹی کا حصہ نہیں رہ سکتا۔لیکن کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے میں یہ بتا دو کہ کو بھی پارٹی مکمل صحیح یا غلط نہیں ہوتی ہے۔ ساری حکومت نے کچھ اچھا کیا ہے اور کچھ برا۔

موجودہ حکومت کی اچھائیاں:۔
۱) سڑک کی تعمیر سابق کے مقابلہ تیز ہوئی ہے۔سڑک کی لمبائی ناپنے کا طریقہ بدل چکا ہے۔

۲) بجلی کنیکشن میں اضافہ۔ سابق کے مطابق زیادہ جگہ بجلی پہنچ رہی ہے اور زیادہ وقت کے لئے بھی۔ یہ الگ بات ہیکہ کانگریس کے دور میں پانچ لاکھ گاؤں تک بجلی پہنچی تھی اور مودی کے دور میں 18ہزار گاؤں تک۔

۳) اوپر کی سطح کے کرپشن میں کمی آئی ہے، اب تک تو کوئی بڑا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ویسے UPA۔Iمیں بھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

۴) سوچھ بھارت مشن ایک اچھی شروعات ہے سابق کے مقابل کہیں زیادہ بیت الخلاء4 بنائیں گئے ہیں۔

۵) اْجولا یوجنا بھی ایک اچھی شروعات ہے۔ لیکن پہلا گیس سلینڈر و اسٹو تو مفت آتا ہے لیکن اس کے بعد سے لوگوں کو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اور جب سے موجودہ حکومت نے ذمہ داری سنبھالی ہے گیس سلینڈر کی قیمت دو گناہ (800/۔) سے زیادہ ہوگئی ہے۔

۶) شمال مشرق سے رابطہ بڑھا ہے۔ زیادہ ٹرینیں، سڑکیں اور ہوائی پروازیں بڑھیں ہیں۔

موجودہ حکومت کی بری چیزیں:۔
ملکوں اور نظاموں کو بننے کے لئے دہائیاں اور صدیاں لگ جاتی ہیں لیکن بی جے پی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہیکہ اس نے اس ملک کی چند انتہائی بہترین چیزوں کو تباہ کیا ہے۔

۱) انتخابی بانڈ۔ بنیادی طور پر اس نے کرپشن اور سیاسی پارٹیوں کے کارپوریٹس اور بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعہ خریدے جانے کو جائز کردیا ہے۔یہ بانڈس خفیہ ہوتے ہیں، تو اگر کوئی کارپوریٹ کہے کہ وہ آپکو 1000کروڑ کا انتخابی بانڈ دے گاتو انکو اس کے بدلے کوئی مخصوص پالیسی پاس کرنی ہوگی۔اور اسکی کوئی پیروی نہیں ہوگی۔کچھ اس طرح کرپشن اونچی سطح پر کم ہوا ہے کیونکہ اب کسی فائیل یا حکم نامہ پر دستخط کا معاملہ نہیں رہا بلکہ امریکہ کی طرح سیدھے پالیسی بدلنے کا ہوگیا ہے۔

۲) پلاننگ کمیشن کی رپورٹ:۔ یہ کبھی اعداد و شمار کا بنیادی طریقہ ہوتا تھا۔یہ حکومتی اسکیمات کا جائزہ لیتے اور وہ کیسے چل رہی ہیں بتاتے تھے۔ اب اس کے جانے کے بعد آپ کو اسی پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے جو حکومت آپ کو بتائے(CAGکے آڈٹ آنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے)۔ نیتی آیوگ کا اب یہ کام نہیں رہا وہ بس ایک رابطہ عامہ کی ایجنسی بن گئی ہے۔

۳) CBIاور EDکا غلط استعمال:۔ ان ایجنسیوں کو اب سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عجب یہ ہیکہ یہ ایجنسیاں ان کو ڈراتی ہیں جو نریندر مودی یا امیت شاہ کے خلاف بولتے ہیں۔یہ اختلاف کو ختم کرنے کے لئے کافی ہے جو کہ جمہوریت کا جزوِ لازم ہے۔

