Published From Aurangabad & Buldhana

ملک میں تجارتی ماحول تکلیف دہ بیرون ملک سرمایہ کاروں نے امسال واپس لیے 460ارب روپئے

نئی دہلی: تیل کی بڑھتی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے روپئے کے گرنے کی وجہ سے اب بیرون ملک کے سرمایہ کاروں نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کرنا شروع کردیے ہیں۔ بیرون ملک کے سرمایہ سے صرف ستمبر کے مہینے میں تقریباً 56ارب روپئے واپس نکال لیے گئے ہیں۔ اس سے قبل اگست کے ماہ میں بھی سرمایہ کاروں نے 23ارب روپئے نکال لیے تھے۔ اس طرح امسال کل ملا کر بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے 460ارب روپئے واپس نکال لیے ہیں۔حالات کے زیادہ خراب ہوتے صرف 3تا7ستمبر کے درمیان ہی ملک کی معیشت سے 56.49ارب روپئے نکالے جا چکے ہیں۔

واضح ہوکہ ہندوستان میں بین الاقوامی سرمایہ دو طرح سے آتا ہے۔ ایک فارئن ڈائریکٹ انویسٹ منٹ (FDI) سے جسمیں سرمایہ کار لمبے وقت کے لئے سرمایہ کرتے ہیں۔ دوسرا طریقہ فارئن پورٹ فولیو انویسٹ منٹ (FPI) ۔ اس کے ذریعہ شئیر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ جب ملک میں معاشی حالات خراب ہونے لگتے ہیں تو FPIوالے اپنا پیسہ جلد واپس نکال لیتے ہیں۔ اور اگر موجودہ ہندوستانی معیشت کو دیکھیں تو FPIکا پیسہ بہت تیزی سے واپس جارہا ہے

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!