Published From Aurangabad & Buldhana

مودی حکومت کے خلاف جنتر منتر پر مزدوروں و کسانوں کا امنڈا سیلاب

کسان و مزدور مودی حکومت کی پالیسیوں سے اس قدر پریشان ہیں کہ آج دہلی کے جنتر منتر پر عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ اس دوران انھوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی بدلے ورنہ عوام حکومت بدل دے گی۔

’’کیا آپ کسان ریلی میں جا رہی ہیں، تو پھر میں آپ سے پیسے نہیں لوں گا۔ میں بھی کسان کا بیٹا ہوں۔ حالات بہت خراب ہیں اور حکومت پوری طرح سے غریب کے خلاف ہو گئی ہے۔ میرے گاؤں سے بھی لوگ آئے ہیں‘‘… سامنے سے ریلی چلی آ رہی تھی، لہٰذا یہ کہتے ہوئے فیروز شاہ روڈ پر آٹو والے نے مجھے اتار دیا۔ملک کی راجدھانی دہلی بدھ کے روز مزدور-کسان ریلی کی وجہ سے لال رنگ میں رنگا ہوا نظر آ رہا تھا۔

منڈی ہاؤس سے لے کر جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ، کناٹ پلیس، اشوکا روڈ، رائے سینا روڈ یعنی سنٹرل دہلی کے تمام اہم مراکز پر آج لاکھوں کی تعداد میں 26 ریاستوں سے آئے کسان-مزدور، آنگن باڑی کارکنان، آشا کارکنان، بی ایس این ایل ملازمین، کنسٹرکشن ورکرس، بیڑی مزدور، اسکول ٹیچر، مڈ ڈے میل بنانے والے، کوئلہ مزدور، اسٹیل مزدور، پلانٹیشن مزدور سمیت کھیتی کسانی کرنے والے مزدور ہی نظر آ رہے تھے۔ ملک کی الگ الگ زبانوں میں ایک ہی طرح کے نعرے لگ رہے تھے- ’نیتی بدلو، نہیں تو جنتا سرکار بدل دے گی‘، ’کارپوریٹ لوٹ پر ٹکی مودی حکومت، گدی چھوڑو گدی چھوڑو‘۔ یہ ریلی دراصل سی پی ایم سے منسلک عوامی تنظیموں کی تھی جس میں اہم کردار سنٹر فار انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی اے ڈبلیو یو) نے ادا کیا۔ یہ سارے سی پی ایم سے جڑی عوامی تنظیمیں ہیں۔

اکھل بھارتیہ کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے جنرل سکریٹری حنان مولا نے بتایا کہ ملک میں جو پیداوار کرنے والا طبقہ ہے، یعنی مزدور، کسان و کامگار کھیتی کسانی مزدور، ان سبھی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ملک کی عوام کے خلاف کام کر رہی ہے، لہٰذا گدی چھوڑے۔ انھوں نے کہا ’’کسانوں کے دو بڑے مطالبات ہیں۔ پہلا ہے لاگت کا ڈیڑھ گنا سپورٹنگ پرائس اور خرید کی گارنٹی دی جائے اور قرض معافی و کھیتی کرنے والے کو زمین دی جائے۔ زراعتی مزدوروں کا مطالبہ کہ سال میں کم از کم 200 دن کام اور منریگا کے تحت 300 روپے مزدوری دی جائے اور زراعتی مزدوروں کے لیے ایک سنٹرل قانون لایا جائے۔ اس کے علاوہ پبلک سیکٹر کو جس طرح سے پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کیا جا رہا ہے، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ حنان مولا نے مطالبہ کیا کہ 18 ہزار روپے کم از کم مزدوری طے کی جائے، ٹھیکیداری ختم کر کے باضابطہ ملازمت دی جائے۔

اس ریلی سے پہلے ملک بھر سے دو کروڑ دستخط جمع کیے گئے اور مختلف طبقوں کو غریب-مزدور-کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف متحد کیا گیا۔ بہار کے بھبھوا سے آئی کرن دیوی نے بتایا کہ ’’نتیش حکومت ہو یا مودی حکومت، سب غریبوں پر ظلم کر رہی ہے۔ منریگا کا کام ٹھپ ہے، ملازمت ہے نہیں، مہنگائی سے ہم سب مر رہے ہیں۔ ایسے دیش نہیں چل سکتا۔ حکومت بدلنی پڑے گی۔‘‘

سی آئی ٹی یو کی ہیم لتا نے بتایا کہ ملک بھر میں مزدوروں کی حالت خراب ہے۔ انھوں نے کہا ’’بڑے پیمانے پر ملازمتیں کم کر دی گئی ہیں اور چھنٹی مودی حکومت کے ایڈمنسٹریشن کا حصہ بن گئی ہے۔ مودی حکومت کی مزدور مخالف پالیسیوں نے مزدوروں کو سڑک پر اترنے کے لیے مجبور کیا ہے۔‘‘ آنگن باڑی فیڈریشن کی اے. آر. سندھو نے بتایا کہ ’’ملک بھر سے آنگن باڑی ورکر یہاں آئی ہیں، کیونکہ ہم سب مزدور ہیں۔

ہمیں حکومت کچھ بھی نہیں سمجھتی۔ حکومتیں سبھی منصوبوں کو ہم سے نافذ کروانے پر آمادہ رہتی ہیں، لیکن کوئی سہولت نہیں دیتیں۔‘‘مرکز کی مودی حکومت کو مزدور مخالف، کسان مخالف اور ترقی مخالف قرار دینے میں یہ ریلی بہت حد تک کامیاب نظر آئی۔ خاص طور سے اس میں بیڑی مزدوروں سے لے کر بی ایس این ایل ملازمین اور کوئلہ مزدوروں کا کسانوں و مزدوروں کے ساتھ اترنا ایک الگ قسم کا اشارہ دیتا ہے جو آنے والے وقت میں ملک کی سیاست کی سمت طے کرتا نظر آ رہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!