Published From Aurangabad & Buldhana

ملیشیا میں عام انتخابات: سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کو ملی تاریخی کامیابی

کوالالمپور۔ ملیشیا کے عام انتخابات میں سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ان کے اتحادیوں نے تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔ مہاتیرمحمد کی 15 سال بعد سیاست میں واپسی ہو رہی ہے۔

ملیشین الیکشن کمیشن کے مطابق مہاتیر محمد اور اتحادی جماعتوں نے 115نشستیں حاصل کیں، حکومت بنانے کے لئے 112نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ حریف جماعت باریسن نیشنل نے 79 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بعض نشستوں پر گنتی کا عمل جاری ہے۔

انتخابات میں جیت کے بعد مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ آج تاریخی فتح حاصل کی ہے۔ میں انتقامی سیاست کا روادار نہیں قانون کی بحالی چاہتا ہوں۔

وزیر اعظم نجیب رزاق کی حکمران جماعت باریسن نیشنل اور مہاتیر محمد کی جماعت کے درمیان مقابلہ تھا۔ ملیشیا میں ہونے والے عام انتخابات میں 14اعشاریہ9 ملین رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ مہاتیر محمد نے برسرِاقتدار باریسن نیشنل اتحاد کو شکست دی ہے جو کہ گذشتہ 60 سالوں سے اقتدار میں ہے۔ اگرچہ مہاتیر محمد نے سیاست سے رٹائرمنٹ لے لی تھی تاہم انھوں نے ان انتخابات میں سیاست میں واپس آ کر اپنے مخالف نحیب رزاق کو شکست دی۔ نجیب رزاق پر بدعنوانی اور دوست پروری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مہاتیر محمد کے حزب مخالف اتحاد نے 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسے حکومت بنانے کے لیے 112 نشستوں کی ضرورت تھی۔

اس موقعے پر مہاتیر محمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ہم بدلہ نہیں چاہتے، ہم قانون کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حلف برداری کی تقریب جمعرات کو ہو گی جس کے بعد مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بن جائیں گے۔

بعد میں حکومت کے ترجمان نے ملک میں جمعرات اور جمعے کو سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔ ملیشیا کے عام انتخابات میں کچھ نشستوں پر ووٹوں کی گنتی باقی ہے تاہم سرکاری نتائج نے ظاہر کر دیا ہے کہ مہاتیر محمد کے پکتان ہرپن اتحاد نے برنیو میں سبھا ریاست اتحاد کے ساتھ مل کر 115 نشستیں جیت لی ہیں۔ جیسے ہی انتخابات کے نتائج واضح ہونے لگے حزب مخالف کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

ملیشیا کی برسرِاقتدار باریسن نیشنل اتحاد اور اس کی بڑی جماعت دی یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن نے 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملکی سیاست پر غالب رہی تھی تاہم حالیہ برسوں کے دوران اس کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ خیال رہے کہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں حزب مخالف کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں کر پائی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!