Published From Aurangabad & Buldhana

مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں امریکی ثالثی نامنظور

پوتن ۔ محمود عباس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ تنازعہ پر تبادل�ۂ خیال

ماسکو :ایک معروف برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے روسی صدر ولادیمر پوتین کو آگاہ کر دیا ہے کہ مشرق وسطی میں امن عمل کے لیے اکیلے واشنگٹن کا وساطت کار یا ثالثی ہونا ممکن نہیں۔دونوں سربراہان کی ملاقات کے آغاز پر پوتین نے بتایا کہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلفیون پر بات چیت کی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے باین کے مطابق ٹرمپ نے پوتین سے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دائمی امن کے معاہدے کے لیے کام کیا جائے۔عباس اور پوتین کی ملاقات میں فلسطینی اسرائیلی تنازع کا تصفیہ ڈھونڈ نکالنے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی۔ فلسطینی نقطہ نظر کے مطابق چار فریقی بین الاقوامی وساطت کار کمیٹی کی توسیع ناگزیر ہے تا کہ نہ صرف امریکی اجارہ داری کو توڑا جا سکے بلکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان پر امن مذاکرات کو متحرک کرنے کے لیے تمام تر کوششوں سے مستفید ہوا جا سکے۔اس سے قبل فلسطینی صدر کے مشیر نبیل شعث یہ اعلان کر چکے ہیں کہ راملہ فلسطینی اسرائیلی تنازع کے پر امن تصفیے کے لیے ماسکو میں ایک وسیع بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے خیال کا خیر مقدم کرتا ہے۔ شعث کے مطابق فلسطینی اور روسی سربراہان نے اسرائیل کے ساتھ تصفیے کے عمل کے متعدد فارمولے وضع کرنے کے امکان پر اور مشرق وسطی میں امن عمل کے لیے امریکی اجارہ داری کے دیگر متبادل آپشنز پر غور کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے روس کے دورے کے دو ہفتے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کل پیر کے روز ماسکو پہنچے تھے۔ ان کے اس دورے کا مقصد بیت المقدس کے معاملے میں روسی صدر ولادیمر پوتین کی حمایت حاصل کرنا ہے جس کو امریکا اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکا ہے۔دوسری جانب روس میں سیاسی حلقوں کے نزدیک فسلطینی اسرائیلی بحران کے حوالے سے حالیہ پیش رفت اس معاملے میں روس کا کردار اور رسوخ بڑھانے کی راہ وسیع کرے گی۔ روسی پارلیمنٹ یہ اعلان کر چکی ہے کہ فلسطینی اسرائیلی تنازع کے تصفیے میں امریکی تعاون کے ساتھ روس کا اپنا کردار ادا کرنا، تنازع کے فریقین کے بیچ پر امن مذاکرات کے آغاز کے لیے مثبت اور اہم ثابت ہو گا۔یاد رہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا ملک چار فریقی بین الاقوامی ثالثی کمیٹی کا ایک فوری اجلاس منعقد کرنے کے لیے کام کرے گا تا کہ بیت المقدس سے متعلق حالیہ پیش رفت اور امریکی فیصلے کے فلسطینی اسرائیلی تنازع کے تصفیے پر دور رس اثرات کو زیر بحث لایا جائے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!