Published From Aurangabad & Buldhana

مشکل میں پھنسے مارک زکربرگ، چرایا اپنے صارفین کا ڈیٹا

نئی دہلی۔ ڈیٹا کی چوری کے معاملے میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ان دنوں چوطرفہ گھرا ہوا ہے۔ فیس بک پر الزام ہے کہ کروڑوں صارفین کا ڈیٹا کمپنی نے تھرڈ پارٹی کو اپنے ذاتی فائدہ کے لئے بیچا ہے۔ اس معاملے میں فیس بک کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔ فیس بک کے شئیر تقریبا سات فیصدی ٹوٹ گئے ہیں۔ اس بیچ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ کے ساتھ ڈیلیٹ فیس بک ٹرینڈ کر رہا ہے۔ وہیں، اس معاملہ میں کیمبرج انالیٹکا ( Cambridge Analytica) کے سی ای او الیگزینڈر نکس کو معطل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں کمپنی کی مارکیٹ کی قیمت میں تقریبا 35 ارب ڈالر تک کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ فیس بک نے پہلے بھی یہ بتایا تھا کہ 2016 میں امریکہ میں صدارتی الیکشن سے قبل اس کے پلیٹ فارم کی تشہیر کرنے والے روس کے لوگوں نے کیسے اس کا استعمال کیا۔ حالانکہ، اس سے پہلے مارک زکربرگ کبھی براہ راست طور پر سوالات کی زد میں نہیں آئے تھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مہم میں مدد کرنے والی پالیٹیکل ڈیٹا فرم کیمبرج انالیٹیکا کے سی ای او الیگزینڈر نکس کو کمپنی کے بورڈ نے معطل کر دیا ہے۔ کمیبرج انالیٹیکا پر الزام ہے کہ اس نے پانچ سو کروڑ سے زائد فیس بک صارفین کی نجی معلومات تک پہنچ بنائی اور انتخابی مہم میں اس کا استعمال کیا۔ ایک ٹیلی ویژن چینل نے نکس کی ایک رپورٹ دکھائی ہے اس میں نکس یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے لیڈروں کو جال میں پھنسانے اور غیر ملکی انتخابات پر اثر ڈالنے کے لئے خوبصورت خواتین اور رشوت کا استعمال کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!