Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر : عیدالاضحی کی گائیڈلائنس سے مسلمانوں میں ناراضگی، شردپوار کو کرنی پڑی مداخلت

ممبئی : عیدالاضحی کے موقع پر مہاراشٹر حکومت کی جانب سے جاری مبہم گائیڈلائن سے ریاست کےمسلمانوں کی ناراضگی اور بے چینی کولے کر راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے آج اس معاملے میں مداخلت کی اور ان کی قیادت میں وزراء،مسلم اراکین اسمبلی ،مسلم لیڈران واعلیٰ سرکاری افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کاانعقادعمل میں آیاجس میں قربانی کے معاملے میں نئی سہولیات اور نئی رعایتیں دینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ شکایتوں کافوراًازالہ بھی کیاگیااور ایک نئی گائیڈلائن جلد ہی جاری کئےجانے کایقین دلایا۔

ممبئی کے وائی بی چوان سینٹر میں منعقدہ اس میٹنگ میں شرد پوارکے علاوہ وزیرداخلہ انل دیشمکھ ،وزیرمحصول بالاصاحب تھوراٹ ،وزیراقلیتی بہبود نواب ملک،مسلم اراکین اسمبلی ابوعاصم اعظمی ،امین پٹیل ،رئیس شیخ ،ذیشان صدیقی اورسابق وزراءمحمد عارف نسیم خان،باباصدیقی،چیف سیکریٹری سنجے کمار،میونسپل کمشنر اقبال سنگھ چہل ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے داخلہ کنٹے،ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سبودھ کمار جیسوال ،ممبئی پولیس کمشنر پرمبیرسنگھ اوردیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر مسلم لیڈران نے حکومت کی جانب سے جاری گائیڈلائن پر مختلف اعتراضات اٹھائے اور کہاکہ وزارت داخلہ نے عیدالاضحی کے تعلق سے جواحکامات جاری کئے ہیں وہ مسلمانوں کو قابل قبول نہیں ہیں اور اس سے انھیں اپنے مذہبی فریضے کو اداکرنے میں مختلف دقتوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔

سماج وادی پارٹی کے اراکین اسمبلی ابوعاصم اعظمی ورئیس شیخ نے شکایت کی کہ حکومت نے آن لائن بکروں کی خرید کی اجازت تودے دی ہے لیکن جب اندرون ریاست سے ہی بکروں کے ٹرک ممبئی اور اس کے متصلہ علاقوں میں آرہے ہیں تب ممبئی کے سرحدی علاقے پڑگھا ،ملنڈ،دہیسر،ناسک اور دیگر مقامات پر قربانی کے جانوروں کے ٹرکوں کو روکاجارہاہے اور انھیں ممبئی میں لائےجانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

انھوں نے یہ بھی شکایت کی کہ حکومت نے قربانی کے تعلق سے اب تک کوئی احکامات جاری نہیں کئے ہیں اور یہ بھی فیصلہ نہیں کیاگیاہے کہ آیاقربانی کن مقامات پر اداکی جاسکتی ہے اوررہائشی سوسائیٹیوں میں کیاقربانی کرنے کی اجازت ہوگی؟

ابوعاصم اور رئیس شیخ نے مسلمانوں کو عید قرباں میں مکمل رعایت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا او ر کہا کہ ممبئی سمیت ریاست بھر میں سو سائیٹیؤں سمیت گھروں میں قربانی کی اجازت روایت کے مطابق فراہم کیا جائے اگر کوئی اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے تو ا س پر کارروائی کی جائےمبہم گائیڈلائن پر ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے حکومت کوآڑے ہاتھوں لیااورکہاکہ لاک ڈاؤن اورکروناوبا کی آڑ میں قربانی کے عمل کو مشکل بناکر پیش کیاجارہاہے لہذاحکومت فوری طورپر نئی گائیڈ لائن جاری کرے ۔انھوں نےمزید کہاکہ ریاست میں کرونا کی وباکے باوجودبھی تمام بازار جاری ہے اورسبزی منڈی میں مال اور سامان لایا جارہا ہے توپھر عید الاضحی کے موقع پر جانوروںکولائے جانے سے کیوں روکاجارہاہے اور

جانوروں کی منڈی لگانے میں کیاقباحت ہے؟

سابق وزیرمحمد عارف نسیم خان نے اس موقع پر اعلیٰ افسران اور حکومت کے عہدیداران کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ آن لائن بکراخریداری کس کے دماغ کی اپج ہے اور کیایہ ممکن ہے کیوں کہ مذہب اسلام میں قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر اور وہ بے عیب ہے یانہیں اس کے بعد ہی اس کی قربانی کرنے کافیصلہ کیاجاتاہے جو آن لائن خریداری میں ممکن نہیں ہے ۔ نسیم خان نے مطالبہ کیاکہ ممبئی سمیت ریاست کی تمام میونسپل کارپوریشن اور بلدیاتی اداروں کی حدود میں چھوٹے اور بڑے جانوروں کی قربانی کے انتظامات کئے جائیں۔

اس موقع پر اراکین اسمبلی امین پٹیل ،ذیشان صدیقی ،سابق رکن اسمبلی باباصدیقی اور دیگر نے بھی اپنے خیالات پیش کئے اور حکومت کی گائیڈ لائن سے ہونے والی دقتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نئی گائیڈلائن سابقہ روایت کے مطابق تیارکئےجانے کامطالبہ کیااوریقین دلایاکہ سماجی فاصلے کو برقراررکھتے ہوئے مسلمان اپنے اس مذہبی فرض کواداکرنے کیلئے تیارہیں ۔شرد پوارنے اس موقع پر لیڈران اور اعلیٰ افسران کی باتوں کو غور سے سننے کے بعد وزیرداخلہ ودیگر افسران کو ہدایت دی کہ وہ اس ضمن میں جلد از جلد ایسی گائیڈلائین جاری کریں جو مسلمانوں کیلئے قابل قبول ہواور کوروناوائرس کی اس وباکے تعلق سے کئے جانے والے احتیاطی اقدامات بھی اس میں شامل ہو۔

شردپوار سمیت وزیرداخلہ انل دیشمکھ نے بھی قربانی کے جانوروں کے ٹرکوں کو روکے جانے پر ناراضگی کااظہارکیااور افسران کو ہدایت جاری کی کہ اندرون ریاست جب آمد ورفت کے ذرائع جاری ہیں توپھر ان جانوروں کو بھی ممبئی اور متعلقہ مقامات پر روانہ کئے جانے میں آنے والی تمام دشواریوں کو فوری طورپر ختم کیاجائے۔

ذرائع کے مطابق نئی گائیڈلائن میں ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں بھی قربانی کی اجازت ملنامتوقع ہے اوربیرون ممبئی بڑے جانوروں کی بھی قربانی کی اجازت دیئے جانے کے تعلق سے غورکیاجارہاہے لیکن حکومت اپنی مشروط اجازت میں یہ ہدایات جاری کرے گی کہ قربانی کے وقت صرف محدود افراد ہی موجود رہ سکتے ہیں اورصاف صفائی کاخیال رکھتےہوئے قربانی کے بعد جراثیم کش دواؤں کابھی چھڑکاؤ ضرور ی قرار دیاجائے گا۔

یو این آئی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!