Published From Aurangabad & Buldhana

مو دی حکومت کی ایک اور ناکامی ظاہر:جھاڑ کھنڈ کے سینکڑوں کار خانوں پر لگے تالے

دن بہ دن ملک کی معاشی حالت بگڑتی جا رہی ہے اور روزانہ کچھ نہ کچھ ایسی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں جو اس معاشی حالت کے مزید بدتر ہونے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ معاشی بحران کی دستک سے ملک میں مختلف سیکٹرس پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اس کا اثر مختلف ریاستوں میں نظر آنے لگا ہے۔ جھارکھنڈ کی حالت تو اس قدر خستہ ہے کہ وہاں کے صنعت کاروں میں ایک ہنگامہ سا برپا ہے۔ یہاں کاروباری طبقہ موجودہ بحرانی حالت کے لیے بی جے پی کی رگھوور داس حکومت کو ہدف تنقید بنا رہا ہے۔

جھارکھنڈ کے صنعت کاروں نے راجدھانی رانچی میں وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے سامنے جمع ہو کر اپنے مسائل کو دور کرنے کی اپیل کی اور ساتھ ہی تاجروں نے شہر کے مختلف مقامات پر بینر لگا کر حکومت کو اپنی پریشانیاں بتائیں۔ لیکن ریاست کی بی جے پی حکومت نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ فیڈریشن آف جھارکھنڈ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ ریاست بھر میں 10 ہزار سے زیادہ صنعتی یونٹ بند ہو گئے ہیں۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ریاست میں دو سال پہلے کاروبار کے لیے بہت اچھے حالات تھے، لیکن اب ماحول بالکل بدل چکا ہے۔ صنعتی ترقی پوری طرح سے رک گئی ہے۔

فیڈریشن کے صدر دیپک مارو نے 21 اگست کو رانچی واقع چیمبر بھون میں ایک میٹنگ کی جس میں کہا کہ جھارکھنڈ میں صنعتوں میں تیزی آنے کی امید پوری طرح سے ختم ہو گئی ہے۔ ریاست میں صنعتی یونٹ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کی بے حسی کے سبب گزشتہ کچھ مہینوں میں تقریباً 1000 چھوٹے اور بڑے صنعتی یونٹ پر تالا لگ چکا ہے۔

دیپک مارو نے ریاست میں صنعت کاری کی بہتری کے لیے ریاستی حکومت کے ذریعہ کوئی قدم نہ اٹھائے جانے کی بات بھی میٹنگ میں کہی۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے وزیر اعلیٰ، وزراء اور افسروں سمیت ہر ذمہ دار شخص تک اپنی بات رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ابھی تک ہمارے مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔ ہمیں اپنی بات رکھنے کے لیے ہورڈنگ کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس کی شروعات ہم نے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے پاس ہورڈنگ لگانے سے کی ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے پاس جو ہورڈنگ لگایا گیا ہے اس پر لکھا گیا ہے ’’ویاپاریوں کی مارمک پکار – اب تو سُدھ لو سرکار‘ (تاجروں کی دردمندانہ پکار-اب تو فکر کرو سرکار)۔ ریاست میں کاروباری طبقہ بجلی کی کمی، بزنس کی کلیئرنس کے لیے سنگل وِنڈو سسٹم کے پوری طرح سے فیل ہو جانے، پولس افسران کی طرف سے ٹرانسپورٹروں کو پریشان کیے جانے، انڈسٹریل علاقوں میں بنیادی وسائل کی کمی کے ساتھ ہی لال فیتہ شاہی، چوری اور جرائم کے واقعات کے مسئلہ کو لگاتار اٹھا رہا ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کی بات نہیں سنتی ہے تو وہ وسیع طور سے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت کو کب کاروباریوں کی پریشانیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے جلد کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا تو جو کارخانے ابھی کسی طرح چل رہے ہیں، ان کے لیے بھی حالات انتہائی دگر گوں ہو جائیں گے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!