Published From Aurangabad & Buldhana

مصر میں ظلم کا سلسلہ جاری، پرتشدد دھرنا کے الزام میں اخوان کے رہنما محمد بدیع سمیت 75 ملزمان کو سزائے موت

مصر میں 2013 میں پہلی جمہوری طریقہ سے چن کر آئی اخوان المسلمین حکومت کی حمایت میں ہونے والے دھرنے کے معاملے میں اہم اسلامی لیڈروں سمیت 75 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس دھرنے کے دوران سلامتی دستہ کے ساتھ جھڑپ میں سینکڑوں مظاہرین کی موت ہوئی تھی۔

انعام یافتہ فوٹوجرنلسٹ محمود ابوزید

عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اخوان المسلمون کے رہنما محمد بدیع سمیت 75 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 47لوگوں کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ان تمام کو تشدد بھڑکانے، قتل اور غیر قانونی مظاہرے کرنے سمیت سکیورٹی سے متعلق جرائم کے الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوراہے پر منعقد کیا گیاتھا جس کی وجہ سے اسے رابعہ قتل عام کے نام سے بھی جانا جانے لگا۔ اس معاملے میں 700 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مستقل تنقید کی جاتی رہی ہے۔ سزائے موت پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سینئر لیڈر عصام العریان اور محمد البلتاجی اور سلامی مبلغ صفوت حجازی وغیر شامل ہیں۔ انکے علاوہ مصر کے مشہور فوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید کو بھی 5سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضح ر ہے کہ دہائیوں تک حکمرانوں کے تحت جاری عرب دنیا میں جب عوامی انقلاب آیا تھا جسے بہار عرب کے عنوان سے بھی جانا جاتا ہے اس کے بعد جمہوری طریقہ پر ملک میں انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اس انتخاب میں اخوان کی مکمل خدمات کو دیکھتے ہوئے عوام نے اخوانی نمائندے ڈاکٹر محمد مرسی کو مصر کا پہلا جمہوری صدر چنا تھا لیکن ذمہ داری سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد ہی فوج کی جانب سے بغاوت کر مرسی کا تختہ پلٹ کر السیسی ملک کے سربراہ بن بیٹھے تھے۔

2013 میں مصر کے فوجی سربراہ عبد الفتاح السیسی کی طرف سے مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کا تختہ پلٹ کئے جانے کے بعد لاکھوں افراد کی جانب سے تحریر اسکوئر پر احتجاجی مظاہرہ شروع کیا گیا تھا۔ اس احتجاج کو ختم کرنے السیسی کی جانب سے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جس میں بہت سے لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس میں 800 سے زائد مظاہرین کی موت ہو گئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ بہت سے مظاہرین مسلح تھے اور انہوں نے 43 پولس اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا۔

جبکہ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مصری سیکیوریٹی افواج کے طاقت کے مظاہرہ میں کم از کم 817افراد کی جان چلی گئی تھی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!