۴) جج لوہیا کی موت، سہراب الدین قتل ، کالیکھو پل کا خودکشی کا خط، اننئاو میں بی جے پی MLAکے ذریعہ لڑکی کی عصمت دری اور اس کے والد کا قتل جیسے معاملات کا جانچ میں ناکامی۔ بلکہ سال بھر تک تو FIRبھی درج نہیں ہوئی تھی۔

۵) نوٹ بندی:۔ یہ ایک بڑی ناکامی تھی، لیکن زیادہ بری بات یہ تھی کہ BJPنے اسے قبول تک نہیں کیا۔اس کے لئے دئے گئے جوازات چاہے وہ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنا ہو ، کیش کاروبار میں کمی ہو یا کرپشن میں کمی، سب کچھ وہیات تھا۔ بلکہ اس نے بہت ساری تجارتوں و صنعتوں کو تباہ کردیا ہے۔

۶) GSTکا نفاذ:۔ اسے جلد بازی میں نافذ کیا گیا تھا اور اس نے تجارت کو نقصان پہنچایا۔ پیچیدہ ساخت، الگ الگ اشیاء4 پر الگ الگ دریں، بھرنے کا طریقہ مشکل۔۔۔امید ہیکہ وقت کے ساتھ سنبھل جائے، لیکن اس نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔اس کی ناکامی کو نہ قبول کرنا بھی بی جے پی کے غرور کو درشاتا ہے۔

۷) خارجی پالیسی کا ستیاناس:۔ چین کا سری لنکا میں پورٹ ہے، ساتھ بنگلہ دیش اور پاکستان سے بڑے مفاد جڑے ہیں۔ ہندوستان ان سے گھرا ہوا ہے۔مالدیپ میں ناکامی ہے، ہماری خارجی پالیسی کی وجہ سے ہندوستانیوں کو وہاں کا ویزا نہیں مل رہا ہے۔ جبکہ مودی جی مستقل بیرون ممالک کا سفر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہندوستانیوں کو 2014 سے قبل عالم میں عزت نہیں تھی اور اب انہیں انتہائی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ مودی کی وجہ سے ہندوستانیوں کی عزت میں کو فرق یا بڑھو تری نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب گائے کو لیکر اموات، صحافیوں کا قتل و دھمکی وغیرہ کی وجہ سے بدنامی زیادہ ہوئی ہے۔

۸) اسکیمات کی ناکامی اور اسے قبول کر درست کرنے میں ناکامی:۔ سنسد آدرش گرام یوجنا، میک ان انڈیا، اسکل ڈیولپمنٹ، فصل بیمہ وغیرہ وغیرہ۔ بے روزگاری اور کسانوں کے مسئلہ کو لیکر ناکام ہونے پر قبول نہ کرنے کی ناکامی۔

۹) پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان پر:۔ مودی، تمام بی جے پی وزرا اور حامیوں نے کانگریس پر اس کے دور حکومت میں تیل کی قیمت کولیکر سخت تنقید کرتے تھے لیکن اب یہ سب اپنے اسی عمل کا دفاع کررہے ہیں جبکہ کانگریس حکومت کے مقابلے خام تیل کی قیمت بہت کم ہے۔ یہ بلکل قابل قبول نہیں ہے۔

۱۰) انتہائی اہم بنیاد مسائل سے کنارہ کشی۔ تعلیم اور صحت:۔ تعلیم پر کچھ کام نہیں ہوا ہے جو کہ ملک کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت خراب سے خراب تر ہوئی ہے اور کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ آیوشمان بھارت کے اعلان کے علاوہ صحت کو لیکر بھی کچھ نہیں ہوا ہے۔ اس اسکیم کا اعلان کچھ نہ ہونے سے زیادہ خطرناک ہے۔ انشورنس اسکیمات کا حال بھی انتہائی برا ہے جو کہ امریکی طریقہ کار کی جانب گامزن ہے۔ انتخابی بانڈ کا مسئلہ یہاں بھی بہت بڑا ہے، امید ہیکہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں کچھ ٹھوس قدم اٹھائے گا۔ ہر حکومت کی کچھ ناکامیاں اور غلط فیصلے ہوتے ہیں لیکن یہاں بڑا مسئلہ اخلاقی گراوٹ ہے۔

