Published From Aurangabad & Buldhana

میئر گھوڑیلے کی ناانصافی اور جھوٹ قابل مذمت : ناصر صدیقی

*میونسپل کمشنر بھاجپا دہشت گردکارپوریٹر س کی رکنیت مستقل طور پر ردکروانے حکومت کو پرپوزل بھجوائیں *جمہوریت اور حق اظہار خیال کے قتل پر حکومت بھی انصاف نہیں کرے تو عدالت سے ہوں گے رجوع

اورنگ آباد 21 اگست (سینئر رپورٹر)گذشتہ 17 اگست کو شردھانجلی کے لئے منعقدہ جی بی میں بھاجپائی کارپوریٹرس نے جس طرح کی ماب لنچنگ کی ، اس کے زندہ ثبوت موجود ہیں ۔ جنرل باڈی میٹنگ کے دوران میئر نندکمار گھوڑیلے کی آنکھوں کے سامنے جمہوریت اور حق اظہار خیال کا اجتماعی قتل کئے جانے کی ویڈیو ریکارڈنگ پوری دنیا میں دیکھی گئی۔ اس کے باوجود میئر نندکمار گھوڑیلے نے میڈیا میں شرمناک اور سفید جھوٹ پر مبنی بیان دیا کہ اس روز جنرل باڈی میٹنگ میں کسی طرح کی مارپیٹ ہوئی ہی نہیں ۔ اخبارات میں میئر نے یہ جھوٹ شائع کروایا کہ ٹکراؤ کے آثار نمایاں ہوتے ہی انہوں نے جی بی ملتوی کر دی تھی اور اپنے اینٹی چیمبر میں چلے گئے تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی غیر موجودگی میں ہوا۔

ایک میئر کو اس قدر جھوٹ بولنا اور بھاجپاکے دہشت گرد کارپوریٹرس کی پشت پناہی کرنا زیب نہیں دیتا ۔وائرل ہوئے سارے ویڈیوز میں اس ماب لنچنگ کے دوران میئر گھوڑیلے کی آوازیں صاف طور پر سنائی دے رہی ہیں ساتھ ہی تصویرمیں میئر اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں ، اس طرح کی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مجلس کے گروپ لیڈر ناصر صدیقی نے الزام عائد کیا کہ میئر اور سٹی چوک پولس نے اس ماب لنچنگ کے معاملہ میں کھلا تعصب اور جانبداری برتی ہے ۔ کاروائی کے نام پر انصاف کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا ہے ۔سید متین کی جانوروں کی طرح پٹائی ہونے کے باوجود سید متین کی رکنیت کو مستقل طور پر منسوخ کرنے اور ان کے خلاف ملک سے غداری کا کیس دائر کروایا گیا جبکہ اجتماعی طور پر دہشت گردی کرنے والے بھاجپاکارپوریٹرس کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ دی گئی۔ ان کے خلاف جان بوجھ کر معمولی سیکشن لگائے گئے تاکہ انہیں ایک دن بھی حوالات میں نہ رکھا جا سکے۔ جبکہ ان حملہ آوروں کے خلاف انتہائی سخت سیکشن کے تحت پولس کیس درج کروائے جانے ضروری تھے۔ میئر گھوڑیلے کا فرض تھا کہ وہ انصاف کا ثبوت دیتے ۔ اس ناانصافی کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔

ناصر صدیقی نے مزید واضح کیاکہ اگر انصاف نہیں کیا گیا تو حکومت سے اس معاملہ میں مع ٹھوس شواہد تحریری شکایت کی جائے گی۔ان بھاجپائی کارپوریٹرس کی رکنیت کو مستقل طور پر ختم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا۔ میونسپل کمشنر سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ حکومت کو اس واقعہ کی مکمل اور دیانتدارانہ رپورٹ پیش کرکے ان کارپوریٹرس کی رکنیت کو ہمیشہ کے لئے ختم کروانے کا پرپوزل بھجوائیں۔ اگر حکومت نے بھی اس ماب لنچنگ کے خلاف کاروائی نہیں کی، انصاف نہیں کیا تو پھر حصول انصاف کی خاطر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا، یہ انتباہ ناصر صدیقی نے دیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!