Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات

معزالرحمان، ناندیڑ۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو توقع سے کم سیٹیں ملی ہیں لیکن جے پی نے بہترین اسٹریٹیجی پلان کی تھی۔
آپ نے ایک تیر سے دو شکار والی بات تو سنی ہوگی لیکن شاہ نے یہاں ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔

◾سب سے بڑا ڈاکہ انہوں نے ‘مسلم-دلت’ ووٹ بینک پر ڈالا اس طرح ایک اہم سیکیولر بریگیڈ بالکل بے اثر ہوگیا۔ اس ووٹ بینک کو اصل مقابلے سے اس طرح علحیدہ کیا گیا کہ ان سے صرف اور صرف سیکیولر پارٹیوں کو نقصان پہنچے۔

◾دوسرا بی جے پی نے شیوسینا کے مقابلے میں بی جے پی کا ایک باغی امیدوار کھڑا کیا اور اسطرح شیو سینا کی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

◾ مسلم اکثریتی علاقوں (جیسے اورنگ آباد، سولاپور، اکولہ، مالیگاوں،ناندیڑ) وغیرہ میں پولارائزیشن میں اضافہ ہوا، جو ہر دو صورت میں ملک و ملت کیلئے نقصاندہ ہے، جبکہ سنگھ کی تو مراد پوری ہوگئی۔ مراٹھا سماج جو ہندوتوا سے بہت پہلے سے نالاں ہے اور اب مسلمانوں کے قریب ہورہا تھا ان میں خلیج بڑھ گئی۔ مہاراشٹرا کی سوشل انجینیئرنگ کے ماہرین جانتے ہیں کہ مہاراشٹر ملک کی پہلی ریاست ہوسکتی ہے جہاں شتریئہ سماج ہندوتوا سے اپنا دامن چھڑا کر مسلمانوں سے سیاسی سانٹھ گانٹھ کر سکتے تھے۔ پچھلے پانچ سالوں میں مراٹھا سماج اور مسلمان جتنے قریب آئے تھے اب اتنے ہی دور چلے گئے ہیں۔ اور اس ایپیسوڈ کا سب سے تاریک پہلو یہ ہیکہ جو مسلم قیادت اور مراٹھا سماج کی قیادت مل کر کام کرتی تھی سب سے پہلے انہوں نے ہی اس قربت کو نقصان پہنچایا ہے۔

◾بی جے پی کے پلان کو سب سے پہلے شرد پوار نے بھانپ لیا اور خاموشی کے ساتھ اپنا پلان لے کر ویسٹرن مہاراشٹرا میں ٹارگیٹیڈ علاقوں میں اترے۔ اس طرح کم ایفرٹ میں زیادہ کامیابی درج کرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے مراٹھوں کے ہر دلعزیز بن گئے۔ اب صورتحال یہ ہیکہ بی جے پی کو غیر مراٹھا وزیر اعلیٰ بنانے میں ناکوں چنے چبوانے پڑیں گے۔ شرقی صاحب نے لکھا ہیکہ کانگریس کی والینٹیری ریٹائرمنٹ لینے والی ٹیم کو شرد پوار سے سیاست کی ٹیوشن لینی چاہئے۔

◾اس الیکشن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ صرف الیکشن میں اتر کر ووٹ تقسیم کرنے والوں کی کوئی عزت نہیں رہتی، جیسے ہی الیکشن کے نتائج آتے ہیں ایسے لوگ منظر نامے سے غائب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ سماج کی تعمیر میں ایفرٹ لیتے ہیں ان کا کچھ نا کچھ مقام باقی رہتا ہے۔

◾مسلم نوجوانوں نے جو اتحاد اور جذبہ کا اظہار کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اب ضرورت ہیکہ ایم آئی ایم اور دلتوں کی دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات کرکے انہیں اسٹیج کی سیاست سے نکل کر بوتھ لیول کی سیاست کرنے کیلئے کہا جائے، اصل میں ونچت آگھاڑی میں موجود پارٹیوں کا کوئی core کیڈر بوتھ لیول پر نہیں ہوتا ہے، ایم آئی ایم، سماج وادی اور دیگر مسلم پارٹیوں کو بھی بھاشن بازی کی سیاست سے آگے بڑھ کر نوجوانوں کو انگیج کرنے اور بوتھ لیول پر کیڈر کو مضبوط بنانے، ماڈل محلے اور مثالی بستیاں بنانے پر دھیان دینے کیلئے آمادہ کرنا چاہئے، اس کا فائدہ نا صرف الیکشن میں ہوگا بلکہ ملک بھر میں ہندوتوا کے مقابلے میں عدل و انصاف پر مبنی نیا سیاسی ڈھانچہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

