Published From Aurangabad & Buldhana

معمولی بات کو لے کر اور نگ آبا دمیں فساد‘ پولس کی فائرنگ میں نوجوان شہید

یکطرفہ کارروائی سے مسلمانوں میں بے چینی ‘موتی کارنجہ میں شروع ہوئی گڑ بڑھ سے پورا شہر جل اٹھا ،فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کی دکانوں کو لگائی آگ

اورنگ آباد: (رپورٹر)گاندھی نگر موتی کارنجہ میں واقع ایک کولر کی دکان پر والمک سماج کے کچھ شرپسندوں کی شرارت کے بعد وہاں موجود مسلمانوں اور ان شرپسندوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔اس واقع کوبنیاد بناکر اور مصوبہ بند طریقے سے موتی کارنجہ پر گاندھی نگر اور دھاؤ نی محلہ (کرانہ چوڑی) دونوں طرف سے ایک ساتھ حملہ کیا گیا۔اس دوران فرقہ پرستوں نے وہاں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے علاوہ موتی کارنجہ کے ساکن آصف خان اور ان کے رشتہ داروں کے مکانات کو پوری طرح گھیر لیا۔اور وہاں آگ لگانے کی کوشش کی۔لیکن مونڈھا ‘انگوری با غ اور موتی کارنجہ کے نوجوانوں کی کوشش کی بعد شر پسند وہاں سے فرار ہوگئے۔اس دوران پولس بھی وہاںآپہنچی اور آنسوؤں گیس کے گولے داغے جس سے حالات ایک گھنٹے تک قابو میں رہے۔ لیکن تین روز ہوئے قبل شاہ گنج کی دکانوں کو ہٹانے کیلئے پر تشدد احتجاج کرنے والے شر پسندوں نے چپلوں کی دکانوں کو آگ لگانا شروع کر دیا۔ اس سے شہر کے مختلف علاقوں میں دکانوں کو آگ لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور فرقہ پرستوں کے گروہ گروہ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے متحرک نظر آئے اسی دوران پولس نے حالات قابو کرنے کیلئے صرف ایک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کونشانہ بنایا۔ایشیا ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کا رپوریٹر عبد العظیم نے بتایا کہ نواب پورہ کا ایک نوجوان لڑکا(نام معلوم نہیں ہو سکا) پولس کی فائرنگ میں شہید ہوگیا۔جس کے بعداس نوجوان کو ایم جی ایم اسپتال میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد اسے مردہ قراردیا۔ اس کے علاوہ ایک اور بزرگ شخص کو پیٹ میں گولی لگنے کی بھی خبرملی ہے۔ دیر رات گئے عبد العظیم ،فیروز خان ، عبد الغفار قادری اور دیگر سیا سی وسماجی رہنماؤں نے اعلیٰ افسران سے ملاقات کرکے حالات کو قابومیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن شرپسندوں کے حوصلے دیر رات تک بلند نظر آئے اور جابجا مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے رہے ۔سوشل میڈیا کے ذریعہ خبریں تیزی سے وائرل ہونے سے پورے شہرمیں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ روز نامہ ایشیا ایکسپریس کے نمائندے نے پولس کی یکطرفہ کارروائی پر پولس کمشنر سے نمائندگی کرتے ہوئے کہاکہ تمام شرپسندوں پر یکسا ں کارروائی ہونے چاہئے۔واضح رہے کہ شر پسندوں کے حملوں میں کم و بیش ۸؍افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جن میں ۳؍خواتین بھی ہیں۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ اپنی حفاظت کیلئے خوفزدہ کچھ مسلم افرادِخاندان معین شاہ مسجد میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ پولس نے اُنہیں منتشر کرنے کیلئے وہاں بھی آنسو گیس کے گولے داغ دےئے۔ اشرار نے پولس گاڑیو ں کو بھی نشانہ بنایا جس میں دو خواتین پولس کانسٹبل زخمی ہوئیں۔ افواہوں کا بازار گرم رہا جس کے باعث گاندھی نگر، موتی کارنجہ، انگوری باغ، دھاؤنی محلہ سے بھی اشرار مسلح ہوکر نکلے۔ حالات کا جائزہ لینے آئے سیکولر ذہنیت کے لوگوں پر بھی اشرار نے حملہ کیا۔ مشاہدہ میں یہ بات آئی ہے کہ پولس کی یکطرفہ کارروائی کے باعث اشرار کے حوصلہ بلند دکھائی دےئے اور وہ بے خوف ہوکر راستے سے گزرنے والے و مسلم گھروں پر حملہ کررہے تھے۔ موقع پر موجود بعض افراد نے بتایا کہ اس جانب لوگوں نے پولس کی توجہہ مبذول بھی کروائی مگر وہ تماش بین بنے رہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں شاہ گنج علاقہ کے چپل جوتے و ہاتھ گاڑی والوں کو غیرقانونی قبضہ جات کی بنیاد پر نشانہ بناکر شہر کے پُرامن ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مسلمانوں نے صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو ناکام کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کے ذریعہ راحت حاصل کی جو فرقہ پرستوں کو کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی اور وہ کسی بہانہ سے مسلمانوں کو اپنے عتاب کا شکار بنانے کی تلاش میں تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج گاندھی نگر کے والمک سماج کے اشرار نے منظم طریقے سے مسلح ہو کر مسلمانوں پر حملہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جس جگہ حملہ کیا گیا ہے وہاں مسلمانوں کے 8سے 10گھر ہیں۔ آگ گاندھی نگر، موتی کارنجہ، انگوری باغ اور دھاؤنی محلہ سے ہوتے ہوئے رات دیر گئے شاہ گنج تک پھیلی شاہ گنج میں بھی اشرار نے ہنگامہ کرتے ہوئے چمن کے قریب جوتے چپلوں کی دکانوں کو نذر آتش کر دیا‘قریب کھڑی کاروں کو بھی آگ لگا دی ،آگ بجھانے آئے پانی کے ٹینکر پر اشرار نے پتھراؤ کیا۔رات ۳؍ بجے تک بھی وہاں پر حالات قابو نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع نے بتایا کہ گلمنڈی ‘دیوان دیوڑ ھی واطراف کے محلوں میں بھی لوگ جمع ہونے کی اطلاع ہے۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر لپٹے میں آنے کا اندیشہ ہے۔دانشوروں کاکہناہے کہ لچھوپہلوان پر قبل از وقت کارروائی کی جاتی تو شہر کا پر امن ماحول مکدر نہیں ہوتا سنگین مسئلہ پر انتظامیہ نے تساہل سے کام لیا۔شہر کے حالات مزیدابتر ہوتے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ؟یہ سوال بھی عوام کے ذہن میں ابھر رہاہے۔پولس محکمہ کوباریک بینی سے ہر پہلوں کی جانچ کرنی چاہئے تاکہ پر امن شہریان کوکسی بڑی مصیبت میں مبتلا نہ ہوناپڑے۔ تادمِ تحریر کسی کی گرفتاری یا قانونی چارہ جوئی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں اور مشتعل نہ ہو اور پولس وانتظامیہ سے تعاون کریں تاکہ اشرار کو شہر کے حالات بگاڑ نے کاکوئی موقع نہ مل پائے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!