موجودہ حکومت کے بھدّے کام:۔
اس حکومت کی اصل منفی چیز یہ ہیکہ اس نے منصوبہ بند طریقہ سے اس ملک کے نظام کو بگاڑا ہے۔

۱) اس نے میڈیا پر بھروسے کو ختم کرا دیا ہے۔ اب سے ہر وہ صحافی جو بی جے پی تنقید کرے مطلب اسے بی جے پی سے پیسہ نہیں مل پایا ہے یا وہ کانگریس کی تنخواہ پر ہے۔میں ایسے بہت سے صحافیوں کو جانتا ہوں جن پر یہ الزامات غلط ہیں، لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ وہ صرف اس پر حملہ کرتے ہیں جو کسی مسئلہ کو اٹھاتا ہے۔

۲) یہ بات پھیلا دی گئی ہیکہ سابقہ 70 سالوں میں کچھ نہیں ہوا۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے اور اس سے ملک کی شدید نقصان ہے۔ اس حکومت نے اپنے چار سالوں میں ٹیکس دہندگان کے 4000 کروڑ روپئے اپنی تشہیر پر خرچ کردیے ہیں اور اب یہ عادت بن چکی ہیکام چھوٹے اور تشہیر بڑی۔ مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم نہیں ہیں جنھوں نے سڑکوں کی تعمیر کی ہے۔ ملک کے چند سب سے اچھی سڑکیں جس پر میں نے سفر کیا ہے وہ اکھیلیش یادو اور مایاوتی کے ذریعہ بنائے گئے تھے۔ ہندوستان IT کا پاور ہاؤس 1990 میں ہی بن گیا تھا۔ ہم سابق کے حکمرانوں سے جائز سوال پوچھیں جیسے کانگریس نے پچھلے 70 سالوں میں بیت الخلاء بنانے پر زور کیوں نہیں دیا۔ یہ سوال مناسب لگتا ہے اس وقت تک جب تک آپ آزادی کے بعد کی تاریخ پر دھیان نہ دیں۔ آزادی کے بعد ملک کا بہت برا حال تھا، ملک میں انتہائی غریبی تھی۔ ہمارے پاس بنیادی انفراسٹرکچر کے لیے بھی وسائل نہیں تھے۔ نہرو نے روس کی مدد سے اسٹیل بنانے کے فیکٹری ڈالی ورنہ ہم اسٹیل نہ بناپاتے اور مشینیں بھی نہ بن پاتی۔ ساتھ ہی اس وقت ملک میں سنگین قحط سالی ہوتی تھی اور کئی جانیں چلی جاتی تھیں۔ اس وقت ترجیح کھانہ ہوا کرتا تھا، بیت الخلاء اضافی سہولت مانی جاتی تھی جس کی کسی کو پرواہ نہیں تھی۔ سبز انقلاب آیا اور قحط سالی 1990 تک ختم ہوگئی۔ اب ہمارے پاس دوسرے مسائل ہیں۔ آج بیت الخلاء کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسے 25 سال بعد مودی سے پوچھا جائے کہ انھوں نے ایر کنڈیشنڈ گھر کیوں نہیں بنا کر دیے تھے۔ یہ آج اضافی چیز لگتی ہے، جس طرح بیت الخلاء کانگریس کے وقت میں اضافی سہولت لگتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ پچھلے ستر سالوں میں کچھ نہیں ہوا یہ انتہائی بری بات ہے۔

۳) جعلی خبروں کو پھیلانا اور ان پر ہی بھروسہ کرنا۔چند بی جی پی مخالف جعلی خبریں بھی ہیں لیکن بی جے پی کے فائدے اور حزب اختلاف کے خلاف میں جعلی خبروں کا انبار ہے جسے بہت بڑی تعداد تک پہنچایا گیا ہے۔کچھ تو اس کے ہمدردوں کی طرف سے پھیلائی جاتی ہے لیکن زیادہ طر خود پارٹی پھیلاتی ہے۔ یہ عام طور پر نفرت اور فرقہ واریت کو لیکر ہوتی ہے جو زیادہ خطرناک ہے۔آن لائن خبروں کی ویب سائٹس اس معاملے میں پارٹی کا زیاسہ ساتھ دے رہی ہے جو سماج کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔

