Published From Aurangabad & Buldhana

ممبئی پولیس نے کیا ’ٹی آر پی ریکٹ‘ کا پردہ فاش، ریپبلک ٹی وی پر سنگین الزامات، دو افراد گرفتار

ممبئی: خود کو ہندوستان کا نمبر ایک چینل قرار دینے والے ریپبلک ٹی وی پر ٹی آر پی کی ہیرا پھیری کا الزام عائد ہوا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فرضی ٹی آر پی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پرم بیر سنگھ نے ریپبلک ٹی وی سمیت تین چینلوں کا نام ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپبلک ٹی وی رشوت دے کر ٹی آر پی خریدتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ٹی آر پی کے ساتھ ہیرا پھیری کرنے والے گروہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ٹی وی اشتہارات کی صنعت تقریباً 30 سے 40 ہزار کروڑ کی ہے اور ٹی آر پی کی بنیاد پر طے ہوتا ہے کہ کس چینل کو اشتہار کی کیا قیمت ادا کی جانی ہے۔ اگر ٹی آر پی میں تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے چینل کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، کسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے تو کسی کو نقصان۔‘‘

پولیس کمشنر نے کہا، ’’ٹی آر پی کا اندازہ لگانے کے لئے بارک (بی اے آر سی) نامی تنظیم نے ملک بھر میں 30 ہزار پیپل میٹر نصب کیے ہیں جبکہ ممبئی میں 10 ہزار پیپل میٹر نصب کیے گئے ہیں۔ ممبئی میں ان میٹروں کو نصب کرنے کا کام ہنسا نامی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ پرانے ملازم جو ہنسا کے ساتھ کام کر رہے تھے وہ ٹی وی چینل سے ڈیٹا کا اشتراک کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ آپ گھر میں ہوں یا نہ ہوں چینل کو آن رکھنا ہے۔ اس کے عوض وہ لوگوں کو پیسے دیتے تھے۔ جو لوگ ناخواندہ ہیں ان کے گھروں میں انگریزی کے چینل کو آن رکھنے کے لئے کہا جاتا تھا۔‘‘

پرم بیر سنگھ نے کہا، ’’ہنسا کے سابق ملازم کو ہم نے گرفتار کیا ہے۔ اسی بنیاد پر جانچ کو آگے بڑھایا گیا۔ دو لوگوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور انہیں 9 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں کی تلاش کی جا رہی ہے، ان میں سے کچھ ممبئی سے باہر کے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملزمان چینل کے حساب سے پیسہ دیتے تھے۔ گرفتار شدہ ایک شخص کے کھاتہ سے 20 لاکھ روپے ضبط کیے گئے ہیں جبکہ اس سے نقد 8 لاکھ روپے برآمد ہوئے ہیں۔

ٹی آر پی اور پیپل میٹر کیا ہوتا ہے؟
ٹی آر پی یعنی ’ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس‘ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت کسی چینل یا پروگرام کی مقبولیت کا اندازہ سائنسی بنیادوں پر لگایا جاتا ہے۔ اس ڈیٹا سے اشتہار دینے والی کمپنیاں اندازہ لگاتی ہیں کہ کون سا پروگرام ناظرین میں کتنا مقبول ہے۔ اس طرح کمپنیاں اُس پروگرام کو زیادہ اشتہار دیتی ہیں۔ ٹی وی ریٹنگ میں ناظرین کے سماجی پس منظر اور ٹی وی دیکھنے کی عادات سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جاتی ہیں۔ یہ معلومات اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لئے بھی بہت مددگار ہوتی ہیں کیونکہ اس ڈیٹا سے انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت کون سا پروگرام مناسب رہتا ہے۔

ٹی آر پی کے لئے ’’فریکوئنسی مانیٹرنگ میٹر‘‘ استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں ’’پیپل میٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ میٹر منتخب گھروں میں لگائے جاتے ہیں۔ پیپل میٹر برطانوی کمپنی کی ایجاد ہیں جو ایک کتاب کے سائز کا ڈیجیٹل ڈبہ ہوتا ہے جسے ٹی وی کیبل کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے ریموٹ پر موجود بٹن گھر کے افراد کو الاٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ گھر کا جو فرد ٹی وی دیکھنا چاہے گا وہ اپنے الاٹ شدہ بٹن سے ٹی وی آن کریگا۔ اس طرح ڈیجیٹل باکس میں گھر کے افراد کی عمر، جنس، پسندیدہ پروگرام اور وقت کا ڈیٹا اکٹھا ہوتا جائے گا جو پیپل میٹر کی کمپنی کے مرکزی کمپیوٹر یعنی مین سرور میں بھی پہنچ جاتا ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!