Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر: چرچ پر پتھربازی، عبادت کر رہے عیسائیوں پر تلوار سے حملہ

مہاراشٹر کے ایک چرچ میں عبادت کر رہے عیسائیوں پر کچھ ہندو شر پسند عناصر کے ذریعہ قاتلانہ حملہ کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ حالانکہ معاملہ اتوار کا ہے لیکن اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور عیسائی طبقہ میں اس واقعہ سے خوف کا ماحول ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ اتوار یعنی 23 دسمبر کو 40 عیسائی کولہاپور کے نیو لائف فیلوشپ چرچ میں عبادت کر رہے تھے تبھی ان پر تلوار، لوہے کی سریا اورشراب کی بوتلوں سے حملہ کر دیا گیا۔ یہ چرچ ممبئی سے تقریباً 474 کلو میٹر دور کرناٹک کی سرحد پر واقع ہے۔

اس حملہ میں کئی عیسائی بری طرح زخمی ہوئے ہیں اور کچھ تو ابھی تک آئی سی یو میں داخل ہیں۔ زخمیوں کو کرناٹک واقع بیلگام کے دو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ پیر کے روز حملے میں بری طرح زخمی ہوئے 20 سالہ سچن باگڑے کے دماغ سے خون کا تھکّا ہٹایا گیا جب کہ چار زخمی اب بھی آئی سی یو میں ہیں۔ یہ اسپتال جہاں زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے وہ جائے حادثہ سے تقریباً 20 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرسمس سے دو دن پہلے چرچ میں صبح تقریباً ساڑھے دس بجے عبادت کا عمل شروع ہوا اور اس کے تقریباً 45 منٹ بعد وہاں شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ حملہ میں زخمی ایک عیسائی خاتون انجم مٹیکر نے بتایا کہ تقریباً 15 سے 20 لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے تھے۔ ان کے پاس لوہے کی راڈ اور تلوار جیسا ہتھیار تھا۔ پہلے انھوں نے چرچ کی عمارت پر پتھر پھینکے اور پھر اندر گھس کر لوگوں پر حملہ کر دیا۔ ایک دیگر زخمی شخص امت بھوسلے نے بتایا کہ حملہ آور نے حملہ کرنے سے قبل تبدیلی مذہب پروگرام منعقد کرنے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ "وہ لوگ تقریباً نصف گھنٹہ تک ہم پر حملہ کرتے رہے۔ جب پولس پہنچی تو سبھی وہاں سے فرار ہو گئے۔”

حملے کے وقت جائے حادثہ پر موجود بنجامن دُتنی نے بتایا کہ "حملہ آور جس وقت وہاں سے فرار ہوئےانھوں نے ہندی میں ہمیں دھمکات ہوئے کہا کہ اگلے اتوار سے چرچ میں کوئی دکھائی نہیں دینا چاہیے۔” چرچ میں عیسائیوں پر ہوئے اس حملے کی پولس تحقیق کر رہی ہے لیکن ہنوز کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!