Published From Aurangabad & Buldhana

مسلم تنظیموں کی حکومت سے درخواست، رمضان المبارک میں مسجدوں کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ رکہیں

یو این آئی

ممبئی کے عمائدین شہر، علما کرام اور اکابرین کے نمائندہ وفد نے منگل کے روز مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے سے رمضان المبارک میں مسجدوں کو لاک ڈاؤن سے مستثنی رکھنے کا مطالبہ کیا۔

اس وفد کی قیادت نامور عالم دین مولانا خالد اشرف، مولانا اطہر علی، مولانا اعجاز کشمیری، عبدالحسیب بھاٹکر اورممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ نے قائد اور سماجوادی پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ کے ہمراہ وزیر صحت سے ملاقات کی اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

نمائندہ وفد نے وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ رمضان میں اگر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو یہ مسلمانوں کی ناراضگی کا باعث ہوگا، کیونکہ سال بھر مسلمان ماہ صیام کا انتظار کرتے ہیں اس لئے رمضان میں ضوابط صحت و سلامتی کے شرائط کے ساتھ مساجد میں عبادت کی اجازت دی جائے اور مسجدوں کو لاک ڈاؤن سے مستثنی قرار دیا جائے یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ وفد نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے علاوہ نائٹ کرفیو بھی تراویح کی نماز کے لئے مشکل پیدا کرتا ہے اس لئے اس کے اوقات میں تبدیلی کی جائے اور کرفیو رات 8 بجے کے بجائے رات 10 بجے نافذ کیا جائے۔ وفد نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں خوانچہ فروشوں اور پھیری والوں کو پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

وفد نے مزید کہا کہ اگر یہ غریب اپنا کام بند کر دیں گے تو روزانہ کیا کھائیں گے جبکہ سرکار نے ان طبقات اور غریبوں کے لئے کوئی راحتی پیکیج نہیں دے رہی۔ وفد نے کہا کہ لوگ بھکمری کا شکار ہو رہے ہیں لوگوں میں لاک ڈاؤن کے تئیں غصہ ہے۔ اس پر وزیر صحت راجیش ٹوپے وفد کو مثبت اقدامات کی یقین دہائی کرائی اور کہا کہ وہ تمام تجاویز وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے گوش گزار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفد کے مطالبات کی جانب وہ وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرائیں گے، تاکہ کوئی مثبت نتیجہ نکل سکے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!