Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر: امراوتی میں نقص تغذیہ کی وجہ سے 46 بچوں کی موت

امراوتی ضلع واقع میل گھاٹ میں گزشتہ چارماہ کے دوران کم از کم 46 بچوں کی نقص تغذیہ کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ممبئی ہائی کورٹ نے2016 میں فکرمندی کا اظہارکیا تھا۔

مہاراشٹر کے امراوتی ضلع واقع میل گھاٹ میں گزشتہ چارماہ کے دوران کم از کم 46 بچوں کی نقصد تغذیہ (غذائیت کی کمی) کی وجہ سے موت ہوگئی۔ غذائیت کی کمی سے بچوں کی موت کے اعدادوشماراپریل سے جولائی کے درمیان کے ہیں۔

یہاں امراوتی کے آدیواسی اکثریتی کئی گاوں میں بچوں کی غذائیت کی کمی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، جہاں بچے پیدائش کے وقت سے ہی غذائت کی کمی کا شکارہوتے ہیں اور 6 سال کی عمر تک ان میں سے کئی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ممبئی ہائی کورٹ نے ستمبر 2016 میں اس بات پر فکرمندی کا اظہار کیا تھا کہ مہاراشٹر میں ایک سال کےاندر 17000 بچوں کی غذائیت کی کمی کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اس کے بعد مارچ 2017 میں مہاراشٹرکے وزیرصحت دیپک ساونت نے انکشاف کیا کہ اپریل 2016 سےاگست 2016 کے درمیان 6148 بچوں نےغذائیت کی وجہ سے دم توڑدیا۔

مہاراشٹر میں 90 کی دہائی میں غذائیت کی کمی کے سبب اموات کے سب سے زیادہ معاملے آئے تھے۔ 97-1992 کے درمیان یہاں 5000 بچوں نےغذائیت کی کمی کی وجہ سے دم توڑ دیا۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت نے سبھی کو ہلاکررکھ دیا۔ جہاں ریاستی حکومت اورکورٹ نےاس معاملے پررپورٹ طلب کی۔ وہیں کچھ بین الاقوامی تنظیموں نے غذائیت کی کمی سے لڑنے کے لئے مدد بھی کی، لیکن ابھی بھی غذائیت کی کمی سے بچوں کی موت کا سلسلہ نہیں رک رہا ہے۔

میلگھاٹ میں مہاتما گاندھی آدیواسی اسپتال کے صدر ڈاکٹر آشیش ستو بتاتے ہیں ’’غذائیت کی کمی کی وجہ سے بچوں کو بچانے کے لئے نئی ٹریبیونل ہیلتھ پالیسی کی ضرورت ہے، اس کے لئے پرانی ٹریبیونل پالیسی میں تبدیلی کے لئے کئی عوامی مفاد کی عرضیاں بھی دائرکی گئی ہیں۔

فی الحال ریاستی حکومت نے اس پرکوئی فیصلہ نہیں لیا ہے‘‘۔
ایک غیرسرکاری تنظیم ’’کھوج‘‘ کا بھی ماننا ہے کہ ریاستی حکومت میلگھاٹ میں طبی سہولیات کو لےکربہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ حالانکہ میڈیا میں آنے کے لئے تو کئی لیڈروں اور ٹاپ بیوروکریٹس نے میلگھاٹ کا دورہ کیا، لیکن یہاں غذائیت کا کوئی حل نہیں نکالا گیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!