✅ *مسلمان کیا کریں؟؟*

بعض ساتھیوں نے گروپ میں لکھا ہیکہ مسلم قیادت ابھی انتخابی سیاست کے معاملہ میں نو بلوغت کے دور سے گزر رہی ہے۔ ہوسکتا ہے ایسا ہو۔۔
لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہیکہ یہ افراتفری کا دور ( age of uncertainty) ہے۔ اصل میں جب سیاست اتھل پتھل ہو جاتی ہے تب ہی نئی قیادتوں کو ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور ابھی ملک کی سیاست ایک اہم دوراہے پر ہے یہ کسی بھی سمت موڑ لے سکتی ہے اس پورے سیناریو میں مسلمان نوجوانوں کیلئے بہت مواقع ہیں۔

*لیکن اس سے قبل کچھ باتیں سمجھ لینی چاہئے:*

◾گاڑی کو سدھارنے کیلئے ایک میکانک ہوتا ہے جو پانے لے کر گاڑی کے نیچے جاتا ہے، جبکہ دوسرا ایک میکانکل انجینئر ہوتا ہے جو کبھی بھی پانے لے کر گاڑی کے نیچے نہیں جاتا، البتہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر ڈیزائین بناتا ہے۔ جب ہم ہنر مندی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف پانے لے کر گاڑی کے نیچے جانے والا ہی مراد نہیں ہوتا بلکہ ڈیزائن بنانے والا انجینئر بھی ہوتا ہے۔
سیاست میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، کچھ لوگ مکمل بلیو پرنٹ اور اسکرپٹ بناتے ہیں جو ‘سوشل انجینیرنگ’ کہلاتا ہے اور یہی اصل سیاست ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ جھنڈے لگا کر پرچار کرنے کو سیاست سمجھتے ہیں۔ اور ریلیوں میں مسلم نوجوان کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ان میں سیاسی شعور پروان چڑھ رہا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پانے لے کر گاڑی کے نیچے جانا،
ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلم نوجوانوں اور خاص کر تحریکی افراد کو سیاسی پارٹیوں کے خدوخال طئے کرنا چاہئے، انہیں نقشہ کار بناکر دینا اور بلیو پرنٹ فراہم کرنا چاہئے جھنڈے لےکر کسی کے پیچھے بھاگنا ہی سیاست نہیں ہے۔

◾گیاریج کے کام میں کپڑوں پر دھبے لگتے ہیں جبکہ سیاست میں کردار داغ دار ہوجاتا ہے۔
اسی لئے گیاریج میں یونیفارم اور سیاست میں بھیس بدل کر جانا پڑتا ہے۔
کپڑوں پر لگے داغ اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور دھوئے بھی جا سکتے ہیں لیکن کردار پر لگے داغ سے ناصرف فرد بدنام ہوتا ہے بلکہ آپ جو تحریک لے کر اٹھے تھے بے اثر ہوجاتی ہے۔
اسی لئے مودودی علیہ الرحمہ نے ایک جگہ لکھا ہیکہ:
"اسلام آپ سے ہر چیز کی قربانی چاہتا ہے سوائے کردار کے۔” اسی لئے سیاست میں جانے سے پہلے اس بات کا پکا ارادہ کرلینا چاہئے کہ ہم کبھی بھی اپنے کردار کا سودا نہیں کریں گے۔

(السلام علیکم!۔
میں عام طور پر سیاست پر نہیں لکھتا لیکن اس میں میں نے جس دریچے سے مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات کو دیکھا ہے اسے پیش کیا ہے۔ان مشاہدات سے ذہن کو وسعت ملے گی۔ ان شاء اللہ!! )

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!