Published From Aurangabad & Buldhana

مسلم خواتین کو بھی شریعت کے تحفظ کیلئے اپنا لائحہ عمل تیارکرناہوگا

دھولیہ میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کاکامیاب جلسہ،پردہ نشین مسلم خواتین کا جم غفیر ، حکومت سے طلاق ثلاثہ بل واپس لینے کا مطالبہ

دھولیہ :(نامہ نگار)آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ شہر کے علماء کرام اور جمعیۃ علماء ہندکے علاوہ متعدد ملی ،سماجی اور سیاسی تنظیموں کے اشتراک سے اقبال روڈ سے متصل کا رپوریشن اردو اسکول کے وسیع وعریض میدان پر طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت میں خواتین کا احتجاجی جلسہ منعقد کیاگیا۔شہر کے علاقے سے مسلم خواتین کا کا رواں جلسہ گاہ کی طرف ہی جاتا ہوا نظر آیا۔ نقاب پوش خواتین جوق در جوق خاموش ریلی کی شکل میں اسکول کے میدان میں پہنچیں۔ منعقدہ احتجاجی جلسے کی صدارت خواتین کے حقوق کیلئے پر عزم معمرسماجی کارکن سبیلہ آپا نے انجام دی۔ اس موقع پرمعروف سماجی کارکن ڈاکٹر عرشین مجاور نے کہاکہ آج کے حالات میں ہمیں اس احتجاجی جلسہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ یہ قابل غور بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین کے حقوق کا جھانسہ دے کر موجودہ حکومت شریعت میں مداخلت کر رہی ہے۔ اور نگ آباد سے آئی ہوئی سماجی خدمت گار شگفتہ سبحانی نے طلاق ثلاثہ ،مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم ویمن پروٹیکشن ایکٹ ۲۰۱۸؍ کے موضوع پر خطاب کیا۔ موصوفہ نے ہر ایک موضوع پر مفصل طریقے سے روشنی ڈالی اور خواتین کو تفصیلی معلومات فراہم کی۔انہوں نے کہا طلاق ثلاثہ بل خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کرتا بلکہ انہیں مشکل میں ڈالتاہے۔ یہ بل محض حکومت نے اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کیلئے منظور کیا ہے۔ معلمہ سمیہ پروین نے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں اس عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم شریعت مطہرہ کا تحفظ اس پرعمل کرکے ہی کر سکتے ہیں۔اگر ہم نے فوراً اسلامی اصولوں کو نہیں اپنا یا تو حکومت یوں ہی ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ اور نگ آباد سے آئی ہوئی سماجی خدمت گار شبانہ عینی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے شرعی معاملات میں مداخلت کرنا بند کرے۔ اگر مسلم خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کی تعلیم کاانتظام کریں۔صدارتی خطبہ میں سبیلہ آپا نے کہاکہ اس احتجاجی جلسے کے بعد مسلم خواتین کو اپنا لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔ آج کے حالات میں اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں بچوں کی تعلیم وتربیت کی فکر کرنی چاہئے۔ یہی ایک طریقہ شریعت کے تحفظ کاہے۔اس کے بعد ،ڈاکٹر س،وکلاء، ملی ،سماجی اداروں کی بااثر خواتین کا وفد سید محمد مفتی قاسم جیلانی کی قیادت میں ضلع کلکٹر کے دفتر پہنچاجہاں ڈپٹی کلکٹر اروند انتولکر کو طلاق ثلاثہ بل واپس لینے سے متعلق ایک میمورنڈم دیا گیا۔ یہ میمورنڈم ضلع انتظامیہ کی معرفت صدر جمہوریہ ہند اور وزیراعظم کو روانہ کیا جائے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!