Published From Aurangabad & Buldhana

ملک کے 1700سے زائد ایم پی اور ایم ایل اے پرسنگین مجرمانہ مقدمات کی سماعت جاری:مرکزی حکومت نے دی سپریم کورٹ کورپورٹ

اتر پردیش248ایم پی و ایم ایل اے کے ساتھ سر فہرست، تمل ناڈو میں 178، بہار میں 144اور مغربی بنگال میں 139ملوث

نئی دہلی:۔ہندوستان کے 1700سے زائد ممبران پارلیمنٹ اور ممبران ریاستی اسمبلی پر 3045مجرمانہ مقدمات سماعت (TRIALS)جاری ہیں اس طرح کی رپورٹ مرکز نے سپریم کورٹ کو دی۔
مقدمات کی اس فہرست میں اتر پردیش تمام ریاستوں کے مقابلے سب سے آگے ہے، اسکے بعد تمل ناڈو پھر بہار اور پھر مغربی بنگال کا نمبر آتا ہے۔ اتر پردیش کے 248ایم پی اور ایم ایل اے پر سنگین مقدمات جاری ہیں۔ تمل ناڈو کے 178، بہار کے144اور مغربی بنگال کے 139ممبران اسمبلی پر سنگین مقدمات جاری ہیں۔انکے علاوہ آندھرا پردیش ، کیرالا اور تیلنگانہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں کے بھی 100سے زائد ایم پی اور ایم ایل اے پر سنگین مقدمات جاری ہیں۔
سپریم کورٹ کے مرکزی حکومت سے سوال کرنے پر مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں2014سے 2017کے درمیان آئیں تفصیلات پیش کی ہیں جس کے مطابق تقریباً 1765ایم پی اور ایم ایل اے پر مقدمات جاری ہیں۔ ان 1765ممبران اسمبلی پر 3816سنگین مجرمانہ مقدمات جاری ہیں ۔
ان 3816مقدمات میں سے 125کیس سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس ایک سال میں فائنل ہوئے ہیں۔ سابقہ تین سالوں میں 771مقدمات مکمل ہوئے ہیں جس کے بعد 3045مقدمات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
مقدمات کی فہرست میں یوپی میں 539مقدمات زیر سماعت ہیں، کیرالا میں 373، تمل ناڈو، بہار اور مغربی بنگال میں 300سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔
یہ تفصیلات ایک سماجی کارکن اشونی اپادھیائے کی سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواست پر نکل کر آئی ہے جس میں اشونی نے ایسے ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ کو تا حیات الیکشن لڑنے سے پابندی لگا دی جائے جن پر سنگین مقدمات کا جرم ثابت ہوچکا ہے۔ اشونی کی اس درخواست کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے مقدمات کے متعلق تفصیلات مانگی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!