۴) ’’ ہندو خطرے میں ہیں‘‘:۔ انھوں نے یہ لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا دیا ہے کہ ہندو اور ہندو مذہب خطرے میں ہیں اور صرف مودی ہی ہیں جو انہیں بچا سکتیں ہیں۔اصلیت میں ہندو جیسی زندگی ابھی جی رہیں ہیں اس سے قبل بھی ایسے ہی جی رہے تھے۔کچھ نہیں بدلا ہے سوائے لوگوں کی ذہنیت کے۔میرے مطابق تو ہندوؤں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہورہی ہے سوائے ذہنوں میں ڈر اور نفرت بھرنے کے۔

۵) حکومت کے خلاف بولیے اور آپ ملک مخالف بن گئے اور اب تو ہندو محالف بھی:۔ حکومت پر جائز تنقیدکو اس عنوان سے دبادیا جاتا ہے۔ اپنی ملک کی محبت کو ثابت کیجیے،ہر جگہ بندے باترم گائیے (جبکہ بی جے پی لیڈران کو بھی اس کے پورے الفاظ نہیں پتہ ہیں، لیکن وہ آپ پر زور ڈالیں گے کہ آپ پڑھیں)۔ مجھے اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور مجھے اسے کسی کے سامنے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں قومی ترانہ اس وقت گاؤں گا جب میں ضروری سمجھوں اور جب مناسب موقع ہو، لیکن کو ئی اس معاملے مجھ پر زور ذبردستی نہیں کرسکتا۔

۶) بی جے پی لیڈران کے ذریعہ نیوز چینل چلانا جسکا مقصد صرف ہندو ۔مسلم ، وطن دوستی ۔ وطن دشمنی ، ہندوستان ۔پاکستان جیسے عناوین پر بحث کرانا اور بنیادی و ضروری مسائل سے کنارہ کشی اختیار کرناساتھ ہی ملک میں فرقہ واریت کو پروان چڑھانا بن گیا ہے۔

۷) تخریب کاری:۔ ترقی کا مدع اب اوجھل ہوچکا ہے۔ بی جے پی کی اگلے الیکشن کی منصوبہ بندی تخریب کاری اور جھوٹی وطن محبت کو پروان چڑھانا ہے۔مودی جی نے خود اپنی تقاریر میں اس کی شروعات کر دی ہے۔ جناح، نہرو، کانگریس لیڈران کا بھگت سنگھ سے جیل میں نا ملنا (جو کہ ایک جھوٹی بات تھی)، کانگریس لیڈران نے پاکستان کے لیڈران سے ملاقات کر گجرات میں مودی کو ہرانے کا منصوبہ بنایا، یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریر جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے مہارانا پرتاپ اکبر سے عظیم ہیں، JNUکے طلباء ملک مخالف ہیں اور انہوں نے ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کے نعرے لگائیں ۔ یہ اور اس طرح کی تمام چیزیں ایک پروپیگنڈہ تھیں جو خاص مقصد کے لئے اچھالیں گئی تھیں، تخریب کاری کرو، بانٹو اورانتخابات جیتو۔ یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جو میں اپنے لیڈران سے سننا چاہتا تھا، میں ایسے تمام لیڈران کی پیروی کرنے سے انکار کرتا ہوں جو اپنے سیاسی مفاد کے لئے ملک کو دنگوں کی آگ کی نظر کردینا چاہتے ہیں۔

یہ صرف چند ہی چیزیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بی جے پی کیسے ملک کے بنیادی نظام اور مسائل کو اندیھرے میں ڈال دینا چاہتی ہے۔ یہ وہ نہیں ہے جسکے لئے میں جڑا تھا اور میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتا اسی لئے میں بی جے پی سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔
میں نے بی جے پی کا 2013سے ساتھ دینا شروع کیا تھا کیوں کہ مجھے مودی جی میں امید کی کرن نظر آئی تھی اور مجھے انکے ترقی کے پیغام میں بھروسہ تھا۔اب وہ پیغام اور بھروسہ دونوں ختم ہوچکے ہیں۔موجودہ حکومت کے منفی نے اس کے مثبت کو ختم کردیا ہے، لیکن یہ وہ فیصلہ ہے جو ہر ایک ووٹر کو اکیلے لینا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!