Published From Aurangabad & Buldhana

ممبئی پیٹرن پر ریگولرائز کی جائیں گی غیر قانونی تعمیرات: میئر

*متعلقہ عمارتوں کے دستاویزات جمع کرکے حکومت کی منظوری کے لئے پیش کی جائیں گی فائلیں *جنرل باڈی میٹنگ میں طئے ہو گی پالیسی ،غیر قانونی نل کنکشن کو ریگولرائز کرنے کی مہم بھی ستمبر سے

اورنگ آباد 21 اگست (سینئر رپورٹر)شہری حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کی خاطر میونسپل کارپوریشن نئی پالیسی وضع کرنے جا رہی ہے ۔ اس ضمن میں میئر نندکمار گھوڑیلے نے آج نامہ نگاروں کو اطلاع دی کہ ممبئی پیٹرن کی طرز پر اورنگ آباد شہر میں غیرقانونی طریقہ سے تعمیر کردہ عمارتوں اور مکانات کو ریگولرائز کرنے کے ضمن میں حکومت مہاراشٹر نے خصوصی ابھئے یوجنا کا اعلان کیا تھا۔ جس کی معیاد ختم ہو چکی ہے ۔ لیکن اس کے بعد حکومت نے مہاراشٹر کی تمام میونسپل کارپوریشن کے میئرس کو خصوصی اختیارات تفویض کردیئے ہیں کہ غیرقانونی عمارتوں کو ریگولرائز کرنے اپنی سطح پر منصوبہ بندی کریں اور جنرل باڈی میں تجویز منظور کرکے حکومت کو پرپوزل پیش کریں۔ اسی لحاظ سے ٹاؤن پلاننگ سیکشن کے ٹاؤن پلانر اے بی دیشمکھ کو اس کام کے لئے نوڈل آفیسر مقرر کیا گیا ہے ۔ میئر نے کہا چونکہ غیر قانونی تعمیرات کاتناسب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔ سخت شرائط و اصولوں کی وجہ سے ان عمارتوں کو قانونی بنیاد پر نہ توریگولرائزکیا جا رہا ہے اور نہ تو میونسپل کارپوریشن کو پراپرٹی ٹیکس مل پارہا ہے ۔ اس لئے برائے نام چارجیز کا تعین کرکے غیرقانونی عمارتوں کو ریگولرائز کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے ۔

یکم ستمبر سے حکومت کی منظوری کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہر کی تمام غیر قانونی تعمیرات سے متعلق حق ملکیت پر مبنی دستاویزات کی فائلیں جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا ئے گا۔ تین مہینوں تک فائلیں جمع کی جائیں گی ۔ بعدازاں میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں طئے کردہ پالیسی و چارجیز کے ساتھ حکومت کی منظوری کے لئے ان تمام فائلوں کو بھجوا دیا جائے گا۔ میئر نے بتایا حکومت نے پہلے سے ہی 600 مربع فٹ کے متعلق پالیسی طئے کر رکھی ہے ۔ لہذا اتنی سائز کو ریگولرائز کرلیا جائے گا۔ البتہ اس سے زائد والی تعمیرات پر برائے نام جرمانہ عائد کرکے اسے بھی ریگولرائز کیا جائے گا۔ چارجیز اور جرمانہ کی رقومات کا آئندہ جنرل باڈی میٹنگ میں تعین کیا جا ئے گا۔ اے ، بی اور سی زمروں میں غیر قانونی تعمیرات کو منقسم کرکے چارجیز و جرمانہ طئے کیا جائے گا۔

کمرشیل غیر قانونی عمارتوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ میئر گھوڑیلے نے مزید بتلایا غیر قانونی عمارتوں کے لئے بھی وہی سارے دستاویزات لئے جائیں گے جو گنٹھے واری کے لئے درکار ہیں ۔ اگر رجسٹری کے بجائے بانڈ پیپر ہوں تو انہیں بھی حق ملکیت کا دستاویز تسلیم کیا جائے گا۔ میئر نے اطلاع دی کہ غیر قانونی نل کنکشن کوریگولرائز کرنے کی مہم بھی یکم ستمبر سے شروع کی جائے گی۔ جی بی میں غیر قانونی نل کنکشن کوابھئے یوجنا کے تحت ریگولرائز کرنے کی خاطر 500 روپئے جرمانہ وصول کرنے کو منظوری دی گئی تھی۔ لیکن میونسپل کمشنر نپون وینائک نے حکومت کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے فی کنکشن 1000 روپئے جرمانہ پر رضامندی ظاہر کی تھی، اس لئے ہر غیر قانونی نل کنکشن کے لئے ایک ہزار روپئے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!