Published From Aurangabad & Buldhana

مقبوضہ بیت المقدس ‘‘برائے فروخت ’’ نہیں

امریکی دھمکی پر محمود عباس کا سخت ردعمل ، صیہونی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو پھانسی کی قرارداد منظور

مقبوضہ بیت المقدس :ٹرمپ کے بیان پر فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور القدس’’ برائے فروخت’’ نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے فلسطین کی امداد بند کیے جانے کی دھمکی پرفلسطینی صدرمحمود عباس کی جانب سے جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ القدس فلسطین کادائمی دارالحکومت ہے اوریہ سونے اور اربوں ڈالر کے عوض فروخت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہے۔محمود عباس کے ترجمان نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قانون اورقراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت القدس ہو ہم اس مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں فلسطینی حکام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا اگر فلسطین مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تو ہم فلسطین کی۳۰۰ ملین ڈالر کی امداد بند کردیں گے۔واضح رہے کہ اگرامریکا کی جانب سے فلسطین کی مالی امداد منقطع کردی گئی تو اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے جن کے نتیجے میں فلسطین، اردن، لبنان اور شام میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں لاکھوں افراد براہ راست متاثر ہوں گے جبکہ حقیقی المیہ محاصرہ زدہ علاقے یعنی غزہ کی پٹی میں ہوگا جہاں کی صورتحال پہلے ہی بہت بری ہے۔ادھر اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو پھانسی کی سزا دینے سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کو منظور کر لیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے سرکاری ویب سائٹ پر جاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو پھانسی کی سزا سے متعلق پیش کی گئی قرار داد کو پہلی رائے دہی کے دوران۴۹ کے مقابلے میں۵۲ ووٹوں سے قبول کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو نے کہاہے کہ پھانسی کی سزا سنگین صورتحال میں انصاف کے معنی رکھتی ہے۔انھوں نے دریائے اردن کے مغربی علاقے میں ماہ جولائی میں ایک یہودی بستی پر تین یہودیوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملے کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا کہ میں نے زندگی میں انتہائی دھچکہ خیز مناظر دیکھے ہیں لیکن اس واقعے سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے انسان خوفناک جرائم کا مرتکب ہوتے ہیں اور انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پھانسی کے قانون کو ایسے حالات کے لیے منظور کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل کی سول عدالتوں میں پھانسی کا قانون موجود نہیں ہے۔ فوجی عدالتوں میں سنگین ترین حالات میں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں صرف ایک بار۱۹۶۲ء میں ایک سابق نازی مجرم کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!