Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات: کیا اسد الدین اویسی بگاڑ سکتے ہیں مسلم اکثریتی سیٹوں کا کھیل

سال 2014 میں مرکز کی طرح مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کی کارکردگی بہت شاندار رہی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1960 کے بعد سے پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے جب ریاستی کابینہ میں ایک بھی مسلمان نمائندہ نہیں تھا۔ مہاراشٹر میں 40 اسمبلی سیٹیں ایسی ہیں جہاں پر مسلم ووٹر فیصلہ کن ہیں۔

واضح رہے مہاراشٹر میں ووٹروں کی کل تعداد11.24 کروڑ ہے جن میں 11.56 فی صدی یعنی1.30 کروڑ آبادی مسلم ووٹروں کی ہے۔ شمالی کونکن، مراٹھواڑا اور مغربی ودربھ میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے 40 اسمبلی سیٹوں پر ان کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔

مہارشٹر میں مسلم ووٹروں کی پہلی پسند کانگریس۔این سی پی اتحاد ہے اور یہ ریاست مسلمانوں کے لیے کافی محفوظ رہا ہے جہاں بی جے پی کے دور اقتدار میں فرقہ وارانہ تشدد اور لنچنگ جیسے معاملے نہیں ہوے۔ بیف اور طلاق ثلاثہ جیسے مدوں کی وجہ سے مسلمان بی جے پی سے ناراض ہیں۔ یہاں کی کچھ اسمبلی سیٹوں پر اسد الدین اویسی کی اتحاد المسلمین بھی کافی مقبول ہے اور اس کی مقبولیت کی وجہ سے مسلم ووٹوں میں تقسیم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں بی جے پی کو فایدہ ہو سکتا ہے۔

مہاراشٹر سے ایک بری خبر یہ ہے کہ وہاں سے مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد میں مستقل کمی آ رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنی سیاست کا یہ مزاج بنا لیا ہے کہ وہ اب1990 سے صرف اسی سیٹ سے مسلمان امیدوار میدان میں اتارتے ہیں جہاں پر مسلم اکثریت ہے۔ سال2014 کے اسمبلی انتخابات میں منتخب 9 مسلم ارکان اسمبلی میں سے آٹھ کا تعلق ان اسمبلی حلقوں سے تھا جن کو مسلم اکثریتی حلقہ تصور کیا جاتا ہے۔ این سی پی کے حسن مشرف ایسے رکن اسمبلی ہیں جو مسلم اکثریتی حلقہ سے نہیں جیتے تھے۔ شیو سینا اور بی جے پی کے ٹکٹ پر کوئی بھی مسلمان رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا تھا۔

واضح رہے 1962میں 11، 1967میں 9، 1972میں 13، 1978میں 11، 1980میں 13، 1985میں 10، 1990میں 7، 1995 میں 8، 1999 میں 13، 2004 میں 11، 1909 میں 11 اور 2014 میں 9۔ بی جے پی نے اس مرتبہ بھی کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا پھر بھی یہ کہا جا رہا کہ بی جے پی اور شیو سینا دونوں مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔

ویسے مسلم اکثریتی سیٹوں پر کانگریس اور این سی پی اتحاد کو مضبوط دعویدار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اگر اویسی نے ان سیٹوں پر ووٹ حاصل کیے تو اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہو سکتا ہے اور ان سیٹوں پر کھیل بگڑ سکتا ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!