Published From Aurangabad & Buldhana

ملک میں لا قانونیت قطعی برداشت نہیں کریں گے

بابری مسجد پر غیر ذمہ دارانہ بیانا ت پر مولانا سلمان ندوی کو بورڈ سے بے دخل کیا جائے :ممبران کا مطالبہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے 26 ویں اجلاس کا آج جلسہ تحفظ شریعت پر اختتام

خصوصی رپورٹ
ْٓؑ عقیل اختر
حیدرآباد: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا 26 واں اجلاس عام حیدرآباد کے سالار ملتؒ آڈیٹوریم و اسپورٹس سینٹر ‘ اویسی ہاسپٹل کنچن باغ میں صدر بورڈ مولانا رابع حسنی ندوی کے افتتاحی خطبہ سے شروع ہوا۔ پرسنل لاء بورڈ کا یہاں سہ روزہ اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ کل بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں اجلاس عام میں پیش ہونے والے مباحث کو قطعیت دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں گزشتہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کی روداد کی بھی توثیق کردی۔
شرعی حقوق میں دخل اندازی کا اتحاد کے ساتھ مقابلہ کیا جائیگا
آج اپنے افتتاحی خطاب میں مولانا رابع حسنی ندوی نے کہا کہ ملک کا دستور تمام مذاہب کو اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق مذہبی اصولوں اور احکام کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ملی و شریعت کے مقرر کردہ بعض معاملات میں صاحب اقتدار کی مخالفانہ تجاویز و اقدامات سے سابقہ پڑرہا ہے۔ ملی و شرعی حقوق و اختیارات کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے خلاف ملی طاقت و اجتماعی وحدت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بابری مسجد کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدیوں سے یہ مسلمانوں کی مسجد رہی ہے۔ اقتدار پر فائز افراد اپنی پسند سے اس کے موقف کو بدلنا چاہتے ہیں جو کھلی دہشت گردی ہے۔ ایسے حالات میں ملک کا مسلمان اور ان کا نمائندہ ادارہ پرسنل لاء بورڈ ایسی لاقانونیت پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔ ان کوششوں کے خلاف پرامن قانونی کاروائی کرنا بورڈ کی ذمہ داری ہے۔
مسلمان شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دیں
تین طلاق کے حوالہ سے مولانا نے کہا کہ نکاح و طلاق دو افراد یعنی مرد و عورت کے مابین باہمی معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذہبی احکامات کے تحت اس کو مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ اگر مرد و عورت کے درمیان باہمی تعلقات رکھنا مشکل ہو تو شرعی احکامات کے مطابق اس معاہدہ کو ختم کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے مسئلہ پر حکومت مسلمانوں پر پابندی عائد کررہی ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ بھی اولین ترجیح کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ مسلمانوں کو شریعت کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے ان میں بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے اصلاح معاشرہ‘ دارالقضاء‘ تفہیم شریعت‘ دستوری وسائل اختیار کرنے کے شعبے قائم کئے ہیں۔
ہم مجلس کے مشکور ہیں
انہوں نے حیدرآباد میں اس اجلاس کے اہتمام کے لئے او راس کی میزبانی کے لئے مجلس اتحاد المسلمین کے صدر رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بیرسٹر اویسی اور ان کے رفقاء کا بورڈ ممنون ہے۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کی ثقافت کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس شہر میں اسلامی تہذیب کی جھلک اور مسلمانوں کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔مولانا ولی رحمانی نے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے گزشتہ نصف صدی سے پرسنل لاء بورڈ کی خدمات اور کوششوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرست جماعت کا مرکز میں برسر اقتدار آنا سیکولر ازم‘ دستور اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ویدک دھرم‘ برہمنی تہذیب کو فروغ‘ یوگا ‘ سوریہ نمسکار کے علاوہ طلاق ثلاثہ جیسے معاملات کے ذریعہ مسلمانوں کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک میں دن بہ دن عدم رواداری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ اجلاس عام میں کئے گئے فیصلوں کی اس اجلاس میں توثیق کی ہے۔ تین طلاق کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعہ اسلامی شریعت کو ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے میاں بیوی کے ازدواجی رشتوں کی جامع توضیح کی ہے۔ انہوں نے طلاق کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنے عوامی بیداری کے لئے پرسنل لاء بورڈ کی کوششوں کا تذکرہ کیا۔
بیک وقت تین طلاق دینے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے
اپنے خطاب میں مولانا نے مسلمانوں پر زور دیا کہ بیک وقت تین طلاق دینے والے کا سماجی بائیکاٹ کرے تاکہ ایسے واقعات میں کمی واقع ہو۔ تین طلاق پر پابندی سے متعلق حکومت کی کوششوں کے خلاف لاء کمیشن سے کی گئی سفارشات کا بھی انہوں نے حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق بل کے خلاف 4,38,47,596 دستخطیں لاء کمیشن کو پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے طلاق کے حق کو برقرار رکھا اور تین طلاق کے بارے میں اپنی رائے دی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے علیحدہ کمیٹی قائم کی گئی۔ اس بل کے نقائص سے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو واقف بھی کرایا گیا۔ پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے اصلاح معاشرہ کمیٹی ‘ تفہیم شریعت کمیٹی‘ قانونی کمیٹی‘ دارالقضاء کمیٹی‘ آثار قدیمہ کمیٹی‘ ویمنس ونگ‘ بابری مسجد کمیٹی‘ سوشل میڈیا ڈسک کی کارکردگی کا بھی انہوں نے جائزہ لیا۔ اس اجلاس عام میں اپنے مرحوم اراکین کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ ان میں قابل ذکر ڈاکٹر قمر الاسلام (گلبرگہ)‘ مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی‘ جناب سلطان احمد ایم پی‘ محمد عبدالقدیر سینئر ایڈوکیٹ (الٰہ آباد) قابل ذکر ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کے آخری دن اتوار 11فروری کو حیدرآباد میں اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اس دن شام 6 بجے پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے دارالسلام میں ایک عظیم الشان جلسہ تحفظ شریعت منعقد ہوگا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!