Published From Aurangabad & Buldhana

میونسپل کمشنر اور میئر سے مجلس کارپوریٹر نسیم بی کی برسوں کی مسلسل نمائندگی کے سبب رام مندر تا پٹیل ہوٹل راستہ کی وہائٹ ٹاپنگ

اورنگ آباد (سینئر رپورٹر)رام مندر کراڑ پورہ تا روشن گیٹ راستہ کشادگی کے دیرینہ مسئلہ کوحل کرنے میں اہم تعاون دینے کے ساتھ ہی کراڑ پورہ کی مجلس کارپوریٹر نسیم بی سانڈو خان نے رام مندر تا پٹیل ہوٹل راستہ کی وہائٹ ٹاپنگ کیلئے بھی میونسپل کمشنر اور میئر سے ٹھوس نمائندگی کی ۔ گذشتہ تین سالوں کی مسلسل کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ نسیم بی کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے میئر نندکمار گھوڑیلے نے مذکورہ راستہ کی وہائٹ ٹاپنگ کیلئے ایمرجنسی میئر فنڈ سے1 کروڑ روپئے خرچ کو منظوری دے کر میونسپل کمشنر مگلیکر کو تحریری ہدایت دی کہ اس راستہ کے اسٹیمیٹ اور ٹینڈر اجرائی کا عمل فوری شروع کریں۔ مجلس کارپوریٹر نسیم بی کی ہی کاوشوں سے یہ ممکن ہو سکا ہے، جس کے تحریری شواہد بھی موجود ہیں ۔ لیکن اس دیرینہ مسئلہ کے حل اور پٹیل ہوٹل تک راستہ کی وہائٹ ٹاپنگ کا کریڈٹ سابق کارپوریٹر اپنے نام درج کروارہے ہیں ۔ جبکہ اس معاملہ میں ان کا قطعی کوئی تعاون یا کوششیں نہیں ہیں ۔ اسکے باوجود مقامی اخبارات میں یہ بے بنیاد خبریں شائع کروائیں کہ مذکورہ راستہ کی وہائٹ ٹاپنگ انہی کی مرہون منت ہے ۔ یہ سراسر بے بنیاد اور خودساختہ دعوی ہے ، اس طرح کا خلاصہ کراڑ پورہ کے سوشل ورکر اور کارپوریٹر نسیم بی کے فرزند حاجی اسحق خان نے کیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ نسیم بی نے نہ صرف ایک کروڑ خرچ سے وہائٹ ٹاپنگ بلکہ اس راستہ پر ڈیکوریٹیو پول و لائٹ لگوانے بھی میئر سے 25 لاکھ روپیوں کا علیحدہ فنڈ بھی منظور کروایا ہے ۔ کل 15 فروری کی جنرل باڈی میٹنگ میں انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ قرارداد بھی پیش کی گئی ہے ۔ اپنے دعوے کی تصدیق کیلئے حاجی اسحق نے کارپوریٹر نسیم بی کے ذریعہ میئر اور کمشنر سے کی گئی تحریری نمائندگی اور میئر کے ذریعہ منظورکئے گئے مذکورہ کاموں کے لیٹرس بھی نامہ نگاروں کومہیا کروائے ہیں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!