Published From Aurangabad & Buldhana

مودی اور امت شاہ کے دعووں کا سچ

گزشتہ ہفتےکی فیک نیوزکا تعلق بی جے پی اوراس کی ہم خیال تنظیموں کے آئی ٹی سیل سے اتنا نہیں رہا جتنا خود بی جے پی کے ایم پی سے ، ان میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں ۔غور طلب ہے کہ مودی کے علاوہ بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی راجیہ سبھا میں کچھ ایسے دعوے کیے جو حقیقت کے برعکس نکلے !

محمد نوید اشرفی

نئی دہلی: سب سے پہلے بات کرتے ہیں نریندر مودی سے تعلق رکھنے والی اس خبر کی جس میں مودی کو اس بیان سے منسوب کیا گیا جو انہوں نے دیا بھی نہیں تھا۔ سوشل میڈیا میں عام کیا گیا کہ نریندر مودی نے بنگلورو کی ایک ریلی میں کہا کہ صوبہ کرناٹک میں ابھی بھی تقریباًسات لاکھ ایسے گاؤں ہیں جہاں بجلی نہیں پہنچی ہے۔ مودی کی طرف منسوب کیا جانے والا یہ بیان ایک ٹی وی چینل ‘نیوز نائن’ نے فلیش کے طور پرپیش کیا تھا۔ ٹی وی سکرین کی تصویر فیس بک اور ٹوئٹر پر خوب عام ہوئی اور مودی کا مذاق بناتے ہوئے کہا گیا کہ مودی جی کبھی ہندوستان کی آبادی 600 کروڑبتا دیتے ہیں اور کبھی کرناٹک میں گاؤں کی تعداد سات لاکھ بتا دیتے ہے جب کہ دنیا کو معلوم ہے کہ پورے ہندوستان میں بھی سات لاکھ گاؤں نہیں ہیں ! کانگریس لیڈر پون کھیڈا نے بھی اپنے ٹوئٹر پر مودی جی پر الزام لگایا کہ وہ غلط خبر لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

الٹ نیوز نے اپنی تفتیش سے ظاہر کیا کہ مودی کے بیان میں سات لاکھ گاؤں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ مودی نے کہا تھا:

آپ سوچئے اگر بنگلورو میں ایک دن بجلی نہ آئے تو کیسا ہاہا کار مچ جائے گا ! لیکن کرناٹک میں ایسے سات لاکھ اور پورے ملک میں چار کروڑایسے گھر ہیں جہاں لوگ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی اندھیرے میں جیتے ہیں!

نریندر مودی نے سات لاکھ ‘گھروں’ کی بات کہی تھی جس کو نیوز نائن نے سات لاکھ گاؤں میں تبدیل کر دیا اور اس طرح یہ فیک نیوز عام ہوئی۔

7 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کانگریس پارٹی پر بہت بڑا حملہ بولا۔ مودی نے جو باتیں وہاں لوک سبھا سپیکر کو مخاطب کر کے کہیں ان میں کچھ سچ تھی تو کچھ جھوٹ تھی ۔ جہاں تک NPA یانی نان پروڈکٹو اسیٹس کا تعلق ہے ، مودی نے اس کے حوالے سے کہا :

1- NPA میں اضافے کے لئے کانگریس ہی سو فیصدی ذمہ دار ہے۔

2-مودی سرکار میں بینک کو دیا گیا ایک بھی لون NPA میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔

سرکاری بینک جب کسی کمپنی کو قرض کے طور پر رقم دیتے ہیں تو کبھی کبھی وہ رقم نان پرفارمنگ ایسیٹ یعنی غیر پیداواری اثاثے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور اس تبدیلی کی الگ الگ وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے ملک یا بیرون ملک کی معیشت میں سستی آنا، کمپنی کا بزنس اچھا نہ ہونا وغیرہ۔ نریندرمودی نے جب پہلا دعویٰ لوک سبھا میں کیا کہ NPA میں اضافے کے لئے کانگریس ہی سو فیصدی ذمہ دار ہے تو وہ ان سب وجوہات کو بھول کر صرف سیاسی بیان دے رہے تھے ۔جب کہ دسمبر 2017 کی اپنی رپورٹ میں فنانس منسٹری نے NPA کے لئے قرض دینے کی کثرت، مستقبل میں قرض دینے میں ہونے والی پیچیدگی کا خیال صحیح طریقے سے جائزہ نہ لینا وغیرہ شامل ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فراڈ کی وجہ سے بھی کروڑوں کا نقصان سرکاری بینکوں کو ہوا ہے۔

نریندر مودی نے دوسرا دعویٰ کیا کہ مودی سرکار میں بینک کو دیا گیا ایک بھی لون NPA میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ مودی کا یہ دعویٰ بھی حقیقت کے مطابق نہیں ہے ! بوم لائیو نے اپنی تفتیش میں بتایا کہ سرکار کے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے جس سے اس دعوے کی تصدیق کی جا سکے ، لہذا مودی کے دعوے غلط ہیں !

نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے راجیہ سبھا میں بہت دعوے کیے جن میں کچھ تو صحیح تھے لیکن کچھ غلط ثابت ہوئے۔ شاہ نے کہا کہ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر یعنی DBT اسکیم سے ہر سال تقریباً 57 ہزار کروڑ روپے محفوظ ہو رہے ہیں ۔ دراصل امت شاہ مغالطے کا شکار ہیں۔ سرکاری دستاویز کے حساب سے 57 ہزارکروڑ کی بچت صرف پچھلے سال ہوئی ہے جب کہ 2016 میں یہ بچت صرف 36 ہزار کروڑ کی ہے۔

امت شاہ نے آگے کہا کہ نوٹ بندی کا قدم بہت کامیاب ثابت ہوا ہے اور سرکار نے تین لاکھ سے زیادہ شیل کمپنیاں بند کی ہیں ۔ بوم لائیو کے مطابق یہ دعویٰ جھوٹ ہے۔ وزرات برائے قانون و کارپوریٹ معاملات کے منسٹر آف اسٹیٹ کے لوک سبھا میں دئے گئے جواب کے مطابق صرف دو لاکھ اور 26 ہزار کمپنیاں ہی بین کی گئی ہیں۔

آگے امت شاہ نے کہا کہ تین طرح کے ناسور ہندوستانی سیاست کو ڈس رہے تھے۔ نریندر مودی نے خاندان، ذات اور ا پپیزمنٹ کی سیاست کو ہندوستان سے ختم کر دیا ہے !


اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آزادی کے بعد سے ہندوستان کی مرکزی سیاست میں خاندانی ورثے کا دخل رہا ہے۔ پنڈت نہرو کے بعد آج تک کانگریس پارٹی پر گاندھی نہرو خاندان کا ہی اقتدار ہے، ابھی راہل گاندھی کو کانگریس کا نیشنل پریذیڈنٹ بنایا جانا اس کی دلیل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری پارٹیاں، خاص طور پر بی جے پی، اس عیب سے پاک ہیں۔سنیل

گتاڈےنے دی وائر میں 25 ستمبر 2017 کو لکھا تھا کہ نہ صرف کانگریس پارٹیاں بلکہ بی جے پی اور صوبائی پارٹیاں بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ بھیما کورےگاؤں کا حا لیہ تشدد اس بات کی سند ہے کہ ملک کی سیاست آج بھی ذات کے ناسور سے پریشان ہے۔ امت شاہ کے دعوے کا سچ بوم لائیو کے اس مضمون میں تفصیل سے پڑھا جا سکتا ہے۔

بشکریہ دی وائر

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!