Published From Aurangabad & Buldhana

ملک کی حالت سابقہ چار سالوں میں بد سے بدتر: ارون شوری

حکومت کو دو ڈھائی لوگ ہی چلا رہے ہیں، ایک امیت شاہ دوسرے وزیراعظم مودی اور باقی کام بلاگ چلانے والے وزیر ارون جیٹلیہیں

نئی دہلی: واجپئی حکومت میں سابق میں مرکزی وزیر معاشیات ارو شوری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابقہ 4سالوں میں ملک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ارون شوری دی وائر کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام ’’دیڑھ لوگوں کی سرکار‘‘ میں موجود تھے جہاں انہوں نے حکومت پر یہ حملہ مشہور صحافی کرن تھاپر کے سوال کے جواب میں کیا تھا ۔ واجپئی حکومت میں اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے دور حکومت میں ہم جیسے کم عمر لوگوں کو بھی میٹنگ میں اپنی بات رکھنے اور مخالفت کرنے کا موقع ملتا تھا۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ جس پارٹی میں تھے وہ آج دیڑلوگوں کی حکومت بن چکی ہے۔ پارٹی کے اندرون موجود جمہوری مزاج کی کمی سے متعلق انہوں نے کہا کہ آج وہ بی جے پی باقی نہیں رہی ہے اور آج صرف امیت شاہ اور مودی ہی فیصلے لیتے ہیں اورباقی سب خوفزدہ چوہوں کی طرح بھاگتے ہیں۔ارون شوری نے کہا کہ موجودہ حکومت کو صرف ڈھائی لوگ ہی چلا رہے ہیں ، ایک وزیر اعظم مودی، دوسرے امیت شاہ اور بقیہ کام بلاگ چلانے والے وزیرارون جیٹلی کا ہیں۔

جیٹلی جو کہ موجودہ وزیر معاشیات ہیں نے حال کے وقت میں فیس بک پر رافائل سودہ، نوٹ بندیی و دیگر سرکاری پالیسیوں کا دفاع کیا تھا۔ارون شوری نے کہا کہ یہ شاید انکا نیا مشغلہ ہے جس میں وہ فیس بک پر تفصیل سے لکھتے ہیں اور جسکی وجہ سے انہیں بلاگنگ کے وزیر کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔

جب ارون شوری سے یہ دریافت کیا گیا کہ کیا مودی حکومت میں ہندوستان کے لئے UPA 1اورUPA 2کے مقابلہ میں کچھ اچھا نہیں ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ صحیح موازنہ تب ہوگا جب دونوں NDAاور UPAکے دور اقتدار کی GDPترقی کا موازنہ مناسب فارمولہ پر کیا جائے۔موجودہ حکومت کے دنیا میں GDP کے نمبر سب سے زیادہ ہونے سے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو اعداد وشمار پیش کیے گئے ہیں وہ سال کے پہلے تین ماہ ہی کے ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو سمجھنے کے لئے کسی ماہر کی ضرورت نہیں ہے۔

روپئے کی قیمت میں مستقل گراوٹ سے متعلق انہوں نے وزیر معاشیات پر سوال اٹھایا کہ آخر وہ کیو ں اس معاملے پر اپنی زبان نہیں کھول رہے ہیں۔جیٹلی پرایک اورتنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ایک بلاگ لکھنے والے کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔حالانکہ آج وزیر اعظم نریندرمودی کے بعد زیادہ تر اختیارات جیسے انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ (ED)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) اور دیگر اداروں میں بی جے پی صدر امیت شاہ کی چلتی ہے۔ 2014کے عام انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہر معاملہ وزیر اعظم مودی کے سامنے پیش کیا جاتا تھاجس کے بعد وہ جس کو ضروری سمجھتے وہ امیت شاہ کی جانب بھیج دیتے تھے۔ لیکن آج لوگ اور میڈیا امیت شاہ سے ڈرتے ہیں۔موجودہ حکومت اقتدار کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرسکتی ہے۔
حال ہی میں گرفتار سماجی کارکنان جن پر وزیر اعظم مودی کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے ان سے متعلق ارون شوری نے کہا کہ اگر یہ لوگ انکے قتل کا منصوبہ بنا رہے تھے تو کیا وہ اس سے متعلق خطوط لکھ کر ایک دوسرے کو بھیجتے یا اس کی نقل اپنے پاس رکھتے تھے؟

رافائل سودہ سے متعلق انہوں نے کہا کہ فضائیہ فوج نے 126نئے جیٹ جنگی جہازوں کی خرید کا مشورہ دیا تھا۔جس میں سے 18کو سیدھے اڑانے کے قابل کی کیفیت میں لانا تھاجبکہ باقی کو HALکمپنی اس کی تکنیک استعمال کر ہندوستان میں بنانے والی تھی۔2014میں اسوقت کے وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں رافائل سودہ سے متعلق بتایا تھا کہ 18تیار شدہ جنگی جہاز3-4سال میں ہندوستان کو مل جائیں گے۔جبکہ بقیہ 108جنگی جہاز جنہیں ہندوستان میں بنانا تھا انہیں تیار کرنے کے لئے 7سال لگیں گے۔ لیکن اس سودہ کو موجودہ حکومت نے بدل کر 126سے36 جنگی جہازکیسے کردیا گیا۔
(دی کوئنٹ سے ترجمعہ شدہ)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!