Published From Aurangabad & Buldhana

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبران کو لڑانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال

ارکان سے گفتگو ریکارڈ کر کے ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی مذموم کوشش، تدبر و تحمل کے مظاہرہ کی ضرورت غیراخلاقی حرکت

قاسم سیّد

مولانا سلمان ندوی کے معاملہ نے ملّی سیاست میں طوفان بپا کردیا ہے۔ ایک طرف مولانا سلمان ندوی کو ہر قسم کی صلواتیں سنائی جارہی ہیں اور ہر طرح کے غیرمہذب الفاظ سے حملہ کیا جارہا ہے۔ وہیں مولانا سلمان ندوی کے عقیدتمندوں اور خیرخواہوں کی جانب سے بورڈ کے فیصلہ کو بہانہ بنا کر اسے مطعون کیا جارہا ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ذاتی طور پر کی گئی فونک باتوں کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالا جارہا ہے۔ جہاں یہ صریح بددیانتی اور رازداری کے خلاف ہے وہیں اس کا سوشل میڈیا پر استعمال غیراخلاقی حرکت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس معاملہ میں کسی کو بھی نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ کئی بزرگ ہستیوں سے کی گئی گفتگو بھی اس کی زِنیت بن رہی ہے۔ ایسے موقع پر جب سرکار اور آر ایس ایس کی طرف سے مسلمانوں کی صفوں میں پائی جانے والی کمزوریوں پر کلہاڑا چلایا جارہا ہے۔ ہمارے بعض خیرخواہوں کے رویہ نے اس مثال کو دُرست ثابت کرنے یک زحمت اُٹھائی ہے کہ آپ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اس پر آرا چلارہے ہیں، حالانکہ نازُک اور آزمائش کن حالات میں زیادہ تدبر، تحمل زیادہ صبر و ضبط کے مظاہرہ کی ضرورت تھی۔ موجودہ صورتِ حال سے تشویش میں مبتلا لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سے گفتگو کے وقت یہ اِجازت لی جائے کہ وہ اس کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالنا چاہتا ہے تو کوئی برائی نہیں، لیکن اسے اندھیرے میں رکھ کر گفتگو کو ریکارڈ کرنا اور بغیر اِجازت لئے سوشل میڈیا کے حوالہ کردینا اخلاقی گراوٹ کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت ہر قسم کی نچلی سطح کے پائیدان پر آگئی ہے۔ مولانا سلمان ندوی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے درمیان تنازعہ کچھ لوگوں کیلئے تفریح کا سامان بن گیا ہے اور یہ فتنہ میں تبدیل کیا جارہا ہے، جس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ جو لوگ کام کررہے ہیں وہ اپنی نیت اور ارادوں میں مخلص ہوں اور ان کا ارادہ آگ میں گھی ڈالنے کا نہ ہو۔ شک کا فائدہ اُنہیں ملنا چاہئے لیکن ان کے عمل سے اختلاف و انتشار کی آگ کس کس سمت میں پھیلے گی اس کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا۔ اس وقت وہاٹس اَپ اور فیس بُک وغیرہ پر اس طرح کے آڈیو گردِش کررہے ہیں، جو لڑائی گفتگو پر مبنی لگتے ہیں۔ اب یہ دُشمن نما دوست ہیں یا دوست نما دُشمن کہنا مشکل ہے، مگر اس خطرناک رُجحان پر روک نہ لگائی گئی تو یہ ملت کی جڑوں میں تیزاب کی طرح کام کرے گا اور ملت جو پہلے ہی مختلف قسم کی آزمائشوں میں مبتلا ہے اس رویہ کو ڈھو نہیں سکے گی۔ ہمارے سربرآوردہ رہنماؤں کو اس پر سخت گرفت کرنی چاہئے کیونکہ یہ معصوم لوگ جو کسی وجہ سے استعمال ہورہے ہیں یا کئے جارہے ہیں، کل ان کیلئے بھی وبالِ جان بن سکتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا دودھاری تلوار ہے اندیشہ ہے کہ آنے والے دِنوں میں یہ دائرہ اور پھیلے گا اور ان لوگوں کی موج آجائے گی جو سوشل میڈیا کو کیچڑ اُچھالنے اور ذہنی عیّاشی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ کیچڑ اُچھالنے اور اسے پھیلانے کا یہ مشغلہ ذہنی تلذذ تو فراہم کرسکتا ہے لیکن اس سے اُمت کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا۔ اختلاف دائرہ کے اندر ہونا چاہئے اس کے کچھ اخلاقی تقاضے ہیں۔ میڈیا کا کام ہے کہ وہ اندر کی خبروں کو باہر لائے الزام اور انکشافاتی حقائق میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا اس دور کی بہت بڑی طاقت ہے مگر یہ کردارکشی کا ذریعہ بن جائے تو ہلاکت خیز ہے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ کیا کوئی کرارہا ہے؟ یا صرف ایک بھیڑ چال ہے؟ یہ بھی جلد سامنے آجائے گا اور یہ کام بھی سوشل میڈیا ہی کرے گا جب تک بہت دیر ہوجائے گی اور نہ جانے اس سیلابِ بلاخیز میں کیا کے بہہ جائے، اس لئے اربابِ حل و عقد کو اس پر باندھ لگانے کی ضرورت ہے اور نوجوان نسل کو صبر و تحمل اور علم سے کام لینے کی تلقین، تعاون علی البر و التقویٰ کے ساتھ موجودہ حالات کی نزاکتوں، پردے کے پیچھے آنے والے طوفان اور ملک کو درپیش سنگین مسائل سے آگاہ کرانے کی ترجیحی بنیاد پر ضرورت کو محسوس کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہمارے معززّین نے نوجوانوں کے سامنے مستقبل کا کوئی روڈمیپ نہیں رکھا، ان کے سامنے کوئی ایسا ہدف نہیں رکھا جس پر مشترکہ انداز میں مل کر کام کیا جائے۔ یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ مودی بھکتوں کی طرح ہمارے یہاں بھی مختلف قسم کے بھکتوں کی فوج تیار ہوگئی ہے جو سوشل میڈیا پر ہر وقت لڑنے، مسالک کی بنیاد پر ایک دوسرے پر تنقید کرنے میں اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا، یہ المیہ ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!