Published From Aurangabad & Buldhana

موصل سانحہ : کانگریس کا الزام ، سشما نے متاثرہ کنبوں کو چار سال تک کیا گمراہ ، اب معافی مانگیں

نئی دہلی : چار سال قبل عراق کے موصل سے اغوا کئے گئے 39 ہندوستانی شہری مارے جاچکے ہیں ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے خود پارلیمنٹ کو اس کی اطلاع دی ، جس کے بعد اپوزیشن خاص کر کانگریس مودی حکومت اور وزیر خارجہ پر حملہ آور ہوگئی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ 2014 کا ہے ، وزیر خارجہ نے چار سالوں تک متاثرہ کنبوں کو گمراہ کرکے رکھا ، ایسے میں انہیں معافی مانگنی چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے موصل میں مارے گئے ہر ہندوستانی کے کنبے کو دو دو کروڑ روپے کی مالی مدد کا بھی مطالبہ کیا۔
عراق میں 39 ہندوستانی شہریوں کو مارے جانے کی خبر کی تصدیق کے بعد کانگریس نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا ، جس کے بعد سشما سوراج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کانگریس اب گھٹیا سیاست کی ساری حدیں پار کررہی ہے ۔ اس کے بعد شام میں کانگریس کی جنرل سکریٹری امبیکا سونی نے اس سلسلہ میں پریس کانفرنس کی اور وزیر خارجہ کو گھیرا ۔

امبیکا سونی نے کہا کہ سشما سوراج متاثرہ کنبوں سے جاکر ملاقات کریں اور عوامی طور پر معافی مانگیں ۔ وزیر خارجہ متاثرہ کنبوں کو بتائیں کہ انہوں نے اتنے دنوں تک انہیں اندھیرے میں کیوں رکھا جبکہ ان کے پاس کوئی ٹھوس معلومات نہیں تھی ۔
امبیکا سونی نے کہا کہ کانگریس عراق میں اغوا کئےگئے ان ہندوستانی شہریوں کا معاملہ جولائی 2014 سے ہی اٹھارہی تھی ۔ پارٹی نے پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ کو سبھی ثبوت بھی دئے تھے ، جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ان ہندستانی شہریوں کی زندگی خطرے میں یا انہیں مار دیا گیا ہے۔ امبیکا سونی نے کہا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہرجیت مسیح سمیت ہر شخص کے دعوی کا خارج کردیا تھا ۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ موصل میں یرغمال بنائے گئے ہندوستانی نہ صرف زندہ ہیں بلکہ محفوظ بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اور وزیر خارجہ نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال بنائے گئے ہندوستانیوں کے کنبے گزشتہ چار سال سے اپنے اہل خانہ کا حال جاننے کیلئے در در بھٹک رہے تھے۔ امبیکا سونی کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے ذرائع اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ اغواکئے گئے ہندوستانی شہری زندہ ہیں اور بخیر و عافیت ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان ذرائع کے بارے میں وہ امبیکا سونی کو نہیں بتا سکتیں کیونکہ وہ وزیر نہیں ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!