Published From Aurangabad & Buldhana

مصر کے سابق و پہلے جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی سپرد خاک

مصر کے معزول صدر محمد مرسی(67) کو آج منگل کوسپرد خاک کر دیا گیا۔ جنازے کی نماز طرہ جیل کی مسجد میں ادا کرنے کے بعد مرحوم کے جسد خاکی کو علی الصبح مغربی قاہرہ میں دفن کر دیا گیا۔ آخری رسومات میں سابق صدر کے اہل خانہ شریک تھے۔ یہ اطلاع مرحوم کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے کے حوالے سے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ معزولی کے بعد قید کی سزا کاٹنے والے مرسی کل کمرہ عدالت میں اچانک بے ہوش ہوگئے تھے۔ انہیں فوراً اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکے۔
مرسی کے بیٹے عبداللہ نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ان کے والد کو اخوان المسلمین کے دو رہنماؤں کے ہمراہ مغربی قاہرہ کے ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔ مرسی کے بیٹے نے مزید لکھا کہ سیکورٹی حکام نے ان کے والد کو ان کے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔

عبداللہ نے ٹوئٹ میں مزید لکھا، ’’ہم نے اپنے والد کو تورا جیل کے اسپتال میں غسل دیا اور اسپتال کی مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد انہیں نصر شہر کے قبرستان میں اخوان المسلمین کے دو رہنماؤں کی قبروں کے برابر سپرد خاک کر دیا گیا۔‘‘
مرسی 2012ء میں جمہوری طور سے منتخب ہونے والے پہلے صدر تھے لیکن اگلے سال ہی فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔
پیر کو عدالت میں وہ اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت میں پیش ہوئے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت کے دوران ریاست کی خفیہ معلومات قطر کو پہنچائی تھیں۔ مرسی کی ہلاکت کے بعد وزارت داخلہ نے ملک بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔
اخوان المسلمین کا قیام 1928ء میں عمل میں آیا تھا۔ 2011ء میں اخران المسلمین پہلی مرتبہ فریڈم اینڈ جسٹس کے نام سے بطور سیاسی جماعت اُبھری تھی اور اس کے سربراہ محمد مرسی تھے۔ مرسی 2012 کے انتخابات میں چند نشستوں کی برتری سے اقتدار میں آئے تھے۔ اس طرح وہ مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔
اقتدار میں آنے کے بعد مرسی نے ایک ایسی حکومت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو مصر کے تمام شہریوں کے لئے کام کرے گی۔ لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ایک سالہ ہنگامہ خیز دور اقتدار میں عام لوگوں کی بھلائی میں ناکام ثابت ہوئے۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے ملک کی سیاست میں اسلام پسندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور اقتدار اخوان المسلمین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جا رہا تھا۔ اس طرح لوگوں نے جب حقوق اور معاشرتی انصاف کے حق میں جلوس نکالنا شروع کر دیا اور خونریزی کے ایک سے زیادہ واقعات سامنے آنے لگے تو 2013 میں ملکی فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!